اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بارشوں کی تباہ کاریاں

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ملک بھر میں 19 مارچ سے 8اپریل تک بارشوں سے ہونے والے حادثات میں مجموعی طور پر 96افراد جاں بحق جبکہ 192زخمی ہوئے ہیں۔ حالیہ بارشوں نے حکومتی انتظامات کا پول کھول دیا ہے۔ گزشتہ برس بھی ملک کے بیشتر اضلاع میں انتظامی نقائص بارشوں اور سیلاب کے نقصانات میں اضافے کا سبب بنے تھے۔ اس تلخ تجربے کے بعد یہ امید تھی کہ حکومت کی طرف سے بارشی پانی کے بروقت نکاس کیلئے ضروری اقدامات کر لیے جائیں گے اور شہریوں کو دوبارہ ویسی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا‘ لیکن یوں لگتا ہے کہ تاحال سیلابی بارشوں کے ممکنہ خدشات سے نمٹنے کیلئے مطلوبہ اقدامات نہیں کیے جا سکے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے رواں برس معمول سے 26 فیصد زیادہ بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

ان اضافی بارشوں سے نمٹنے کیلئے ضروری ہے کہ پیشگی منصوبہ بندی یقینی بنائی جائے۔ قومی اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ادارے اور متعلقہ حکام باہمی روابط سے ممکنہ سیلابی بارشوں سے نمٹنے کیلئے تمام پیشگی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ نالوں کی بروقت صفائی‘ سیلابی گزرگاہوں اور برساتی نالوں سے تجاوزات کا خاتمہ اور آبی ذخائر تعمیر کر کے سیلابی خدشات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔حکومت کو چاہیے کہ حالیہ بارشوں کو نقارۂ خدا سمجھتے ہوئے مون سون سے قبل نالوں کی صفائی سمیت تمام ضروری اقدامات یقینی بنائے تاکہ شہریوں کو کسی ناخوشگوار صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں