انڈونیشیا :فون ٹیپنگ سکینڈل ملزموں کو عمر قید یا سزائے موت ہوسکتی
جکارتا (مانیٹرنگ نیوز )انڈونیشیا کے سیاسی نظام میں اس وقت ایک زبردست بھونچال آ گیا جب موجودہ صدر پرابوو سوبیانتو کے فون کالز کی مبینہ وائر ٹیپنگ (جاسوسی) کا ایک انتہائی سنسنی خیز سکینڈل منظرِ عام پر آیا۔
حکام نے اسے ملک کی سالمیت کے خلاف سنگین سازش قرار دیتے ہوئے غداری کے قانون کے تحت اعلیٰ سطحی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے ۔ اس ہائی پروفائل سکینڈل میں ملوث ہونے کے الزام میں صدر کے نو منتخب چیف آف سٹاف 'لِسٹیو سیگت پرابوو' اور تین سینئر پولیس افسران کو گرفتار کر کے ان کے عہدوں سے برطرف کر دیا گیا ہے ۔ ملزموں نے قانونی تفتیشی وارنٹ یا مجاز اتھارٹی کی اجازت کے بغیر، پولیس کے سرکاری الیکٹرانک نگرانی اور انٹرسیپشن سسٹم کا غلط استعمال کیا۔ انہوں نے اس خفیہ نظام میں صدر پرابوو سوبیانتو سمیت ملک کے کئی اہم سیاست دانوں، صحافیوں، تاجروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں (این جی اوز) کے نمائندوں کے فون نمبر درج کر کے ان کی نجی گفتگو کو غیر قانونی طور پر ریکارڈ کیا۔ صدارتی ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی حساس قومی معلومات کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے ، جس پر انڈونیشیا کے سخت قوانین کے تحت عمر قید یا سزائے موت تک کی سزا ہو سکتی ہے ۔سیاسی تجزیہ کار اس سکینڈل کو موجودہ صدر پرابوو اور سابق صدر جوکو ویدودو (جوکووی) کے درمیان پسِ پردہ تیزی سے بڑھتی ہوئی سیاسی خلیج اور سرد جنگ کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ گرفتار ہونے والے چیف آف سٹاف لِسٹیو کو سابق صدر جوکووی کا انتہائی قریبی اور دیرینہ ساتھی مانا جاتا ہے ۔ اگرچہ 2024 کے صدارتی انتخابات میں جوکووی نے پرابوو کی بھرپور حمایت کی تھی اور ان کا بیٹا اس وقت ملک کا نائب صدر بھی ہے ، تاہم حالیہ مہینوں میں صدر پرابوو نے جوکووی کے کئی ارب ڈالر کے دارالحکومت کے منصوبوں کو روک کر اپنے بجٹ اور ایجنڈے پر کام شروع کیا ہے ، جس سے دونوں دھڑوں کے تعلقات شدید متاثر ہوئے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments