ٹینیسی میں 200 سال بعد خاتون کی سزائے موت آخری وقت پر روک دی گئی
ٹینیسی(اے ایف پی)امریکی ریاست ٹینیسی میں ایک وفاقی اپیل عدالت نے خاتون کرسٹا پائیک کی سزائے موت آخری وقت پر روک دی۔
پائیک کو مہلک انجکشن کے ذریعے بدھ کو سزائے موت دی جانی تھی، تاہم سکسٹھھ سرکٹ کورٹ آف اپیلز نے سزائے موت پر عمل درآمد روکنے کا حکم جاری کردیا۔ کرسٹا پائیک کو تین دہائیاں قبل اپنی ہم جماعت 19 سالہ کولین سلیمر کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ اگر سزا پر عمل درآمد ہوجاتا تو وہ ٹینیسی میں 200 سال سے زائد عرصے بعد سزائے موت پانے والی پہلی خاتون ہوتیں۔ پائیک کے وکلا نے کم عمری، ذہنی صحت کے مسائل اور دیگر عوامل کو بنیاد بنا کر سزا پر نظرثانی کی درخواستیں دائر کی تھیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments