بھارتی اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر کی برطرفی کا مطالبہ
سپریم کورٹ سے ووٹر فہرستوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی تحقیقات کا مطالبہ فہرستوں پر نظرثانی کے بعض فیصلے قانونی طریقہ کار کیخلاف کیے گئے :بھارتی اخبار سی ای سی نے 14 باردیگر دو ارکان کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے فیصلے کیے
نئی دہلی (اے ایف پی) بھارت میں حزب اختلاف نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے اور ووٹر فہرستوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔ مطالبہ ایک اخبار کی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے ، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ووٹر فہرستوں پر نظرثانی سے متعلق بعض فیصلے ممکنہ طور پر غیر قانونی طریقے سے کیے گئے ۔‘‘انڈین ایکسپریس’’ کی رپورٹ کے مطابق تین رکنی الیکشن کمیشن کے اندر گزشتہ 10 ماہ کے دوران اختلافات سامنے آئے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے 14 مرتبہ دیگر دو ارکان کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے فیصلے کیے ۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ان فیصلوں کے نتیجے میں تقریباً 13 کروڑ ووٹرز کے نام فہرستوں سے خارج کیے گئے ۔رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کے فیصلے کم از کم دو ارکان کے اتفاق رائے سے کیے جانے چاہئیں، اس لیے بعض یکطرفہ فیصلوں کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔حزب اختلاف کی مرکزی جماعت کانگریس نے الزام عائد کیا کہ گیانیش کمار نے وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دباؤ پر یکطرفہ فیصلے کیے ۔ کانگریس رہنما کے سی وینوگوپال نے چیف الیکشن کمشنر کی فوری برطرفی اور سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ کیا۔عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال نے بھی گیانیش کمار پر ووٹ میں دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے اتفاق رائے کے بغیر کیے گئے فیصلوں کو غیر قانونی قرار دینے کا مطالبہ کیا۔الیکشن کمیشن نے رپورٹ کو ‘‘تصویر کا صرف ایک رخ’’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے تمام فیصلے مکمل کمیشن کے متفقہ فیصلوں کا نتیجہ ہیں۔ کمیشن کے مطابق نظرثانی کا مقصد جعلی اور دہرے اندراجات ختم کرنا اور غیر قانونی غیر ملکی تارکین وطن کو ووٹر فہرستوں میں شامل ہونے سے روکنا ہے ۔دوسری جانب حقوق کی تنظیموں اور حزب اختلاف کا مؤقف ہے کہ نظرثانی کے عمل میں جائز ووٹرز کے نام بھی خارج کیے جارہے ہیں، جس سے بی جے پی کو سیاسی فائدہ پہنچ سکتا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments