انتخابات امریکا کا اندرونی معاملہ: چین، روس مہنگائی کیخلاف متحد ہونیکا موقع: برطانیہ

انتخابات امریکا کا اندرونی معاملہ: چین، روس مہنگائی کیخلاف متحد ہونیکا موقع: برطانیہ

باہمی تعاون کو فروغ دینے کیلئے پر عزم ہیں :چین، اپنے فیصلے دیگر ممالک کی سیاسی اتار چڑھاؤ پر طے نہیں کرتے :روس امریکی عوام نے نفرت پر مبنی سیاست کو رد کر دیا:سپین، نتائج نے عالمی تعلقات میں نیا دور متعارف کروایا :جنوبی افریقا

بیجنگ،ماسکو،لندن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے کہا ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی بھاری کامیابی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی پوزیشن کمزور ہونے سے دنیا کو مہنگائی کے مسئلے پر متحد ہونے کا موقع ملا  ہے ۔صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا صدر ٹرمپ نے انتخابی نتائج تسلیم کر لیے ہیں اور اب عالمی برادری کو عوام کو درپیش مہنگائی کے مسئلے کے حل کیلئے مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں۔ برطانوی وزیراعظم کے مطابق ایران میں امریکی جنگ کے خاتمے تک قیمتوں میں کمی ممکن نہیں ہوگی۔چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات واشنگٹن کا داخلی معاملہ ہے ، چین امریکا کے ساتھ رابطے مضبوط کرنے کا خواہاں ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ چین امریکی رہنماؤں کے درمیان ہونے والے اتفاقِ رائے پر عمل درآمد کیلئے امریکا کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہش مند ہے ۔مشرقِ وسطیٰ اور خلیج کی صورتحال پر چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ چین سعودی عرب، ایران اور علاقائی ممالک کے ساتھ بات چیت کو مضبوط کرنے کا خواہاں ہے ، چین ایران اور امریکا کے درمیان تفرقات کے مذاکرات کے ذریعے حل کی حمایت کرتا ہے ،چینی وزارتِ خارجہ نے باہمی تعاون کو فروغ دینے ، امریکی قیادت کے ساتھ طے شدہ اتفاق رائے پر عمل درآمد اور مشرقِ وسطیٰ میں مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل کی حمایت کا عزم ظاہر کیا ہے ۔

روسی صدارتی دفتر کے ترجمان دمیتری نے بیان میں کہا کہ ماسکو کو پوری امید ہے کہ انتخابی نتائج کے باوجود صدر ٹرمپ یوکرین کی جنگ کے حوالے سے اپنی امن ساز کوششیں جاری رکھیں گے ۔ روسی حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی کانگریس کے انتخابات اور ان کے نتائج امریکہ کا اندرونی معاملہ ہیں اور روس اپنی خارجہ پالیسی کے فیصلے دیگر ممالک کی سیاسی اتار چڑھاؤ یا بارومیٹر کے مطابق طے نہیں کرتا۔ روس کے ڈپٹی فارن منسٹر سرگئی ریابکو کے مطابق امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے روایتی طور پر انتہائی منفی رجحانات رہے ہیں۔۔سپین کے وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے کہا ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج سخت گیر دائیں بازو کی سیاست کیلئے بڑا دھچکا ہیں، امریکی عوام نے اپنی ووٹ کی طاقت سے اس سیاسی رجحان کو مسترد کر دیا۔انہوں نے کہا ہے کہ امریکی عوام نے نفرت، صنفی امتیاز اور موسمیاتی تبدیلی سے انکار پر مبنی سیاست کو بھی رد کر دیا ہے ۔انہوں نے کہا بحرِ اوقیانوس کے دونوں جانب سخت گیر دائیں بازو کی سیاسی لہر زوال پذیر ہے ۔ جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا نے کہا ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج نے عالمی تعلقات میں نئے دور کو متعارف کروایا ہے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...