نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اسلام آباد: چیف الیکشن کمشنرکی زیر صدارت اجلاس
  • بریکنگ :- سندھ، بلوچستان،پنجاب، اسلام آبادکےبلدیاتی الیکشن پر بریفنگ
  • بریکنگ :- سندھ، بلوچستان، پنجاب میں حلقہ بندیاں جاری ہیں، الیکشن کمیشن
  • بریکنگ :- اسلام آبادبلدیاتی آرڈیننس کےرولزکی عدم دستیابی پرالیکشن میں تاخیرہوسکتی ہے،الیکشن کمیشن
  • بریکنگ :- اسلام آبادبلدیاتی الیکشن میں تاخیرپرچیف کمشنراوروزارت داخلہ کےنمائندےطلب
  • بریکنگ :- چیف الیکشن کمشنرکی ڈیٹاسینٹراورپرنٹنگ پروجیکٹ کی تکمیل کی ہدایت
  • بریکنگ :- عام انتخابات سےقبل ووٹرزکی رجسٹریشن مکمل کی جائے،چیف الیکشن کمشنر
Coronavirus Updates

منی بجٹ عوام کا قتل نامہ، آئی ایم ایف سن لے! تمام بل واپس ہونگے : ن لیگ

منی بجٹ عوام کا قتل نامہ، آئی ایم ایف سن لے! تمام بل واپس ہونگے : ن لیگ

اسلام آباد، لاہور (اپنے سیاسی رپورٹر سے ، نیوز ایجنسیاں )مسلم لیگ(ن)کے صدر اور اپوزیشن لیڈرشہباز شریف نے کہا ہے کہ عوام پی ٹی آئی کو ان کی زندگیاں مشکل بنانے پر معاف نہیں کرے گی۔

عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے انہیں دفن کر دیں گے ،بس اس کیلئے تھوڑا انتظار کرنا پڑے گا۔ اپنے ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ملک کی پارلیمانی تاریخ کا ایک سیاہ دن تھا۔ پہلے سے تاریخی مہنگائی کی زد میں عوام پر منی بجٹ مسلط کر دیا گیا۔دوسری طرف شاہد خاقان عباسی،احسن اقبال ،مفتاح اسماعیل اور خرم دستگیر خان نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سن لے سٹیٹ بینک بل سمیت بلڈوز کئے گئے تمام بلز واپس ہونگے ، منی بجٹ عوام کا قتل نامہ تھا جس پر مہر لگائی گئی ،پہلے عوام کو مہنگائی کا کینسر لگایا اورپھر گلا ہی کاٹ دیا،وزیر خزانہ 6 ماہ پہلے جنت کی تصویر دکھا رہے تھے ایسا کیا ہوا 6 ماہ میں آپکو عوام کے خون کا آخری قطرہ نچوڑنے کی ضرورت پڑ گئی ۔

آئی ایم ایف کے پاس جانا جرم نہیں بلکہ سرنڈر کرنا جرم ہے ، حکومت فیل وزیروں کی سرکس ہے ،ایک وزیر اپنی وزارت میں فیل ہو جائے تو اس کو اس سے بھی بڑی وزارت مل جاتی ہے ،سٹیٹ بینک بل سب سے خطرناک ہے ، اپنی معیشت کی چابی ہم نے آئی ایم ایف کے حوالے کر دی ،رات کے اندھیرے میں بغیر کسی بحث کے اسے پاس کروایا گیا ، منی بجٹ سے 25 ہزار فی گھرانہ اضافی بوجھ ڈالا گیا ، 23 مارچ کو عظیم الشان عوامی پریڈ ہوگی،حکومت اس پریڈ کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ پاکستان کے عوام پر 7 سو ارب روپے سے زیادہ کا بوجھ ڈالا جارہا ہے ،سپیکر اور ڈپٹی سپیکر نے کوشش کی ایوان میں ووٹنگ بھی نہ ہوسکے ، اسکی کوئی تاریخ میں مثال نہیں کہ ایوان میں بحث بھی نہ ہو، عجلت میں بلز پاس کروائے گئے ، وہ عجلت کیا تھی بتانے سے قاصر تھے ،معیشت کی چابی ہم آئی ایم ایف کے حوالے کررہے ہیں،ہم نے سپیکر اورحکومت سے کہا حقائق تو سامنے رکھے ۔

نجی محفلوں میں وزراء کہتے ہیں ہم آئی ایم ایف کے ہاتھوں مجبور ہیں،آپ مجبور ہیں تو ایسے بل کا دفاع کیوں کررہے ہیں؟کوئی رولز، آئین اور روایات کی پروا نہیں کی گئی ،یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب وزیر اعظم ایوان میں موجود تھے ۔انہوں نے کہا کہ عددی برتری تو ٹیلی فونز نے پوری کردی، کم از کم ایوان میں بحث تو ہوتی ۔شاہدخاقان عباسی نے کہاکہ آئی ایم ایف بھی بات سن لے یہ بلز واپس لئے جائیں گے ،یہ بل آئی ایم ایف کے حق میں ہوسکتا ہے پاکستان کے حق میں نہیں ،6وزیر خزانہ 1997 سے ہر حکومت میں رہے ہیں،وزراء سچ بولنے سے قاصر ہیں ، جو جھگڑا ہوا وہ بھی گیس کی کمی کی وجہ سے ہوا۔رکن قومی اسمبلی خرم دستگیر نے کہاکہ بل کی منظوری عوام کا قتل نامہ تھا جس پر مہر لگائی گئی پہلے عوام کو مہنگائی کا کینسر لگایا پھر گلا ہی کاٹ دیا،عمران خان نے پہلے غریبوں کا گلہ کاٹا اور اب سرنج سے خون نکالا جارہا ہے ۔

آئی ایم ایف کی تابعداری میں بل بھی پاس کیا گیا، سٹیٹ بینک کانام اب سلیو و بینک یعنی غلام بینک رکھ دینا چاہے ۔ عمران خان اور انکے حواری سمجھتے ہیں انہوں نے بل پاس کروایا ہے یہ بل پاس نہیں حقیقت میں انہوں نے اپنی خود کشی کے کاغذ پر دستخط کئے ہیں ،کروڑوں پاکستانیوں کا استحقاق مجروح ہوا ، جنھوں نے ہمیں منتخب کیا ہے عوام کے پوچھنے کا حق بھی غصب کیا گیا ۔مفتاح اسماعیل نے کہاکہ 348 ارب روپے کہاں سے آرہے ہیں؟کیا ضرورت پڑی؟ آئی ایم ایف تو کہتا ہے بجٹ خسار ے کو کم کرو۔ آپ اخراجات کم کرلیتے ، آپ نے ٹیکس لگا دیاکسی بھی حکومت نے سن فلاور اور کنولا سیڈ پر ٹیکس نہیں لگایا تھا ،انہوں نے لگا دیا۔ عمران خان بات کرتے ہیں بچوں میں غذائی قلت ہوگئی ہے ،بچوں کی غذائی قلت والی دوائی پر بھی ٹیکس لگا دیا گیا ۔

احسن اقبال نے کہاکہ 13 جنوری پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن ہے ، 6 ماہ پہلے وزیر خزانہ جنت کی تصویر دکھا رہے تھے ،ایسا کیا ہوا 6 ماہ میں آپ کو عوام کے خون کا آخری قطرہ نچوڑنے کی ضرورت پڑ گئی، یہ قوم کے ساتھ ظلم ہے اور مصیبت ان پر ڈھائی جارہی ہے ،انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا جرم نہیں بلکہ سرنڈر کرنا جرم ہے ،ماضی کی حکومتیں بھی آئی ایم ایف کے پاس گئیں لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا جو اب ہورہا ہے ،یہ حکومت فیل وزیروں کی سرکس ہے ،ایک وزیر اپنی وزارت میں فیل ہو جائے تو اس کو اس سے بھی بڑی وزارت مل جاتی ہے ،23 مارچ کو عظیم الشان عوامی پریڈ ہوگی،حکومت اس پریڈ کا مقابلہ نہیں کرسکتی، منی بجٹ سے 25 ہزار فی گھرانہ اضافی بوجھ ڈالا گیا ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement