سعودیہ پر حوثیوں کے داغے مزید ڈرونز ،میزائل تباہ ،ایران پر جوہری حملہ نہیں کرینگے :ٹرمپ

سعودیہ پر حوثیوں کے داغے مزید ڈرونز ،میزائل تباہ ،ایران پر جوہری حملہ نہیں کرینگے :ٹرمپ

ریاض کی فضائی حدود میں 3ڈرونز،بحیرہ احمر پر 2کروز میزائل،ینبع پر بیلسٹک میزائل مار گرایا:سعودی اتحاد پک ایکس مائونٹین پر حملہ کرنا پڑیگا:امریکی صدر،جنگوں سے تباہی کو ماحولیاتی نسل کشی قراردیا جائے :پزشکیان

واشنگٹن،ریاض(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف سرگرم سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ریاض سمیت سعودی عرب  کے مختلف علاقوں میں 3 ڈرون، بحیرہ احمر کے اوپر 2 کروز میزائل اور ینبع کے علاقے میں ایک بیلسٹک میزائل تباہ کر دیا۔اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ جنوبی علاقے اور ریاض کی فضائی حدود میں 3 ڈرونز کو روکا گیا، جبکہ بحیرہ احمر کے اوپر 2 کروز میزائل تباہ کیے گئے ۔ ترجمان کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران ینبع کے اوپر ایک بیلسٹک میزائل بھی روک کر تباہ کیا گیا۔ ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کیخلاف جوہری ہتھیار استعمال نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے زمینی فوج بھیجنے کا امکان بھی مسترد کردیا۔ نیوز میکس کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال نہیں کریں گے ، ایران میں امریکی فوجی دستے تعینات کرنے کا بھی کوئی ارادہ نہیں رکھتے ۔انہوں نے کہا امریکا جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے معاملے پر روس اور چین سے بھی بات چیت کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا امریکا کو ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک مقام پک ایکس ماؤنٹین کو نشانہ بنانا پڑ سکتا ہے ۔

ان کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے ،میسیو آرڈننس ایئر بلاسٹ بم (تمام بموں کی ماں)جوہری بم نہیں ہے ۔علاوہ ازیں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے آرمینیا میں منعقدہ ایک عالمی ماحولیاتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ عالمی دنیا مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگوں کے نتیجے میں ہونے والی ماحولیاتی تباہی کی مذمت کرے ، غزہ اور خطے کے دیگر علاقوں میں جنگوں نے قدرتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے ، جس کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے ۔مسعود پزشکیان نے کہا خطے میں جارحانہ جنگوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کو ’’ماحولیاتی نسل کشی‘‘ قرار دیا جانا چاہیے اور عالمی سطح پر اس کی مذمت ہونی چاہیے ۔اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے بین الاقوامی سطح پر مشترکہ اقدامات اور حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...