اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

منکی پاکس کا پھیلاؤ

کراچی اور لاہور سے منکی پاکس کا ایک‘ ایک کیس سامنے آنے کے بعد رواں برس ملک میں منکی پاکس کے مریضوں کی مجموعی تعداد 26تک پہنچ چکی ہے جبکہ پانچ افراد اس مرض سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔ سندھ سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے جہاں اسکے 14کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں‘ جن میں سے 12کا تعلق خیرپور جبکہ دو کا کراچی سے ہے۔ منکی پاکس ایک وائرل بیماری ہے جو متاثرہ شخص کی جلد‘ زخموں‘ جسمانی رطوبتوں یا اس کے زیر استعمال اشیا کے ذریعے دوسرے افراد تک منتقل ہو سکتی ہے۔ اس کی ابتدائی علامات میں بخار‘ نزلہ‘ گلے میں خراش اور جسم پر دانے شامل ہیں‘ جو بعد میں پیپ والے چھالوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ عوام کو چاہیے کہ منکی پاکس کے مریضوں سے فاصلہ رکھیں اور انکے زیر استعمال اشیا کو استعمال نہ کریں۔

حکومت کو کم از کم تحصیل کی سطح پر مؤثر نگرانی کا نظام قائم کرنا چاہیے تاکہ کیسز کی بروقت نشاندہی ہو سکے۔ اسی طرح ہسپتالوں میں قرنطینہ وارڈز کو فعال بنانا بھی ناگزیر ہے تاکہ مریضوں کو فوری طور پر الگ کر کے وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ ملک عزیز پہلے ہی ڈینگی‘ پولیو اور دیگر متعدی امراض جیسے چیلنجز سے نبرد آزما ہے‘ ایسے میں منکی پاکس جیسے نئے خطرے کو نظرانداز کرنا کسی طور دانشمندی نہیں ہو گی۔لہٰذا حکومت‘ طبی ماہرین اور عوام سب مل کر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تاکہ اس بیماری کے پھیلنے سے روکا جا سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں