اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مہنگائی اور عوامی بے بسی

وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق نو اپریل کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے کے دوران ملک میں 28اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھنے سے ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں سالانہ بنیادوں پر 12.15فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جن اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں ایل پی جی‘ پٹرولیم مصنوعات‘ آٹا‘ روٹی‘ دودھ‘ اور تقریباً سبھی سبزیاں اور پھل شامل ہیں۔ مہنگائی کی حالیہ لہر کا تعلق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونیوالے ہوشربا اضافے سے ہے۔ دکاندار ایل پی جی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو جواز بنا کر ناجائز منافع خوری میں مصروف ہیں جبکہ متعلقہ حکام محض زبانی جمع خرچ تک محدود نظر آتے ہیں۔ عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح تقریباً 45 فیصد سے زائد ہے جبکہ بیروزگاری کی شرح بھی7.1فیصد ہے۔

ایسے حالات میں مہنگائی میں معمولی اضافہ بھی عوام پر شدید مالی بوجھ ڈالتا ہے۔ مہنگائی کے مستقل تدارک کیلئے زبانی دعوئوں کے بجائے حکومت کو ایک جامع معاشی لائحہ عمل تشکیل دینے کی ضرورت ہے جس میں ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی اور عوام کی آمدن میں حقیقی اضافہ شامل ہو۔ حکومت کو ادراک ہونا چاہیے کہ جب تک عام آدمی کی قوتِ خرید بحال نہیں ہوتی‘ مہنگائی کا مقابلہ ممکن نہیں۔ ساتھ ہی انسدادِ گرانی کے اداروں کی کارکردگی کو مؤثر بنانا بھی ناگزیر ہے۔ مہنگائی کا مسئلہ نئی اصلاحات اور سنجیدہ حکومتی ترجیحات کا متقاضی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں