ریاض دھماکوں کی آوازیں ، حوثی میزائل حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ

ریاض دھماکوں کی آوازیں ، حوثی میزائل حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ

ریاض میں 15 گھروں کو نقصان،4 افراد زخمی،حملوں کے باوجود سعودی عرب کا عالمی سرمایہ کاری کانفرنس کرانیکا فیصلہ حوثیوں کی چینی ٹیکنالوجی سے ہتھیار بنانیکی کوشش، یمن کابیجنگ سے رابطہ،سعودیہ پر حملے ،عالمی معیشت پر منفی اثرات آسکتے ، آئی ایم ایف

ریاض،جنیوا ،صنعا (اے ایف پی)سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں بدھ کو زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں،سعودی قیادت میں اتحادی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاض کی جانب داغا گیا حوثی میزائل فضا میں تباہ کر دیا گیا،سعودی سول ڈیفنس کے مطابق حوثیوں کی جانب سے داغے گئے دو کروز میزائلوں کو روکنے کے دوران ریاض میں 15 گھروں کو نقصان پہنچا اور چار افراد زخمی ہوئے ۔ میزائلوں کا ملبہ گرنے سے ایک مرد، دو خواتین اور ایک بچہ زخمی ہوئے ۔ دوسری جانب سعودی عرب نے بدھ کو یمن کے دارالحکومت صنعا میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں ۔ سعودی وزارت توانائی کے مطابق ظہران میں آرامکو کی ایک عمارت پر حملے کے نتیجے میں محدود آگ لگی، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ سعودی عرب نے حوثی باغیوں کے حملوں اور سکیورٹی خدشات کے باوجود ریاض میں عالمی سرمایہ کاری کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے ۔ سفارتی ذرائع کے مطابق شرکا کو بالمشافہ اور آن لائن شرکت کے ساتھ متبادل فضائی اور زمینی سفری سہولتیں بھی فراہم کرنے کی پیشکش کی گئی ہے ۔سعودی عرب کے فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو (ایف آئی آئی) کا سالانہ فورم، جسے ‘‘صحرا کا ڈیووس’’ کہا جاتا ہے ، 26 سے 29 اکتوبر تک ریاض میں منعقد ہونا ہے ۔ منتظمین نے کانفرنس منسوخ ہونے سے بچانے کے لیے مختلف ممالک کے سفارت خانوں اور غیر ملکی کمپنیوں سے رابطہ کیا ہے ۔

سفارتی ذرائع کے مطابق شرکا کو بحرین کے دارالحکومت منامہ یا قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ کر سڑک کے راستے ریاض آنے کی تجویز بھی دی گئی ہے ۔ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب پر حالیہ حملوں کے اثرات دنیا بھر کے عوام تک پہنچ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور خطے میں جاری متعدد تنازعات کے باعث عالمی معیشت کو خطرات لاحق ہیں۔جارجیوا کا کہنا تھا کہ سعودی معیشت خطے اور دنیا کے لیے اہم ہے ، اس لیے وہاں ہونے والی پیش رفت کے منفی اثرات عالمی سطح پر مرتب ہوسکتے ہیں۔ یمنی حکومت نے حوثی باغیوں کی جانب سے چینی ٹیکنالوجی استعمال کرکے ہتھیار تیار کرنے کی مبینہ کوششوں پر بیجنگ سے بات چیت کی ہے ۔ یمنی وزیر خارجہ افراح الزبہ نے بدھ کو بتایا کہ چین نے معاملے کی تحقیقات کے لیے معلومات حاصل کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے ۔رپورٹ کے مطابق حوثی باغی جدید درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور مبینہ طور پر ایران سے منسلک نیٹ ورکس سے آگے اپنی سپلائی چین بڑھا رہے ہیں۔

حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات پر حملے جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور کہا کہ مشرقی شہر دھران میں سعودی آرامکو کی تنصیبات، ریاض میں شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے اور دارالحکومت میں آرامکو کی ایک ریفائنری پر بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور ڈرون داغے تاہم گروپ نے ان حملوں کا وقت نہیں بتایا۔ یمن میں خانہ جنگی کے باعث زخمیوں کی بڑھتی تعداد سے ہسپتالوں پر دباؤ بڑھ گیا، جبکہ طبی سامان اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے ۔ عالمی ریڈ کراس کمیٹی کے مطابق ہتھیاروں سے زخمی ہونے والے افراد کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور بیشتر ہسپتال مکمل طبی سہولتیں فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...