امریکا دوبارہ حملے کی تیاری کر رہا: ایران، فیصلہ کن مرحلے میں ہوں:ٹرمپ

امریکا دوبارہ حملے کی تیاری کر رہا: ایران، فیصلہ کن مرحلے میں ہوں:ٹرمپ

امریکی حملے میں سہولت فراہم کرنیوالے ممالک تحمل یا نرم رویے کی توقع نہ رکھیں:خاتم الانبیامرکزی ہیڈ کوارٹر امریکا نے مشرق وسطیٰ میں شہریوں کیلئے سکیورٹی الرٹس جاری کر دیا،سی آئی اے سربراہ کی مصری صدر سے ملاقات

تہران ،واشنگٹن،دبئی (نیوز ایجنسیاں)ایران کے اعلیٰ ترین عسکری ادارے خاتم الانبیامرکزی ہیڈ کوارٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا خطے کے کچھ ممالک کی حمایت سے ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ امریکا  نے خطے کے کچھ ممالک کی رضامندی سے یورپی ملک میں مشترکہ اجلاس میں ایران کیخلاف دوبارہ کارروائیاں شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔خاتم الانبیاہیڈ کوارٹر نے اجلاس میں شریک فریقین یا میزبان یورپی ملک بارے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔بیان میں خطے کے ممالک کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر وہ امریکی حملے میں شامل ہوتے ہیں یا اسکا ساتھ دیتے ہیں، تو انہیں اس مذموم عمل میں شریک سمجھا جائے گا ،ایسے ممالک ایران کی طاقتور مسلح افواج کی جانب سے تحمل یا نرم رویے کی توقع نہیں رکھ سکیں گے ۔خاتم الانبیا مرکزی ہیڈ کوارٹر نے امریکا کو بھی خبردار کیا کہ حملے پر خطے میں اس ملک کے تمام فوجی مراکز اور مفادات کو بغیر کسی پابندی یا لحاظ کے مسلسل، مؤثر اور شدید حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔

دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے کہا میں ایران سے متعلق بڑے معاملات پر فیصلہ سازی کے مرحلے میں ہوں۔ جلدانتہائی اہم معاملات پر فیصلے ہونگے ۔صدر ٹرمپ نے کہا میرا سوال یہ ہے کہ میں پورے ملک کو کب اور کیسے تباہ کروں؟، بہتر ہے کہ وہ درست اقدام کریں۔ مستقبل قریب میں امریکا ایران جنگ سے متعلق بہت بڑی چیزیں ہونے والی ہیں۔ ایرانی صدر سے ملاقات پرتیار ہوں۔ تہران نے جنگ ختم کرنے سے متعلق مطالبات کی فہرست بھیجی ہے ۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن کے حوثیوں نے امریکا پر حملے نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے ۔ فاکس نیوز کے مطابق ٹرمپ سے اکثر رابطے میں رہنے والے رپو ر ٹرینگسٹ نے بتایا کہ صدر نے کہا ہے کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور گروپ نے امریکا کیخلاف جنگ نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے ۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے اتحادی حوثی، امریکا کے علاقائی اتحادی سعودی عرب کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کرچکے ہیں۔ ادھر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی پرکیمپ ڈیوڈ میں قیام مختصر کرکے ہفتے کو اچانک وائٹ ہاؤس واپسی اختیار کی۔ انتظامیہ نے شیڈول میں تبدیلی کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔ یہ پیشرفت سعودی قیادت میں اتحاد کے اس دعوے کے بعد ہوئی کہ حوثیوں نے ریاض پر بیلسٹک میزائل داغا۔ امریکی محکمہ خارجہ اور متعدد سفارتخانوں نے شہریوں کیلئے سکیورٹی الرٹس جاری کرتے خبردار کیا کہ تنازع تیزی سے بڑھ سکتا ہے اور خطے سے باہر موجود امریکی شہری مشرق وسطیٰ کے سفر پر نظرثانی کریں،یمن میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تنازع میں کشیدگی بڑھنے کا امکان موجود ہے ۔

ابوظہبی امریکی سفارتخانہ نے بھی مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی شہریوں اور سفارتی مراکز کے حوالے سے نئی وارننگ جاری کردی۔امریکی حکام کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اچانک بڑھنے کا خدشہ ہے ، امریکی سفارتی مراکز، قونصل خانوں اور سفارتخانوں کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے ۔خطے کا سفر کرنیوالے امریکی شہریوں کو ایئرپورٹس اور ایئرلائنز کی تازہ صورتحال پر نظر رکھنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے ۔مغربی ایشیا کے متعدد ممالک میں امریکی سفارتخانوں نے سکیورٹی وارننگ جاری کرکے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ ہدایات پر عمل کریں۔ خطے میں پروازیں منسوخ ہونے کا امکان ہے ۔بغداد میں امریکی سفارتخانے نے حوثیوں اور سعودی عرب میں حالیہ جھڑپوں کا حوالہ دیااور خبردار کیا کہ یہ تنازع تیزی سے بڑھ سکتا ہے ۔عراق کے خودمختار کردستان خطے میں اربیل ایئرپورٹ کے قریب اتوار کو دھماکے کی آواز سنی گئی۔ ایئرپورٹ کے قریب سرمئی رنگ کا دھواں بلند ہوتا دیکھا گیا۔ اربیل ایئرپورٹ پر امریکا کی قیادت میں قائم اتحاد کے فوجی بھی موجود ہیں۔ فوری طور پر دھماکے کی وجہ اور نوعیت معلوم نہ ہوسکی۔ حکام نے واقعے میں جانی یا مالی نقصان کی کوئی تفصیلات جاری نہیں کیں۔ سکیورٹی صورتحال اور دھماکہ کے محرکات پر تحقیقات جاری ہیں۔امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ جان ریٹکلف نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی، ایران، غزہ اور سوڈان کی جنگوں سمیت خلیجی ممالک پر حملوں اور بحری سلامتی کو درپیش خطرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مصری صدارتی دفتر کے مطابق السیسی نے علاقائی بحرانوں کے سیاسی و سفارتی حل پر زور دیا۔ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب امریکا نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تیزی سے بڑھنے کے خدشے کا اظہار کیا ہے ۔ ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ہماری شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی۔مغربی ایشیا میں امریکی آرڈر تباہ ہوچکا، علاقائی ممالک کو اب نیا آرڈر بنانا ہوگا۔باقر قالیباف نے تصدیق کی کہ ایران نے ثالثوں کے ذریعے امریکا کو پیغامات اور شرائط سے آگاہ کیا ہے ۔اتوار کو پارلیمنٹ میں خطاب کرتے انکا کہنا تھا کہ جنگ کی باتیں تو کی جاتی ہیں، لیکن اسکے حتمی اور مؤثر خاتمے کیلئے کوئی لائحہ عمل یا طریقہ کار موجود نہیں ہوتا۔ اپنی شرائط امریکا تک پہنچا دی ہیں ، ٹرمپ کے ردعمل کے منتظر ہیں۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...