فرانس : مظاہروں کے بعد ہڑتالوں کا اعلان، مذاکرات ناکام

فرانس : مظاہروں کے بعد ہڑتالوں کا اعلان، مذاکرات ناکام

فرانس : مظاہروں کے بعد ہڑتالوں کا اعلان، مذاکرات ناکام دائیں بازو کے سیاستدانوں نے فرانس ہنگاموں کوامیگریشن مخالف بیانیہ بنا لیا

پیرس (اے ایف پی) فرانس کی بڑی مزدور تنظیم سی جی ٹی کی سربراہ صوفی بینے نے وزیراعظم سیباسٹین لیکورنو سے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ہڑتالوں کی کال دے دی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مزدوروں کے مطالبات تسلیم کرنے یا ان پر کوئی اقدام کرنے کی پیشکش نہیں کی۔ صوفی بینے کے مطابق احتجاجی تحریک کے نئے مرحلے کا آغاز ہڑتالوں سے کیا جائے گا جبکہ پانچ نومبر کو ملک گیر مظاہرے ہوں گے ۔

احتجاجی مظاہروں کے دوران ہنگاموں کے بعد پولیس نے پیرس کے بعض علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا۔ پابندی آج جمعرات کی صبح 6 بجے تک برقرار رہے گی۔ پولیس کے مطابق صدارتی محل، قومی اسمبلی، سینیٹ اور شانزے لیزے ایونیو سمیت اہم مقامات کے اطراف رات 8 بجے سے تمام غیر اعلانیہ عوامی اجتماعات پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔ یہ مسلسل تیسری رات ہے کہ شہر میں پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔ ادھر فرانس میں مہنگائی کے خلاف احتجاج کے دوران ہنگاموں کو دنیا بھر کے دائیں بازو کے سیاستدانوں نے امیگریشن مخالف بیانیے کیلئے استعمال کرنا شروع کر دیا ۔فرانسیسی صدر نے نام لیے بغیر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے غیر ملکی رہنماؤں کے تبصروں کو نامناسب قرار دیا۔یونان بھر میں ہزاروں طلبا نے مہنگائی، تعلیمی اخراجات اور سکولوں کی خستہ حالی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ۔ 

 

 

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...