اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

موسمیاتی تبدیلیوں کی تباہی

اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے ورلڈ میٹرو لوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او)کے مطابق 1970ء سے 2021ء کے دوران موسمیاتی تبدیلیوں سے جڑی قدرتی آفات نے دنیا بھر کو 4300 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان پہنچایا جبکہ 20 لاکھ سے زیادہ انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی شدت اور ان کے تباہ کن اثرات ہر گزرتے دن کیساتھ بڑھتے جا رہے ہیں۔  پاکستان متاثرہ ممالک میں سرفہرست ہے۔ 1970ء سے 2022ء تک ملک میں چھوٹے اور بڑے پیمانے پر 20 سے زائد سیلاب آئے جنہوں نے شدید مالی و جانی نقصان پہنچایا۔ محض 2022ء کے سیلاب نے تین کروڑ سے زائد افراد کو متاثر کیا‘ 1700 سے زیادہ قیمتی جانیں ضائع ہوئیں‘ تقریباً 80 لاکھ لوگ بے گھر ہوئے اور ملکی معیشت کو مجموعی طور پر 30ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔علاوہ ازیں گلوبل وارمنگ کے باعث پاکستان کے گلیشیرز تیزی سے پگھل رہے ہیں جبکہ بارشوں کے معمول میں خلل پڑنے سے خشک سالی جیسے مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ عالمی ادارے اور وہ ترقی یافتہ ممالک‘ جن کے کاربن اخراج نے موسمیاتی تبدیلیوں کو جنم دیا‘ متاثرہ ممالک کو موسمیاتی فنڈز کی بروقت فراہمی یقینی بنائیں اور ماحولیاتی تحفظ کیلئے مؤثر اقدامات کریں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00