اسلام آباد لانگ مارچ معاہد ے پر عمل در آمد ناممکن

اسلام آباد لانگ مارچ معاہد ے پر عمل در آمد ناممکن

الیکشن کمیشن کو آئین میں مکمل تحفظ حاصل ہے،تشکیل نو ممکن نہیں،رپورٹ

کراچی (رپورٹ: عبدالجبار ناصر)حکومتی اتحادی جماعتوںاور طاہرالقادری کے درمیان طے پانے والے معاہدے’’اسلام آباد لانگ مارچ معاہدہ ‘‘ میں شامل مختلف نکات پر عمل در آمد نہ صرف مشکل بلکہ اپوزیشن کی رضامندی کے بغیر ناممکن ہے۔ بعض نکات ایک نئے سیاسی اور آئینی بحران کو جنم دے سکتے ہیں جبکہ آئین کے آرٹیکل 62اور 63پر کلی طور پر عمل در آمد کی صورت میں سیاسی قوتوں کیلئے ’’قحط الرجال‘‘کا سامنا ہوگا اور موجودہ سیاسی یا پارلیمانی قیادت کا شائد ہی کوئی فرد الیکشن لڑنے کا اہل ہوگا ،جن میں خودڈاکٹر طاہر القادری بھی شامل ہیں۔اس معاہدے میں الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کے لئے وزیرقانون فاروق ایچ نائیک کی سربراہی میں کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، یہی وہ نکتہ ہے جس پر ’’اسلام آباد لانگ مارچ معاہدہ ‘‘پر عمل نہیں ہوسکے گا کیونکہ موجودہ الیکشن کمیشن کو آئین کے آرٹیکل 215 میں مکمل تحفظ حاصل ہے۔ معاہدے میں درج ہے کہ ’’نگراں وزیر اعظم کے لئے حکومتی اتحاد اور طاہرالقادری کی جماعت پاکستان عوامی تحریک 2نام پیش کریں گی۔مگر 18ویں ترمیم کے بعد آئین میں نگراں وزیر اعظم کے تعین کے لیے اصل کردار’’وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف ‘‘کا ہے۔اگر حکومت کو پاکستان عوامی تحریک یا کسی اور جماعت کا کردار قانونی طور پر تسلیم کرنا ہو تو اس کے لئے آئین میں دوتہائی اکثریت کے ساتھ ترمیم کی ضرورت ہے جو اس وقت حکمراں اتحاد کو پارلیمنٹ میں حاصل نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں