وزیراعظم کی مذاکرات کی پیشکش
پاکستان اس وقت ایک ایسے سیاسی گرداب کا شکار ہے جس کی شدت اور پھیلائو میں ہر گزرتے دن کیساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ سیاسی بے چینی اور احتجاجی کلچر کا دائرہ وسیع ہونے کے باوجود اسے سمیٹنے کی کوئی کوشش ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ اگرچہ اس بحران کے خاتمے کے راہ سب کو معلوم ہے کہ حکومت اور اپوزیشن نیک نیتی سے مذاکرات کی میز پر بیٹھیں مگر دونوں فریق مذاکرات سے راہِ فرار اختیار کرتے نظر آتے ہیں۔ اب وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اپوزیشن کو مذاکرات کی آفر سے ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا یہ کہنا بجا ہے کہ بات چیت ہو گی تو ہی مسائل کا حل نکلے گا۔تاہم ضروری ہے کہ اس بار معاملہ صرف مذاکرات کی آفر تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اقدامات بھی نظر آئیں۔ گزشتہ چند برس کے دوران فریقین کی جانب سے کتنی ہی بار مذاکرات کی آفر کی گئی‘ چند بیٹھکوں کا انعقاد بھی ہوا مگر ہر بار تان مزید تلخی پر آ کر ٹوٹی۔ سیاسی قیادت میں لچک کی کمی اور ’سب کچھ یا کچھ بھی نہیں‘ کی پالیسی نے بات چیت کے راستے مسدود کر دیے۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں بات چیت‘ مذاکرات اور مکالمہ ہی وہ واحد راستہ ہے جو تعطل کو ختم کرنے‘ پالیسیوں میں تسلسل لانے اور قومی یکجہتی پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔

جمہوریت کا پہیہ تبھی رواں رہتا ہے جب ریاستی اکائیوں کے درمیان مکالمے کا دروازہ کھلا رہے۔ یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ ہمارا ملک اس وقت ایک پیچیدہ معاشی بحران سے نبرد آزما ہے‘ عالمی اور علاقائی حالات جس کی گمبھیرتا میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔ ایسے میں عوامی اور سماجی تحفظ کا واحد راستہ معاشی جمود کو توڑنا اور داخلی استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔ اسی طرح امن وامان اور بڑھتی ہوئی دہشتگردی کیخلاف بھی ملک کو ایک متفقہ قومی بیانیے کی ضرورت ہے۔ یہ صرف اسی صورت ممکن ہو گا جب سیاسی قیادت اپنے اختلافات بالائے طاق رکھ کر قومی سلامتی کے حوالے سے اقدامات کیلئے پر ایک پیج پر آئے گی۔ جب مذاکرات سے گریز کی راہ اپنائی جاتی ہے تو حکومت اور اپوزیشن کا ورکنگ ریلیشن شپ‘ جو نظمِ حکومت کو چلانے اور ریاستی بندوبست کو برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہوتا ہے‘ مجروح ہونے لگتا ہے اور سیاسی قیادت میں پائی جانے والی تلخی نچلی سطح پر عوام کے ذہنوں میں بھی نفرت پیدا کرنے لگتی ہے‘ جس سے عدم برداشت اور تشدد کو فروغ ملتا ہے۔ آج کل ہمیں ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے۔ اگر یہ جائزہ لیا جائے کہ حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات میں کیا امر مانع ہے تو یہ بات تسلیم کرتے ہی بنتی ہے کہ دونوں اطراف کو ایک دوسرے پر اعتماد نہیں ہے۔ اکثر مذاکرات سے پہلے ایسی شرائط عائد کر دی جاتی ہیں جو دوسرے فریق کیلئے ناقابلِ قبول ہوتی ہیں۔
اس دائرے سے نکلنے کیلئے فریقین کو چاہیے کہ وہ کسی پیشگی شرط کے بغیر مذاکراتی میز پر بیٹھیں۔ بات چیت کا ایجنڈا صرف ملکی وقومی مفاد ہونا چاہیے۔ اعتماد سازی کے اقدامات کیلئے حکومت سیاسی ماحول کو متوازن بنانے کی کوشش کر سکتی ہے۔ اپوزیشن کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے۔ بدلے میں اپوزیشن احتجاج اور سڑکوں کو ترک کر کے اپنے مطالبات منوانے کیلئے جمہوری و پارلیمانی راستہ اپنائے۔ مذاکراتی تسلسل کو برقرار رکھنے کیلئے ایوان کے اراکین پر مشتمل ایسی کمیٹی بنائی جا سکتی ہے جس میں تمام پارلیمانی جماعتوں کے سینئر اور سنجیدہ ارکان کو شامل کیا جائے تاکہ اختتامی حل تک پہنچا جا سکے۔ ملک و قوم کے کئی قیمتی سال ہم بے جا سیاسی محاذ آرائی اور نفرت کی سیاست میں ضائع کر چکے۔ پاکستان اب مزید سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ بدلتے عالمی حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے ضروری ہے کہ سیاسی قیادت اپنی اَنا کو پیچھے چھوڑ کر ملک وقوم کیلئے مذاکرات کی راہ اپنائے۔ سیاسی قیادت کو اپنے طرزِ عمل سے یہ ثبوت فراہم کرنا چاہیے کہ جمہوریت میں راستہ بند گلی سے نہیں بلکہ بات چیت سے نکلتا ہے۔