آئی ایم ایف وفد کی آج پاکستان آمد،بڑا اور طویل قرض پروگرام لینے کی تیاریاں
اسلام آباد(نمائندہ دنیا)پاکستان نے آئی ایم ایف سے ملکی تاریخ کا بڑا اور طویل مدت پروگرام لینے کی تیاریاں کرلیں ، آئی ایم ایف کے ساتھ نئے قرض پروگرام اور 1.1 ارب ڈالر کی قسط کے حصول کیلئے مذاکرات کا آغاز کل جمعرات سے ہو گا، نیتھن پورٹر کی قیادت میں 9 رکنی آئی ایم ایف وفد آج پاکستان پہنچ جائے گا ۔
وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑااور طویل مدت کا پروگرام لینا چاہتے ہیں، پاکستان اپنے کوٹہ کے حساب سے بڑا پروگرام لینے کی کوشش کرے گا، ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن کے ساتھ 30 میٹنگز شیڈول ہیں ۔وزارت خزانہ، وزارت توانائی، وزارت پٹرولیم، اسٹیٹ بینک، ایف بی آر، وزارت منصوبہ بندی، بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام، اوگرا، نیپرا سمیت متعلقہ وزارتوں سے مذاکرات کے شیڈول طے ہو چکے ہیں، اقتصادی جائزہ مذاکرات میں اداروں کی رواں مالی سال کے دوران کی کارکردگی کا جائزہ اور آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بھی بات چیت ہو گی، مذاکرات سے قبل وزارت خزانہ نے تمام وزارتوں کی کارکردگی رپورٹ آئی ایم ایف کو ارسال کر دی ،آئی ایم ایف شرائط پر عملدرآمد ہونے کے باعث مذاکرات کامیاب ہونے کا قومی امکان ہے ۔ دستاویز کے مطابق آئی ایم ایف کے دوسرے اقتصادی جائزہ سے قبل عائد 26 میں سے 25 شرائط پر عملدرآمد کیا گیا، وزارت خزانہ کے ذرائع نے دنیا نیوز کو بتایا کہ حکومتی ملکیتی اداروں کے قانون میں ترمیم اور عملدرآمد کرنے کی شرط پوری نہ ہو سکی، نیشنل ہائی وے اتھارٹی، پاکستان پوسٹ، پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن اور پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے قوانین میں ترمیم نہ ہو سکی جس کے باعث شرط پر عملدرآمد باقی ہے ، رپورٹ میں بتایا گیا آئی ایم ایف کی مرکزی بینک سے گورنمنٹ کیلئے قرض حاصل نہ کرنے اور بیرونی ادائیگیاں بروقت ادا کرنے کی شرط پوری کی گئی ہے ، اسی طرح دیگر شرائط یعنی ٹیکس محصولات اور ریفنڈ ادائیگیوں سمیت پاور سیکٹر کے بقایاجات کو بروقت کلیئر کیا گیا، آئی ایم ایف کی ٹیکس استثنیٰ اور ٹیکس ایمنسٹی نہ دینے کی شرط پر بھی مکمل عملدرآمد کیا گیا جبکہ انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ کے درمیان کرنسی ایکسچینج میں 1.25 فیصد کے ریٹ پر عملدرآمد جاری ہے ۔
شرائط پر عملدرآمد کرتے ہوئے پاکستان نے بجلی نرخوں کی ری بیسنگ اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی شرط پر بروقت عملدرآمد کیا ، توانائی شعبے کا گردشی قرضہ کنٹرول کرنے کے اقدامات اور پرائمری بیلنس سرپلس ہدف حاصل کرنے کیلئے آئی ایم ایف کی شرط پر عملدرآمد جاری ہے ، ذرائع کے مطابق اہداف پر عملدرآمد بارے رپورٹ کا جائزہ آئی ایم ایف مشن کی پاکستان آمد سے قبل مکمل کر لیا گیاہے ، نئی منتخب حکومت کے ساتھ موجودہ قرض پروگرام کیلئے اقتصادی جائزہ کامیاب ہونے پر پاکستان کو 1.1 ارب ڈالر کی آخری قسط ملے گی، نگران حکومت نے قرض پروگرام کے تحت آئی ایم ایف کے تمام اہداف حاصل کیے ہیں ۔نگران حکومت کی کارکردگی کی وجہ سے منتخب حکومت کو بات چیت میں آسانی ہوگی، مشن کے ساتھ نئے قرض پروگرام پر بھی بات چیت کا آغاز ہو گا۔ ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب 15سے 20 اپریل تک امریکا کا دورہ کریں گے ، وزیر خزانہ واشنگٹن میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سالانہ وزارتی اجلاس میں شرکت کریں گے ۔
دستاویز کے مطابق آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے وزارتی اجلاس 17 سے 19 اپریل تک شیڈول ہیں، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اجلاسوں میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے جس میں گورنر سٹیٹ بینک، سیکرٹری خزانہ اور سینئر حکام شریک ہوں گے ۔ دورہ واشنگٹن کے دوران آئی ایم ایف حکام سے نئے قرض پروگرام اور عالمی بینک سے فنڈنگ بڑھانے پر بات چیت ہو گی۔ علاوہ ازیں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام میں تسلسل رہے گا تو معاشی نظم و ضبط رہے گا۔ معیشت کی بہتری آئی ایم ایف سے زیادہ ہماری حکومت کا ہدف ہے ، وزیراعظم شہباز شریف معیشت کی بہتری کے لیے کلیئر وژن رکھتے ہیں، وزیراعظم نے معاشی نظم و ضبط قائم رکھنے کی سخت ہدایت کی ہے ، آئی ایم ایف سے موجودہ قرض پروگرام کی آخری قسط میں کوئی رکاوٹ نہیں، آئی ایم ایف نے موجودہ قرض پروگرام کی آخری قسط میں 1.1 ارب ڈالر دینے ہیں، آئی ایم ایف نئے قرض پروگرام کا ابتدائی خاکہ تیار کر رہے ہیں، وزیر خزانہ نے کہا کہ معاشی استحکام آئی ایم ایف اور حکومت پاکستان کا مشترکہ ہدف ہے ، معیشت کی بہتری کیلئے نگران حکومت نے توجہ سے کام کیا، سابق وزیر نجکاری نے بڑی دلچسپی اور محنت سے نجکاری پروگرام کیلئے معاملات کو آگے بڑھایا، وزیرخزانہ نے کہا کہ ٹیکس آمدن کو ڈیجیٹل طریقے سے جمع کرنا چاہتے ہیں، ٹیکس نظام میں شفافیت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ۔