اسلام آباد مذاکرات اور توقعات
اسلام آباد میں ہونے والے ایران امریکہ مذاکرات غیر معمولی اہمیت کی حامل پیشرفت ہے۔ پاکستان کی مخلصانہ اور انتھک کوششوں سے متحارب فریقین کو مذاکرات کی میز پر لا بٹھانا کوئی معمولی بات نہیں۔ تاریخِ عالم پچھلی کئی دہائیوں کے دوران ایسی دوسری مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ اس دو ہفتے کی جنگ بندی نے مذاکرات کے اُس سلسلے کو بحال کرنے میں مدد دی ہے جو فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے حملے سے ٹوٹ گیا تھا۔ اس سے قبل عمان اور بعد میں جنیوا میں ایران اور امریکہ کے درمیان اچھی پیشرفت کی خبریں آ رہی تھیں۔ جنگ شروع نہ کی گئی ہوتی تو ممکن ہے امریکہ اور ایران اب تک بہت سے تنازعات اور تحفظات کا ازالہ کرنے میں کامیاب ہو چکے ہوتے۔ اس طرح مشرق وسطیٰ مہینہ بھر کی اس کشیدگی سے بچ جاتا اور دنیا اس بے یقینی کے کرب سے‘ جس میں توانائی کی سنگین مہنگائی اور مستقبل کے حوالے سے پائی جانے والی تشویش نے مبتلا کر رکھا تھا۔ اس دوران ایران میں قریب تین ہزار کے قریب افراد جنگ کا رزق بنے۔ خلیجی ملکوں میں بھی ڈھیروں نقصان ہوا اور دنیا کیلئے ترقی کی مثال سمجھا جانیوالا یہ خطہ اپنی تاریخ کے بدترین سکیورٹی مسائل سے دوچار ہوا۔

پاکستان کی کوششوں سے ہونیوالی جنگ بندی اور مذاکرات کے عمل نے اس ڈراؤنے خواب سے نکلنے کی راہ ہموار کی ہے۔ بظاہر امریکہ اور ایران دونوں کو اس کا احساس ہے‘ جس کا اندازہ نائب امریکی صدر جے ڈی وینس‘ جو مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کیلئے پاکستان تشریف لائے ہیں‘ کے بیانات سے ہوتا ہے۔ یہ بیانات بڑے حوصلہ افزا اور پیشرفت کیلئے آمادہ ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ گزشتہ روز پاکستان کے سفر پر روانہ ہونے سے قبل انہوں نے ایران کیساتھ مثبت مذاکرات کی امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کیساتھ تعمیری گفتگو کے خواہاں ہیں‘ ایران نیک نیتی سے مذاکرات کرتا ہے تو ہم بھی تیار ہیں۔ ایران کی جانب سے مذاکراتی وفد کی قیادت وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف کر رہے ہیں۔ ہر دو شخصیات سنجیدہ‘ تجربہ کار اور دانشمند ہیں۔ عباس عراقچی تو اس سے قبل عمان اور جنیوا کے مذاکرات میں بھی ایران کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ادھر سے مشرق وسطیٰ کیلئے امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی عمان اور جنیوا کے مذاکرات میں امریکی نمائندگی کر چکے ہیں۔ باقر قالیباف اور جے ڈی وینس کی شمو لیت نئی ہے اور دنیا کی نیک خواہش یہ ہے کہ اسلام آباد میں آج ہونیوالی بات چیت بڑی پیشرفت کا سبب بنے۔ اصولی طور پر یہ ناممکن نہیں۔ اس مہینہ بھر کی جنگ نے بھی کئی سبق سکھائے ہیں۔
جہاں ایران کو امریکہ اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ اور اُنکی مشترکہ طاقت کے ہاتھوں بے مثال جانی ومالی نقصانات اٹھانے پڑے ہیں وہیں امریکہ نے ایران کے مضبوط دفاعی نظام‘ میزائل پاور اور عوامی جذبے کو اس جنگ میں واضح طور پر دیکھ لیا ہے۔ حالات کا سبق یہ ہے کہ فریقین میں جنگ کا جاری رہنا دونوں جانب کیلئے بھی اور خطے اور دنیا کیلئے بھی شدید نقصان دہ ہے۔ جنگوں کا خاتمہ اور پائیدار امن انسانوں کو ترقی کے مثالی مواقع فراہم کر سکتا ہے۔ آج دنیا بھر میں کوئی بھی ذی ہوش اس جنگ کی حمایت نہیں کرتا۔ وہ بھی نہیں جنہوں نے اس جنگ میں بہت نقصان اٹھایا۔ جنگ کی آگ کو مزید آگ سے ٹھنڈا نہیں کیا جا سکتا۔ فریقین کو باعزت خلاصی کا موقع ملتا ہو تو اسے ضائع کرنا حماقت ہے۔ امریکہ اور ایران کے مذاکراتی وفود کو یقینا اس کا احساس ہے؛ چنانچہ انہیں اس کیلئے مخلصانہ جذبے کیساتھ پوری کوشش کرنی چاہیے کہ اس بحران کا کوئی آبرو مندانہ حل نکل آئے۔ یہی ایران کے مفاد میں ہے اور یہی امریکہ کے مفاد میں۔ لڑتے رہنے میں کوئی بھلائی نہیں‘ نہ ہی اس سے طاقت کی دھاک بیٹھتی ہے۔ دبدبہ طاقت کو بچا کر رکھنے میں ہے نہ کے برپا کرنے میں۔