اے آئی ماڈل’’کلاڈ‘‘ سے حیاتیاتی ہتھیار تیار کر نے کی کو ششیں

 اے آئی ماڈل’’کلاڈ‘‘ سے حیاتیاتی ہتھیار تیار کر نے کی کو ششیں

چکن گنیا وائرس ، برڈ فلو ، چیچک ، ایم پاکس اور دیگر وائرسوں سے متعلق تحقیق میں مدد طلب یمنی حوثیوں نے میزائل تیاری میں کلا ڈ کو استعمال کیا ، پتہ چلتے ہی اکاؤنٹس بند : اینتھروپک

سان فرانسسکو (اے پی، اے ایف پی) مصنوعی ذہانت کی امریکی کمپنی اینتھروپک نے کہا ہے کہ اس نے اپنے اے آئی ماڈل ‘کلاڈ’ کو حیاتیاتی ہتھیاروں کی  تیاری سمیت خطرناک سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی متعدد کوششیں ناکام بنا دی ہیں۔کمپنی کی تازہ رپورٹ کے مطابق اسے ایسے 5 واقعات کا پتا چلا جن میں سائنس دانوں نے ‘کلاڈ’ کو ایسی حیاتیاتی تحقیق میں استعمال کرنے کی کوشش کی جو ممکنہ طور پر حیاتیاتی ہتھیار بنانے میں مدد دے سکتی تھی۔ اینتھروپک نے ان کوششوں کو روک دیا اور متعلقہ اکاؤنٹس پر پابندی عائد کردی۔ ایک محقق نے ‘کلاڈ’ سے چکن گنیا وائرس پر ایسی تحقیق کے لیے مدد مانگی جس کا مقصد وائرس کو انسانوں میں زیادہ آسانی سے پھیلنے اور انسانی مدافعتی نظام سے بچ نکلنے کے قابل بنانا تھا۔ ایک دوسرے معاملے میں اے آئی سے برڈ فلو وائرس کی ایسی قسم سے متعلق تحقیق میں مدد لینے کی کوشش کی گئی جو ممالیہ جانوروں میں منتقل ہوسکتی ہے ۔ رپورٹ میں چیچک اور ایم پاکس سے متعلق وائرسوں کے خاندان، زہریلے جانوروں کے زہر اور دیگر زہریلے مادوں سے متعلق تحقیق کی کوششوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔

اینتھروپک نے خبردار کیا کہ اے آئی کی صلاحیتوں میں تیزی سے اضافے کے ساتھ اس کے غلط استعمال کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے ۔ کمپنی نے حکومتوں اور دیگر اے آئی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے حفاظتی اقدامات اور معلومات کے تبادلے کو مزید مضبوط کریں۔ اینتھروپک نے انکشاف کیا ہے کہ یمنی حوثیوں نے گائیڈڈ اور دیگر میزائل تیار کرنے کے لیے اس کے اے آئی چیٹ بوٹ ‘‘کلاڈ’’ کو استعمال کرنے کی کوشش کی۔ رپورٹ کے مطابق کمپنی نے ‘‘شمالی یمن میں موجود ایسے عناصر کے ایک گروہ’’ کا پتا چلایا جو ہتھیار تیار کرنے کے تین منصوبوں پر کام کر رہا تھا۔ان میں ایک ایسا گائیڈڈ میزائل شامل تھا جس میں عام موبائل فون جیسا کمپیوٹر نصب کرکے آخری مرحلے میں ہدف تک پہنچنے کی صلاحیت دینے کی کوشش کی گئی تھی۔دوسرا منصوبہ ایک کثیر مرحلہ بیلسٹک میزائل کا تھا، جس کی مطلوبہ حد 2,000 کلومیٹر سے زیادہ رکھی گئی تھی۔تیسرا منصوبہ مختلف اقسام کے میزائل تیار کرنے سے متعلق تھا، جس میں ہائپرسونک گلائیڈ وہیکل بھی شامل تھا۔

اینتھروپک کے مطابق اس گروہ نے کلاڈ کو ان فضائی ہتھیاروں کی رہنمائی، سمت اور کنٹرول سے متعلق سافٹ ویئر تیار کرنے کے لیے استعمال کیا۔ اس کام کے لیے عام حالات میں انجینئرز کی ایک پوری ٹیم درکار ہوتی۔کمپنی نے کہا، ‘‘ہمارے پاس اس بات کا ثبوت نہیں کہ یہ لوگ کوئی قابلِ استعمال ہتھیار تیار کرنے میں کامیاب ہوئے ، تاہم انہوں نے ایک گائیڈڈ میزائل کا تجربہ ضرور کیا۔’’اینتھروپک کے مطابق یہ تجربہ بظاہر ناکام ہوگیا اور چند گھنٹوں کے اندر وہی لوگ دوبارہ کلاڈ پر واپس آئے تاکہ یہ معلوم کرسکیں کہ تجربہ کیوں ناکام ہوا۔کمپنی نے بتایا کہ غیر قانونی سرگرمی کا پتا چلتے ہی متعلقہ اکاؤنٹس پر پابندی لگا دی گئی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...