آئی ایم ایف سے3ارب ڈالر کا قرضہ منظور:ایک ارب20کروڑ ڈالر کی پہلی قسط فوری جاری،باقی رقم نومبر اور فروری میں ادا ہوگی،متحدہ عرب امارات سے بھی پاکستان کو ایک ارب ڈالر منتقل

آئی  ایم  ایف  سے3ارب  ڈالر  کا  قرضہ  منظور:ایک  ارب20کروڑ  ڈالر  کی پہلی  قسط فوری  جاری،باقی  رقم  نومبر  اور  فروری  میں  ادا  ہوگی،متحدہ  عرب  امارات  سے  بھی  پاکستان کو  ایک  ارب  ڈالر  منتقل

اسلام آباد (خبرنگارخصوصی،مانیٹرنگ ڈیسک، دنیا نیوز )عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کا 3 ارب ڈالرزکا قرض پروگرام منظور کرلیا جبکہ متحدہ عرب امارات سے بھی پاکستان کو ایک ارب ڈالر منتقل کردیئے گئے ۔

 آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے ساتھ سٹینڈ بائے معاہدے کی منظوری دیدی جس کے بعد فوری طور پر ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی پہلی قسط پاکستان کو جاری کردی جائے گی،باقی رقم نومبر اور فروری میں ادا ہوگی ۔اعلامیہ کے مطابق پاکستان کو  طے شدہ اہداف پر سختی سے عمل کر نا ہوگا۔ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان میں معاشی اصلاحاتی پروگرام معیشت کو فوری سہارا دینے کیلئے ہے ، پروگرام سے پاکستان کی معیشت کو اندرونی اور بیرونی عدم توازن دور کرنے میں مدد ملے گی۔آئی ایم ایف نے کہا تین ارب ڈالر قرض پروگرام بیرونی ادائیگیوں میں توازن لائے گا، پاکستان کیلئے بجٹ میں مقررہ اہداف پر عملدرآمد کرنا لازم ہے ، ایکسچینج ریٹ مارکیٹ بیسڈ کرنا ہوگا۔ اعلامیہ میں مزید کہا گیا پاکستان کو سخت مانیٹری پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے ، ادارہ جاتی اور توانائی سیکٹر کیلئے اصلاحات ناگزیر ہیں، ،ایک ارب 80 کروڑ ڈالر کی دو اقساط نومبر اور فروری کے جائزوں کے بعد شیڈول کی جائیں گی۔آئی ایم ایف کے بیان کے مطابق پالیسیوں کا تیز رفتاری سے نفاذ پاکستان اور اس پروگرام کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے ۔ آئی ایم ایف نے توانائی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے سرکلر ڈیٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا حکومت کو توانائی کے شعبے کی مالی حالت میں بہتری لانا ہوگی اور بجلی کی پیداواری لاگت کی بنیاد پر بجلی کے نرخوں کو ایڈجسٹ کرنا ہوگا اور پیداواری لاگت میں کمی کیلئے اقدامات کرنے ہوں گے ، مختلف سیکٹرز کیلئے سبسڈی کے نظام پر بھی نظرثانی کرنا ہوگی۔ آئی ایم ایف نے شرح سود کو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح22فیصد تک لیجانے کے سٹیٹ بینک کے اقدام کو سراہا اور اور کہا اس سے مہنگائی پر قابو پانے میں مدد مل سکے گی جو غریب اور متوسط طبقے کو بری طرح متاثر کر رہی ہے ۔خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ سے جاری بیان میں کہا گیا آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے 9ماہ کے 3ارب ڈالر کے سٹینڈ بائے معاہدے کی منظوری دے دی تاکہ پاکستان کے معاشی استحکام کے پروگرام کو سپورٹ کیا جا سکے ۔اس سلسلے میں کہا گیا اس معاہدے کا انتظام ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب پاکستانی معیشت مشکل حالات سے گزر رہی ہے ، مشکل بیرونی ماحول، تباہ کن سیلاب اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے اسے بڑے مالی،بیرونی خسارے ، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور تیزی سے ختم ہوتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر جیسے مسائل کا سامنا ہے ۔گزشتہ ماہ ہونے والے اس معاہدے کے لیے پہلی قسط کے اجرا سے قبل آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری درکار تھی اور اب پاکستان کو 1.2ارب ڈالر کی پہلی قسط جاری کردی جائے گی جبکہ بقیہ ایک ارب 80 کروڑ ڈالر کی دو اقساط سہ ماہی بنیادوں پر دو جائزوں کے بعد جاری کی جائیں گی۔آئی ایم ایف پروگرام ملکی اور بیرونی عدم توازن دور کرنے کے لیے پالیسی،کثیر الجہتی اور دو طرفہ شراکت داروں کی مالی مدد کے لیے فریم ورک فراہم کرے گا۔بیان میں کہا گیا آئی ایم ایف پروگرام مالی سال 2024کے بجٹ کا مؤثر نفاذ یقینی بنائے گا تاکہ پاکستان کی ضروری مالیاتی ایڈجسٹمنٹس آسان بنائی جا سکیں اور اہم سماجی اخراجات محفوظ بناتے ہوئے قرض کی پائیداریت یقینی بنائی جا سکے ۔اس کے علاوہ بیرونی دباؤ برداشت کرنا، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور مارکیٹ کی بنیاد پر ایکسچینج ریٹ کا تعین بھی پروگرام کا اہم مقصد ہے ۔آئی ایم ایف کی ایم ڈی کرسٹا لینا جارجیوا نے بورڈ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا پاکستانی معیشت کو سال 2022کے تباہ کن سیلاب کے سبب بڑی تباہی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ، اس کے ساتھ اندرونی اور بیرونی دھچکوں نے پاکستان کو نئے چینلوں سے دوچار کر دیا ۔ 3ارب ڈالر کی منظوری کے بعد اگر پاکستان نے اس کے تحت معاشی اصلاحات پر ایمانداری سے عمل درآمد کروایا تو یہ معیشت کو مستحکم بنانے کا سنہرا موقع ثابت ہوگا جس سے اندرونی اور بیرونی ادائیگیوں کا عدم توازن درست کرنے میں مدد مل سکے گی۔واضح رہے معاہدہ کی منظوری ایسے موقع پر دی گئی جب گزشتہ روز ہی سعودی عرب نے پاکستان کو 2ارب ڈالر قرض فراہم کیا تھا۔

دوسری طرف آئی ایم ایف کی جانب سے دوست ممالک سے مطلوبہ فارن فنڈنگ کا پیشگی انتظام کرنے کی شرط پر سعودی عرب کے بعد متحدہ عرب امارات نے بھی1ارب ڈالر سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اکائونٹ میں منتقل کر دئیے ۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈارنے وزارت خزانہ میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا متحدہ عرب امارات (یو اے ای)نے پاکستان کو ایک ارب ڈالرز منتقل کردئیے ہیں ، یو اے ای نے سٹیٹ بینک کے اکائونٹ میں رقم جمع کرائی ہے ،انہوں نے کہا وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور پاکستان کے عوام کی جانب سے یو اے ای کی قیادت کا مشکور ہوں، اس سے ہمارے سٹیٹ بینک کے ذخائر میں بہتری آئے گی،پاکستان کے ڈیفالٹ کی تاریخیں دینے والے اب چپ ہیں اور پاکستان کے ڈیفالٹ پیشنگوئیاں اپنی موت آپ مر چکی ہیں ، اب پاکستان اپنے ترقی کے سفر کی جانب گامزن ہے ، آئی ایم ایف کے قرض پروگرام کی منظوری سے پاکستان کو دیگر عالمی مالیاتی اداروں عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور ایشیائی انفراسٹرکچر سے فنڈنگ مل سکے گی بلکہ پاکستان کو بڑے ممالک کے معاشی گروپس سے بھی کچھ ریلیف ملنے کی توقعات ہیں ،رواں ماہ کے آخر تک زرمبادلہ کے ذخائر 14 سے 15 ارب ڈالر تک پہنچانا ہدف ہے ، وزیراعظم شہباز شریف نے جب اقتدار سنبھالا تو ذخائر تقریباً یہی تھے لیکن قرضوں کی ادائیگیاں بے شمار تھیں، اربوں ڈالر کی ادائیگیاں اپریل 2022 سے لے کر اب تک ہوگئیں اور کوئی تاخیر نہیں ہوئی ، میرا مضبوط ایمان ہے کہ پاکستان دنیا کی اقوام میں وہ مقام ضرور حاصل کرے گا جس کا خواب قائداعظم نے دیکھا تھا اور عملی طور پر نواز شریف کے ادوار میں عمل ہوا،انہوں نے کہاکہ پاکستان 2016 اور 2017 میں دنیا کی 24 ویں معیشت بنا لیکن بدقسمتی سے 5 سال کے سیاسی تماشے میں تنزلی کی وجہ سے پاکستان 47 ویں معیشت بن گیا،انہوں نے کہا کہ ایک امپورٹڈ اور سلیکٹڈ حکومت کو مسلط کیا گیا، اس کے نقصانات ہم نے دیکھے اور اب پاکستان ان نقصانات ختم کر کے بڑی تیزی کے ساتھ اپنی اصل منزل ترقی کی طرف جا رہا ہے ۔علاوہ ازیں آئی ایم ایف پروگرام کی منظوری کے بعد وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا اللہ کا شکر ہے چیزیں درست سمت میں جا رہی ہیں جس کے لیے ہم کئی مہینوں سے کوشش کر رہے تھے اور مشکل مذاکرات تھے ، وزیراعظم نے کچھ ماہ پہلے سعودی عرب،یو اے ای ،چین کا دورہ کیا تھا۔ ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کوشش ہے کہ حکومت کی مدت پوری ہونے تک زرمبادلہ ذخائر 14سے 15 بلین کے درمیان ہوں،سٹیٹ بینک کے ذخائر 9 سے 10 ارب ڈالر کے درمیان ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا آئی ایم ایف معاہدہ کی خلاف ورزی کرنے کا سوچنا بھی زیادتی ہوگی،سابق حکومت کی آئی ایم ایف معاہدے کی خلاف ورزی کی ملک نے قیمت ادا کی،کوئی وجہ نہیں کہ نگران حکومت یہ پروگرام کامیابی سے مکمل نہ کرسکے ۔

 اسلام آباد (اے پی پی،خصوصی رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک،دنیا نیوز)وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے ہماری حکومت کی مدت 14 اگست کو ختم ہوجائے گی اس کے بعد جب بھی الیکشن ہوتے ہیں اکتوبر یا نومبر میں الیکشن کمیشن نے اس کا اعلان کرنا ہے ،آئی ایم ایف قرضہ لمحہ فخریہ نہیں لمحہ فکریہ ہے ،یہ پروگرام حلوہ اور کھیر نہیں ، بڑا سخت پروگرام ہے ، آئی ایم ایف نے اکانومی جکڑ کر رکھی ہوئی ہے ، پاکستان اپنا کھویا ہوا مقام حاصل   کر کے رہے گا، فلسطینیوں کا خون بہانے والا اسرائیل کہتا ہے پاکستان میں ظلم اور زیادتی ہو رہی ہے ،پہلے وہ اپنے گریبان میں جھانکے ،9 مئی ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا ، ذمہ داروں کیخلاف آئین ، قانون کے مطابق کارروائی ہو رہی ہے ،اسٹیبلشمنٹ نے سب سے زیادہ دھاندلی زدہ انتخابات کے ذریعے ایک شخص کو اقتدار میں بٹھایا جو پاکستان دشمنی پر اترا ہوا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں پاکستان ایجوکیشن انڈوومنٹ فنڈ اور قومی نصاب میں اصلاحات کے آغاز ،چھٹے پاکستان فارماسسٹ سمٹ ایوارڈ اور شاہین چوک فلائی اوور کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انڈوومنٹ فنڈکی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا ہم نے قوم کے کروڑوں بچوں اور بچیوں پر اپنے مالی وسائل خرچ نہ کیے تو یہ سفر ادھورا رہے گا، رواں سال 14 ارب روپے انڈوومنٹ فنڈ کے لئے مختص کیے گئے ہیں جو اگرچہ کم ہیں لیکن ہماری مالی مشکلات بہت زیادہ ہیں۔انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو معدنی اور دیگر قدرتی وسائل سے نوازا ہے ، مشکل دور بہت جلد گزر جائے گا اور پاکستان ایک مستحکم ملک بنے گا۔ان کا کہنا تھا لاکھوں ایسی بچیاں ہیں جن کے پاس وسائل نہیں لیکن وہ ڈاکٹر، انجینئر بن کر اپنے خاندان اور ملک کانام روشن کرنے کا عزم رکھتی ہیں، جو علاقے ترقی کی دوڑ میں پیچھے ہیں ان پر توجہ دی جانی چاہیے ۔انہوں نے کہا میں آپ کو یقین دلاتا ہوں ہماری حکومت کی مدت 14 اگست کو ختم ہوجائے گی اس کے بعد جب بھی الیکشن ہوتے ہیں، اکتوبر نومبر میں الیکشن کمیشن نے اس کا اعلان کرنا ہے ، میری دعا ہے آئندہ عوام کے ووٹوں سے جو بھی حکومت آئے ، وہ تعلیم کو اولین ترجیح دے ، اس کے بغیر ملک میں اندھیرے رہیں گے ، اس کے بغیر ملک آگے نہیں چلے گا۔وزیراعظم نے کہا قرض پروگرام لمحہ فخریہ نہیں ہے ، یہ لمحہ فکریہ ہے ، یہ شادیانے بجانے والی بات نہیں ہے ، یہ حکومت وقت، سیاستدانوں، جرنیلوں اور ججز سمیت زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ جن کی قسمت میں اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ وہ اپنی کوششوں سے ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں، یہ ان سب کے لیے اور میرے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ کیا وجہ ہے کہ ہمسایہ ممالک ہم سے بہت آگے چلے گئے جب کہ ایک زمانہ تھا کہ ہم ان کے ساتھ مقابلہ کرتے تھے ۔ان کا کہنا تھا یہ ایسی تکلیف ہے رات کو بھی نیند نہیں آتی لیکن قوموں پر جب تکلیف و مشکلات آتی ہیں تو پھر وہ اپنی کمر کستی ہیں اور فیصلہ کرتی ہیں کہ ہم نے حالات و مشکلات کا مقابلہ کرنا ہے اور اپنا کھویا مقام حاصل کرکے رہیں گے ۔ان کا کہنا تھا آج ہم پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے جگہ جگہ جا کر ادھار مانگ رہے ہیں، آئی ایم ایف کی منتیں کر رہے ہیں، زندگی بسر کرنے کا یہ طریقہ نہیں ہے ، اصل آزادی وہی ہے جو معاشی آزادی ہے ۔

انہوں نے کہا چین ہمارا بہت اچھا دوست ہے ، مشکل کی اس گھڑی میں جس طرح سے چین نے ہمارا ہاتھ تھاما، نہ میں ان کا شکریہ ادا کرسکتا ہوں، سعودی عرب نے 2 ارب ڈالر خزانے میں جمع کرائے ۔ ہم ان کے شکر گزار ہیں لیکن یہ زندگی گزارنے کا طریقہ نہیں ہے ، ہمیں اس کو بدلنا ہوگا، اس کو بدلنے کا راستہ تعلیم کا راستہ ہے  تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت رانا تنویر حسین نے کہا کہ ملک میں پہلی مرتبہ وفاقی حکومت نے تمام وفاقی اکائیوں کے اتفاق رائے سے قومی نصاب کی تیاری کا عمل مکمل کیا ، درسی کتب بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کرنے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں، بہبود تعلیم فنڈ کے ذریعے ضرورت مند طلبا کو وظائف دئیے جائیں گے ،۔چھٹے پاکستان فارماسسٹ سمٹ ایوارڈز کی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے شہباز شریف نے کہا ہے حکومت فارما صنعت کی بہتری اور استحکام کیلئے بھرپور انداز میں کوشاں ہے ، زندگی بچانے والی ادویات سے متعلق موثر لائحہ عمل وضع کرنا چاہئے ۔اس موقع پر پاکستان کی ادویات برآمد کرنے والی 50 بڑی کمپنیوں کو ایوارڈز د ئیے گئے ۔ وزیراعظم نے کہا یہ ہر حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرے ، پاکستان میں ادویات کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے قیمتوں میں اضافہ سے اس کا اثر براہ راست غریب افراد پر پڑتا ہے ،میں اپنی ٹیم، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر صحت، وزیر تجارت، وزیر صنعت و پیداوار کا شکرگزار ہوں جنہوں نے فارما انڈسٹری سے متعلقہ ذمہ داروں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے مسائل کو حل کیا۔ انہوں نے انڈسٹری سے کہا کہ وہ غریب کیلئے جان بچانے کی ادویات کی قیمتوں کا خیال رکھیں، حکومت آپ کے مطالبات پورے کرے گی۔ شہباز شریف نے کہا دنیا میں کسی بھی چیلنج کے ساتھ مشکلات ہوتی ہیں،آئی ایم ایف نے اکانومی کو جکڑ کر رکھا ہوا ہے ۔بعد ازاں اسلام آباد کے شاہین چوک فلائی اوور کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا تحقیق کرکے ووٹ دیں ہم اس کو تسلیم کریں گے ، پاکستان ضرور اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرے گا، انتخابات کے نتیجے میں اگر ہم حکومت میں ہوں گے تو ہم نواز شریف کی قیادت میں ملک سے غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے جانیں لڑا دیں گے ، اگر عوام نے کسی اور پارٹی کو ووٹ دیا تو ہم اس کا احترام کریں گے اور پارلیمان میں اپنا کردار ادا کریں گے ، یہی ہماری سوچ ہے ۔شہباز شریف نے کہا کہ آئی ایم ایف کا پروگرام ہمارے لیے کوئی حلوہ اور کھیر نہیں ہے بلکہ یہ ایک بڑا سخت پروگرام ہے ، جس کو ہم نے مجبوراً اپنایا۔ان کا کہنا تھا آج ہماری اجتماعی کاوشوں اور خلوص نیت کی بدولت ریاست بچ گئی ہے اور اب جو معاشی ترقی کی بحالی کا پروگرام سامنے آچکا ہے ۔ حکومت پاکستان، صوبائی حکومتیں، تمام ادارے ، افواج پاکستان اس پروگرام میں شریک ہیں، اس کی بدولت پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑا ہوجائے گا۔شہباز شریف نے کہا ایک شخص جس کو اسٹیبلشمنٹ نے اقتدار میں بٹھایا، ایسے انتخابات کے نتیجے میں جو پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ دھاندلی زدہ تھے ،4 برسوں میں جو کچھ ہوا سب کے سامنے ہے ۔

ان کا کہنا تھا گزشتہ دور میں 190 ملین پاؤنڈ کا ڈاکا مارا گیا ، اب تو وہ لوگ بھی بولنا شروع ہوگئے ہیں، جو اس زمانے میں عمران خان کے اشارے پر ناچتے تھے اور دن رات سب کو چور ڈاکو کہہ کر پوری اپوزیشن کو جیل بھجوا دیتے تھے ۔انہوں نے کہا 190 ملین پاؤنڈ پاکستان کے خزانے میں آنا چاہیے تھے لیکن سپریم کورٹ کے اکائونٹ میں گئے ، سپریم کورٹ حکومت ہے یا حکومت پاکستان حکومت ہے ، سپریم کورٹ انصاف دینے والا ایک ادارہ ہے ، اس کے اکاؤنٹ میں پیسے جانے کی کیا وجہ ہے ، وہ پیسہ تو پاکستان کے خزانے میں آنا چاہیے تھا۔شہباز شریف نے کہا بدقسمتی سے 9 مئی کا واقعہ ہوا اور کل آپ نے اسرائیل کا بیان سنا ہوگا جس کی پوری قوم بھرپور مذمت کرتی ہے ، اسرائیل فلسطینی مسلمانوں کا خون بہا رہا ہے ، دن رات راکٹ برستے ہیں، نہتے مسلمان آسمان کی طرف دیکھتے ہیں، ظلم کی انتہا کردی جس کی حالیہ تاریخ میں مثال نہیں ملتی اور وہی اسرائیل کہتا ہے پاکستان میں ظلم زیادتی ہو رہی ہے غلط مقدمات بنا رہے ہیں وہ بند ہونے چاہئیں۔انہوں نے کہا اسرائیل کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے ، اگر 9 مئی کا واقعہ اسرائیل میں ہوتا تو وہ خود وہاں کیا تباہی مچاتا، یہاں آئین اور قانون کے مطابق کارروائی کی جارہی ہے ۔اگر یہی بات تھی تو کیپٹل ہل میں جو ہوا اور اس کے نتیجے میں جو سزائیں دی گئیں اسرائیل نے اس کے بارے میں کیوں بات نہیں کی۔ان کا کہنا تھا یہ ہے وہ سازش جس کے تانے بانے کہاں کہاں ملتے ہیں، 9 مئی کو تاریخ کی بدترین حرکت پر آئین اور قانون اپنا راستہ اپنا رہا ہے تو ان کے پیٹ میں کیوں درد اٹھ رہا ہے ۔اپنے ٹویٹ میں وزیر اعظم نے آئی ایم ایف سے قرض معاہدہ منظور ہونے پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزارت خزانہ کی ٹیم اور ایم ڈی آئی ایم ایف اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا ۔انہوں نے کہا کہ یہ سنگِ میل جو سخت ترین مشکلات اور بظاہر ناممکن نظر آنے والی ڈیڈ لائن کے خلاف حاصل کیا گیا، ٹیم کی بہترین کوششوں کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ وزیراعظم نے لکھا ایگریمنٹ کی منظوری معیشت کے استحکام اور میکرو اکنامک استحکام کے حصول کے لیے حکومت کی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت ہے ۔ شہباز شریف نے یواے ای سے ایک ارب ڈالر جمع ہونے پر بھی اظہا رتشکر کیا ہے ۔ وزیراعظم نے کہا صدر یو اے ای کے شکرگزار ہیں، مشکل گھڑی میں برادر ملک یو اے ای ہمیشہ پاکستان کی مدد میں آگے بڑھا۔ شہباز شریف نے بدھ کو ازبکستان کے صدر شوکت مرزیوئیف سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔دونوں رہنمائوں نے علاقائی ترقی کو تیز کرنے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا اور توانائی، رابطے ، زراعت، آئی ٹی، ٹیکسٹائل اور لاجسٹکس کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔وزیر اعظم نے ازبک صدر کو 9 جولائی 2023 کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں دوبارہ منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں