ریاض : حوثیوں کا آرامکوریفائنری پر حملے کا دعویٰ ، سعودی اتحاد کی صنعاپر بمباری
ریفائنری کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا:حوثی فوجی ترجمان ،آبنائے ہرمز میں 2 آئل ٹینکرز پر حملہ ٹرمپ کابینہ کے اہم ارکان کی کیمپ ڈیوڈ میں خفیہ ملاقات،ایران جنگ اور سعودی عرب ،یمن صورتحال پر گفتگو
صنعا،واشنگٹن،تہران(نیوز ایجنسیاں)یمن کے حوثیوں نے ہفتے کو دعویٰ کیا کہ انہوں نے سعودی دارالحکومت ریاض میں آرامکو کی ایک ریفائنر ی کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ حوثیوں کے مطابق یہ حملہ سعودی عرب کی جانب سے یمنی دارالحکومت صنعا اور دیگر صوبوں پر کیے گئے حملوں کے جواب میں کیا گیا۔ یمنی حوثیوں نے سعودی عرب پر دارالحکومت صنعا میں 26 فضائی حملے کرنے کا الزام عائد کیا ہے ، حوثی سے وابستہ ٹی وی چینل کے مطابق سعودی طیاروں نے صنعا کو نشانہ بنایا، تاہم حملوں میں جانی نقصان یا اہداف کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ صنعا میں موجود صحافیوں نے دھماکوں کی آوازیں سننے اور جنگی طیاروں کو میزائل فائر کرتے دیکھا۔ ہفتے کو ریاض میں آرامکو کی ایک تنصیب کے قریب دھوئیں اور آگ کے بڑے بادل اٹھتے دیکھے گئے ۔ ایک عینی شاہد نے رائٹرز کو بتایا کہ تنصیب کے اطراف سے دھواں اور شعلے بلند ہوتے نظر آئے ۔سعودی حکام نے فوری طور پر آرامکو کی کسی تنصیب پر حملے کی تصدیق نہیں کی، جبکہ آرامکو نے بھی تبصرے کے لیے رائٹرز کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔
امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی کابینہ کے اہم ارکان کی کیمپ ڈیوڈ میں خفیہ ملاقات ہوئی۔ایکسیوس کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ملاقات کی سربراہی کی، ملاقات میں ایران جنگ کے اگلے مراحل پر تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات میں سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان کشیدگی پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکرز کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ برطانوی میری ٹائم ایجنسی کے مطابق پہلے واقعے میں جہاز میں معمولی آگ بھڑک اٹھی اور بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی، تاہم آگ پر قابو پالیا گیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ عمان کے مشرق میں ایک اور خام تیل بردار ٹینکر نے نامعلوم پروجیکٹائل لگنے کی اطلاع دی۔ جہاز کے تمام عملے کے افراد محفوظ رہے اور کسی ماحولیاتی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے ساتھ جنگ بہت جلد ختم ہونے کا دعویٰ کر دیا۔
انہوں نے کہا ہے کہ ایران جنگ بہت جلد، ممکنہ طور پر انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو سکتی ہے ، تاہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے ۔امریکی ریاست الاباما کے ساحلی شہر موبائل میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے سوال اٹھایا کہ واشنگٹن تہران میں آخر کس سے مذاکرات کرے ؟ ان کے پاس ایسا کوئی نہیں ہے جس کے ساتھ معاملات طے کیے جائیں۔صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران کے پاس بحریہ، فضائیہ، ریڈار یا طیارہ شکن دفاعی نظام موجود نہیں، تقریباً 310 فیصد افراطِ زر کے باعث ایرانی معیشت بھی شدید مشکلات کا شکار ہے ۔ایران نے یمن کے حوثی گروپ سے متعلق واضح کیا ہے کہ وہ حوثیوں کے اقدامات کا براہِ راست فریق نہیں، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مو قف اختیار کیا ہے کہ حوثیوں پر حملوں کے بجائے سیاسی رابطوں اور سفارتی ذرائع کو استعمال کیا جانا چاہیے تاکہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جاسکے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments