وزیر اعظم کا دورہ، افغانستان رسد پہنچانے کے نئے معاہدے کا جائزہ لیا جائیگا
2016ء کے بعد تعینات امریکی فوجیوں کو سامان پہنچانے کیلئے پاکستان کی زمینی و فضائی حدود استعمال ہونگی
اسلام آباد (رپورٹ: ساجد چوہدری) افغانستان میں 2016 کے بعد تعینات رہنے والے امریکیوں کو فوجی سازوسامان و دیگر اشیاء کی پاکستان کے راستے سپلائی کیلئے وزیر اعظم نواز شریف کے حالیہ دورۂ امریکا کے دوران کولیشن سپورٹ فنڈ (سی ایس ایف) کے خاتمے کے فوری بعد ایسے ہی ایک محدود معاہدے کا جائزہ لیا جائے گا، یہ مجوزہ معاہدہ پاکستان اور امریکا کے درمیان پاکستان کی زمینی اور فضائی حدود کی راہداری کے استعمال اور افغانستان میں 2016کے بعد تعینات رہنے والے امریکیوں کو فوجی سازوسامان و دیگر اشیاء کی پاکستان کے راستے سپلائی کیلئے کام آئے گا۔ ایک سرکاری ذرائع نے بتایا کہ موجودہ کولیشن سپورٹ فنڈ 31 دسمبر 2015 تک ختم ہو جائے گا اور اس کے ختم ہونے کی بڑی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ امریکا افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد کو کم کر کے 1000 تک محدود کر دے گا، تاہم گزشتہ ہفتے امریکی ایڈمنسٹریشن کی جانب سے افغانستان میں 5500فوجیوں کی موجودگی 2016 اور اس کے بعد بھی برقرار رکھنے کے واضح اعلان کے بعد حکام کا کہنا تھا کہ 8000کے قریب امریکی فوجیوں اور دیگر اتحادی ممالک کی افواج کیلئے پاکستان کے راستے فوجی سازوسامان اور دیگر اشیاء خورونوش کی فراہمی کیلئے ایک باقاعدہ معاہدے کی ضرورت ہے اور اس ضمن میں پاکستان اور امریکا کے درمیان سنجیدگی سے بات چیت ہوئی ہے ، ایسے معاہدے کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم کے حالیہ دورۂ امریکا میں اگر اس مسئلے پر مکمل اتفاق رائے ہو گیا، جس کے امکانات روشن ہیں تو اس دورے کے اختتام پر مشترکہ اعلامیے میں اس کا باقاعدہ اعلان کر دیا جائے گا، جس کے تحت پاکستان کو ایک معقول آمدن زر مبادلہ کی صورت میں دستیاب ہو گی۔