خیبرپختونخوا:سیلابی ریلے بستیاں بہالے گئے،250جاں بحق،سینکڑوں لاپتہ:امدادی ہیلی کاپٹر بھی گر کر تباہ،آج صوبے میں یوم سوگ

خیبرپختونخوا:سیلابی ریلے بستیاں بہالے گئے،250جاں بحق،سینکڑوں لاپتہ:امدادی ہیلی کاپٹر بھی گر کر تباہ،آج صوبے میں یوم سوگ

پشاور، اسلام آباد، ایبٹ آباد (دنیا نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوز ایجنسیاں ،سٹاف رپورٹر،نامہ نگار، خصوصی نیوز رپورٹر، نمائندہ خصوصی) خیبر پختونخوا میں شدید بارشوں، کلاؤڈ برسٹ ،لینڈ سلائیڈنگ اورسیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی ،سیلابی ریلے بستیاں بہا لے گئے۔

 250سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے ، سینکڑوں افراد لاپتہ اور زخمی ہوگئے ، صرف بونیر سے 157لاشیں برآمد کرلی گئیں ،خیبرپختونخوا حکومت کا ہیلی کاپٹر امدادی کارروائی کے دوران کریش ہو گیا جس سے 5 افراد شہید ہوگئے ،صوبائی حکومت کا آج صوبہ بھر میں سوگ منانے کا اعلان ، وزیراعلیٰ پختونخوا کی ہدایت پر متاثرہ اضلاع کیلئے 50 کروڑ روپے کے امدادی فنڈز جاری کر دیئے گئے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین این ڈی ایم اے کو متاثرین سیلاب کیلئے فوری اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کردیں، شہباز شریف نے گورنر اور وزیراعلیٰ پختونخوا کو فون بھی کیا۔ادھر پاک فوج نے بھی متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن شروع کردیا جبکہ سیلاب متاثرین کو ایک دن کی تنخواہ بھی دی جائے گی،600 ٹن راشن اور خصوصی ریسکیو ٹیمیں اور اضافی فوجی دستے روانہ کر دیئے گئے ، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کور آف انجینئرز کو پلوں کی فوری مرمت کی ہدایت کردی۔تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں بونیر، بٹگرام، باجوڑ ، مانسہرہ ،سوات میں کلاؤڈ برسٹ ،سیلابی ریلوں ،لینڈ سلائیڈنگ اور آسمانی بجلی گرنے کے واقعات نے تباہی مچا دی، سینکڑوں گھر صفحہ ہستی سے مٹ گئے ۔ضلع بونیر میں سیلاب کئی گاؤں بہا لے گیا، 157 افراد جان کی بازی ہار گئے ، سینکڑوں لاپتہ ہیں،جاں بحق افراد میں 9 خواتین ، 128 مرد اور 13 بچے بھی شامل ہیں۔

ڈپٹی کمشنر بونیر کاشف قیوم نے کہا ہے کہ بونیر کے علاقوں گوکند اور پیربابا سمیت دیگر مقامات پر سیلابی صورتحال ہے ،مختلف علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی، کئی شہری گھروں کے چھتوں پر امداد کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بونیر پیربابا میں جس طرح نوجوانوں نے جان پر کھیل کر پنجاب سے آئی فیملی کی جان بچائی اس کی مثال نہیں ملتی۔ ریسکیو 1122 کے میڈیا کوآرڈینیٹر محمد سہیل کے مطابق اب تک 157 سے زائد لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ 100 سے زائد افراد کو بچا کر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا،صورتحال نہایت سنگین ہے اور متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشنز جاری ہیں ۔ضلع بونیر کی تحصیل گدیزی کے بیشونی، ملک پور، بلوخان اور قریبی علاقے ، تحصیل ڈگرکے گوکند، کوٹ سمیت متعدد مقامات اور تحصیل چغرزئی کے گل باندی، درگہ چینہ سمیت دیگر مقامات سیلاب کی زد میں ہیں ۔

تحصیل گدیزی میں 120 سے زائد لاشیں ،تحصیل ڈگر میں 15 لاشیں برآمد ہو چکیں، تحصیل چغرزئی میں ایک ہی گھر کے 22 افراد ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوئے جبکہ متعدد زخمی ہیں، جنہیں ٹی ایچ کیو ہسپتال گل باندی منتقل کر دیا گیا ۔جبکہ ضلع باجوڑ کی تحصیل سالارزئی کے علاقے جبراڑئی میں گزشتہ رات سیلابی ریلے سے کئی گھر تباہ ہو گئے ، رابطہ سڑکیں اور پل پانی میں بہہ گئے ۔ ڈپٹی کمشنر باجوڑ شاہد علی نے بتایا کہ سلارزئی میں بادل پھٹنے اور آسمانی بجلی گرنے سے 75 افراد جاں بحق ہو چکے ، 18 کی لاشیں برآمد کر لی گئیں ، دیگر کی تلاش جاری ہے ۔ جاں بحق افراد میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں ، ریسکیو ٹیمیں بھاری مشینری کے ذریعے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔مزید برآں لوئر دیر کی تحصیل میدان سوری میں رہائشی مکان کی چھت اچانک زمین بوس ہو گئی، ملبے تلے دب کر 5 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے ۔ ادھر پختونخوا حکومت کا ایم آئی 17ہیلی کاپٹر باجوڑ میں امدادی سامان لے جاتے ہوئے خراب موسم کے باعث ضلع مہمند کی تحصیل سوکئی بانڈہ میں کریش کر گیا جس کے نتیجہ میں 2 پائلٹوں سمیت عملہ کے 5 افراد شہید ہوگئے ۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے حادثہ کی تصدیق کر تے ہوئے کہا ہے کہ کے پی حکومت کا دوسرا ہیلی کاپٹر ضلع بونیر میں ریسکیو کارروائیوں میں مصروف ہے ،صوبہ بھر میں آج(بروز ہفتہ )یوم سوگ ہو گا، شہداء کی میتوں کو پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا جائے گا ، ہیلی کاپٹر عملے نے دوسروں کی جانیں بچانے کے لئے اپنی جانیں قربان کردیں، یہ ہمارے اصل ہیرو ہیں ۔اپنے ویڈیو بیان میں وزیراعلیٰ پختونخوا نے مزید کہا ہے کہ ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژنز میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں ، نقصانات کا مکمل ازالہ کیا جائے گا،مشکل کی اس گھڑی میں صوبائی حکومت عوام کے ساتھ کھڑی ہے ۔علاوہ ازیں ہیلی کاپٹرحادثے کی ابتدائی رپورٹ صوبائی حکومت کو موصول ہو گئی ہے جس کے مطابق ہیلی کاپٹرصبح10بج کر30منٹ پرباجوڑسلارزئی کے لیے روانہ ہوا، امدادی کارروائیوں سے واپسی پر ہیلی کاپٹر مہمند میں خراب موسم اور شدید دھند کے باعث حادثہ کا شکار ہوا،ہیلی کاپٹرکوتلاش کرنے کے لیے ڈرون کیمروں کوبھی استعمال کیا گیا، حادثہ کی تصدیق4 بج کر 45منٹ پرہوئی ۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ سرکاری ہیلی کاپٹر کا بلیک باکس تاحال نہیں مل سکا ، حادثہ کی وجوہات جاننے کے لیے بنائی گئی تحقیقاتی ٹیم آج جائے وقوعہ کا دورہ کرے گی۔ دریں اثنائچیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ضلع بونیر میں پورے کے پورے گاؤں بہہ گئے ،وفاقی و صوبائی حکومت تعاون کریں ۔

گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی نے وفاق کے تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وقت سیاست کا نہیں ، وفاق صوبائی حکومت کے ساتھ ہے ۔ صدرِ مملکت آصف علی زردای نے ہیلی کاپٹر حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہید پائلٹس اور اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیاہے ، انہوں نے کہا حادثے میں شہید ہونے والے قوم کے ہیرو ہیں ۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایت پر صوبائی حکومت نے بونیر کو 15 کروڑ،باجوڑ،بٹگرام اور مانسہرہ کو 10، 10کروڑ اور سوات کو 5 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کر دیئے ہیں۔دوسری طرف سوات اور باجوڑ میں پاک فوج اور فرنٹیئر کور کا فلڈ ریلیف آپریشن بھی جاری ہے ، پاک فوج کی ٹیمیں متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں ، آئی جی ایف سی نارتھ کا ہیلی کاپٹر بھی امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہے ، سیلاب زدہ علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل بھی کیا جارہا ہے ۔ راشن اور ادویات کی فراہمی بھی بذریعہ ہیلی کاپٹر کی جا رہی ہے ۔ علاوہ ازیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خیبر پختونخوا میں سیلاب متاثرہ عوام کی بحالی کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق انہوں نے صوبے میں تعینات فوج کو متاثرین کی مدد میں بھرپور تعاون کی تاکید کی ، اضافی فوجی دستے بھی بھیجے جا رہے ہیں۔ پاک فوج نے اپنی ایک دن کی تنخواہ اور تقریباً 600 ٹن راشن بھی سیلاب متاثرین کے لیے وقف کر دیا ۔ آرمی چیف نے کور آف انجینئرز کو پلوں کی فوری مرمت اور جہاں ضرورت ہو عارضی پل بنانے کی ہدایت دی ہے ، ریسکیو آپریشنز کیلئے نائن یونٹ کی سپیشل سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم، سگنلنگ ڈاگ یونٹ اور ہیلی کاپٹر پہلے ہی تعینات ہیں۔ سوات اور باجوڑ میں پاک فوج کا فلڈ ریلیف آپریشن جاری گزشتہ روز جاری رہا ،پاک فوج کا سوات اور باجوڑ میں سیلابی صورت حال سے متاثرہ اضلاع میں فلڈ ریلیف آپریشن کے ذریعے متاثرہ افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا،پاک فوج کی ٹیمیں سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف رہیں،سیلاب زدہ علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے ،باجوڑ میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے لوگوں کو ریسکیو کیا گیا،راشن اور ادویات کی فراہمی بھی بذریعہ ہیلی کاپٹر کی جاتی رہیں، لوگوں نے پاک فوج کی ٹیموں کے آتے ہی پاک فوج زندہ باد کے نعرے بلندکیے ۔ جبکہ مشیر صحت خیبر پختونخوا احتشام علی کی خصوصی ہدایت پر صوبے کے سیلاب اور شدید بارش سے متاثرہ اضلاع میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے ۔ متاثرہ اضلاع میں بونیر، سوات، مانسہرہ، باجوڑ، مہمند اور ایبٹ آباد شامل ہیں جہاں حالیہ شدید بارشوں، لینڈ سلائیڈز اور فلیش فلڈز کے باعث جانی و مالی نقصان ہوا ہے ۔

تمام اضلاع میں صحت کے عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ ادھر بٹگرام اور مانسہرہ کے سرحدی گاؤں نیل بند میں رات گئے طوفانی بارش ،آسمانی بجلی گرنے اور سیلابی ریلے میں 18افراد جاں بحق ہو گئے ، 4 گھر بہہ گئے ۔اسسٹنٹ کمشنر بٹگرام محمد سلیم خان کے مطابق 26 افراد لاپتہ ہیں،اب تک 12 افراد کو زندہ بچا لیا گیا ۔ مقامی افراد، ریسکیو اہلکار، ریونیو عملہ اور الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکار ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ ملکال گلی کے مقامی رہائشی نور قدیم شاہ کے مطابق دیہاتیوں نے دودھ پتی اور تھوہر کے علاقوں سے 9 لاشیں نکالی ہیں، 15 مویشی بھی ہلاک ہوئے ہیں ۔ سیلابی ریلے سے شملائی مندروالی کے مقام پر اب تک 10 لاشیں ندی سے برآمد کر لی گئیں ۔ بٹگرام کلاؤڈ برسٹ میں بہہ جانے والے 13 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں، دیگر لاپتہ افراد کی تلاش کیلئے آپریشن جاری ہے ، 21 افراد کلاوڈ برسٹ کی نذر ہوئے تھے ، واقعہ ضلع مانسہرہ اور بٹگرام کے سرحدی علاقے ڈھیری حلیم میں پیش آیا۔

بدقسمت خاندان کے افراد کی تصدیق رشتہ داروں کے ذریعے ہوئی، ان میں جہانزیب ولد ایوب، ارشاد ولد ایوب، مسماۃ نواب جان زوجہ یوسف، مہر النسا زوجہ جانس، سائرہ زوجہ زاہد، افتخار ولد جانس، فاطمہ زوجہ وسیم، وسیم ، ثمینہ زوجہ ارشاد، عظمیٰ دختر جانس، حلیمہ دختر جانس، سہیل ولد جہانزیب، انیس ولد جہانزیب، عبداللہ ولد ارشاد، ایان ولد ارشاد، صوفیان ولد ارشاد، ذیشان ولد جانس، خدیجہ دختر عمران، حفصہ دختر جانس اور نورین زوجہ جہانزیب شامل ہیں ، لاشیں دریائے نندھیاڑ سے شملائی علاقے میں برآمد ہوئیں۔ ان میں تین افراد مہمان تھے ۔ ضلع مانسہرہ کے علاقے بسیاں میں سیلابی ریلے میں ایک کار بہہ گئی جس میں سوار 6 افراد میں سے 3 جاں بحق ہو گئے جبکہ 3 کو زندہ بچا لیا گیا۔تھانہ گڑھی حبیب اللہ کی حدود خیرآباد میں بارش کے باعث ایک مکان گرنے سے ماں بیٹی جاں بحق ہو گئیں جبکہ ایک کمسن بچی کو ملبے سے زندہ نکال لیا گیا ، دیگر متاثرہ علاقوں میں بھی ریسکیو کارروائیاں کی گئیں۔ پولیس کے مطابق علاقے میں کئی مکانات تباہ اور بڑی تعداد میں مال مویشی سیلابی ریلے میں بہہ گئے ہیں ۔

سوات کے مختلف علاقوں میں دریاؤں اور برساتی نالوں میں طغیانی آ گئی اورپانی گھروں میں داخل ہو گیا، اسلام پورہ روڈ شگئی میں متعدد گاڑیاں برساتی پانی میں پھنس گئیں، شگر میں گلیشیئر پگھلنے سے سیلاب کے باعث متعدد دیہات متاثر ہو گئے ، ریلے میں بہہ کر ایک نوجوان سمیت 10 افراد جاں بحق جبکہ 13 افراد زخمی ہوئے ، مختلف سکولوں میں پھنسے 900 بچوں کو اور گھروں میں محصور خواتین کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے ۔علاوہ ازیں شاہی اور شاہی کوٹ میں ندی نالیوں میں طغیانی سے درجنوں سیاح پھنس گئے ، اطلاع ملنے پر لوئر دیر اور اپر دیر کی ریسکیو ٹیم نے 25 سے زائد پھنسے سیاحوں کو بحفاظت ریسکیو کر لیا۔ڈپٹی کمشنر سوات کے مطابق مالم جبہ روڈ کا 400 میٹر حصہ گل میرہ کے مقام پر سیلابی ریلے میں بہہ گیا، مکانباغ اور ملابابا کے علاقے زیر آب آگئے جس کے باعث لوگوں نے عمارتیں خالی کر دیں۔مینگورہ خوڑ، ہزارہ خوڑ، خوازہ خیلہ سمیت دیگر مقامات میں طغیانی کے بعد ضلعی انتظامیہ کی جانب سے متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا گیاہے ۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق مینگورہ شہر، تحصیل چارباغ، خوازہ خیلہ، مدین، کبل اور بریکوٹ میں سیلابی صورتحال ہے ۔

سوات سیدو شریف روڈ پر پانی کی سطح میں اضافہ سے دریا کنارے آبادی میں پانی داخل ہوگیا۔منگلور کے علاقے بیش بنڑ یخ تنگے میں آسمانی بجلی گر گئی جس میں کئی گھر زد میں آگئے ، آسمانی بجلی گرنے سے ایک بچی جاں بحق اور متعدد افراد لاپتا ہیں۔منڈا ہیڈ کے قریب دریائے سوات میں پھنسے ہوئے 15 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کے مطابق محصور افراد لکڑیاں، مچھلیاں اور جانوروں کا چارہ کاٹنے کے لیے دریا کے قریب گئے تھے لیکن دریائے سوات میں اچانک طغیانی اور پانی کا بہاؤ تیز ہونے کی وجہ سے 15 افراد پھنس گئے ۔ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے کامیاب ریسکیو آپریشن کرکے تمام محصورین کو بحفاظت نکال لیا۔ علاوہ ازیں بونیر، باجوڑ، مانسہرہ اور بٹگرام کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے ۔ دوسری طرف آزادکشمیر میں طوفانی بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے 9 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہوگئے ہیں، متعدد پل، رابطہ سڑکیں اور مکانات تباہ ہو گئے ، وادی نیلم میں کلاؤڈ برسٹ سے 6 رابطہ پل اور گیسٹ ہاؤسز بہہ گئے جبکہ سینکڑوں سیاح محصور ہو گئے ،رتی گلی جانے والی سڑک مختلف مقامات پر بہنے سے بیس کیمپ میں پھنسے 800 سیاحوں کو ریسکیو کرلیا گیاہے ، لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کشمیر کو راولپنڈی سے ملانے والی شاہراہ کوہالہ اور شاہراہ نیلم بھی متعدد مقامات پر بند ہے ، سری نگر مظفرآباد سیکشن متعدد مقامات اور لیپہ مظفرآباد شاہراہ مٹی کی تودے گرنے سے بند ہوگئی۔

گلگت بلتستان میں بھی سیلابی ریلوں سے مختلف وادیوں میں تباہی مچ گئی، چلاس کے اوچھار نالے میں کئی افراد بہہ گئے ۔بارش کے باعث فصلیں، مکانات، باغات، رابطہ پل اور واٹر چینلز تباہ ہوگئے ۔ استور میں سیلاب سے تیار فصلیں، دکانیں، درخت اور کئی موٹرسائیکلیں بہہ گئیں، شاہراہِ قراقرم بند ہونے سے گلگت اور راولپنڈی کے درمیان زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔سکردو میں کئی رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں، سدپارہ ڈیم کا واٹر چینل سیلاب میں بہہ گیا، پاور ہاؤسز بند ہونے سے بجلی کا نظام متاثرہ ہوا ، غذر کے سیلاب متاثرہ علاقہ میں پاک فوج کا سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے ، اس دوران مٹی اور ملبے میں دبے 7 افراد میں سے 4 کی لاشیں نکالی جا چکیں، ایک بچے کو زندہ حالت میں ملبے کے نیچے سے نکالا جا چکا۔ صوبائی حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق غذر، ہنزہ، استور، چلاس، تانگیر، بونر، نیاٹ، کھنبری اور کھنر سمیت متعدد مقامات پر سیلابی ریلوں سے مکانات، سڑکیں اور انفراسٹرکچر بری طرح متاثر ہوا ہے ۔

غذر کے یاسین، چٹورکھمڈ، خلتی اور گوپس میں حالات سنگین ہیں ، صوبے کے مختلف مقامات پر سڑکیں بند اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہے ۔ متاثرین میں خیمے ، اشیائے خور ونوش اور ادویات پہنچا دی گئی ہیں ، ہنزہ حسن آباد میں میڈیکل کیمپ قائم کر دیا گیا۔ این ایچ اے ، صوبائی و ضلعی انتظامیہ کی معاونت سے سڑکوں کی بحالی کا کام تیز کردیا گیا ۔دریں اثناء وفاقی سیکرٹری مواصلات شیر علی محسود شاہراہ ناران کے بعد بابوسر پہنچ گئے اور انہوں نے ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ سڑکوں کی بحالی کا جائزہ لیا، بابوسر لوشی کے مقام پر بند شاہراہ کو بحال کر دیا گیا ہے ۔ دریں اثناء سندھ میں تھرپارکر کے علاقہ میں بارش اورآسمانی بجلی گرنے سے 52 مویشی ہلاک ہو گئے ہیں۔ ادھر اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں حالیہ بارشوں و سیلابی صورتحال پر ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین این ڈی ایم اے کو ہدایت دی کہ خیبرپختونخوا میں متاثرہ علاقوں میں پھنسے شہریوں اور سیاحوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات تک پہنچایا جائے جبکہ خیمے ، ادویات، اشیائے خورونوش اور دیگر امدادی سامان ترجیحی بنیادوں پر ٹرکوں کے ذریعے فوری روانہ کیا جائے ۔

انہوں نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو ہدایت دی کہ ریسکیو و ریلیف آپریشن میں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ اجلاس کے دوران چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے وزیراعظم کو نقصانات بارے تفصیلی بریفنگ دی اور جاری ریسکیو و ریلیف آپریشن پر پیش رفت سے آگاہ کیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کے بعد گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سے ٹیلی فون پر گفتگو بھی کی۔اس موقع پر وزیراعظم نے خیبرپختونخوا میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ وفاقی حکومت پختونخوا حکومت کی ہر ممکن مدد کرے گی جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس میں نقصانات کے جائرہ لینے کیلئے مانیٹرنگ سیل قائم کر دیا گیا ہے جو این ڈی ایم اے سے چوبیس گھنٹے رابطے میں ہے ۔علاوہ ازیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ،گورنر سندھ کامران ٹیسوری ، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کو ٹیلی فون کرکے سیلاب سے ہونیوالی اموات اور مالی نقصانات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور عوام کی مددکیلئے تعاون کا یقین دلایا۔ شمالی علاقہ جات میں حالیہ شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مختلف شاہراہوں کی بندش پر وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے اعلیٰ حکام کو فوری ہدایات جاری کر دی ہیں ۔

عبدالعلیم خان نے چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور سینئر افسران کو ہدایت کی کہ پنجاب اور سندھ سے ورک فورس اور مشینری بھی استعمال میں لائیں، این ایچ اے متاثرہ علاقوں میں اپنے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے لینڈ سلائیڈنگ ہٹانے اور سڑکوں کو ٹریفک کے لئے کھولنے کے اقدامات جلد از جلد مکمل کرے ۔ وفاقی وزیر مواصلات نے شمالی علاقوں بالخصوص سکردو، جگلوٹ، بونیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں این ایچ اے ٹیموں کی فوری موجودگی اور متحرک طور پر کام کرنے کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے گورنر فیصل کریم کنڈی کو بھی فون کیا اور سیلاب سے مالی و جانی نقصانات پر اظہار افسوس کیا۔جبکہ محکمہ موسمیات نے خیبر پختونخوا کے سیلاب متاثرہ سمیت دیگر علاقوں میں24گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے جبکہ این ڈی ایم اے کے مطابق 18 اگست سے 22 اگست تک خیبر پختونخوا ،اسلام آباد، راولپنڈی، مری ، چکوال ، حافظ آباد، فیصل آباد، سیالکوٹ ، اوکاڑہ، لاہور ،بہاولپور اور اطراف ،سندھ اور بلوچستان کے کئی مقامات پر بارشیں متوقع ہیں۔ پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے )نے دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقامات پر ممکنہ سیلاب کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے ۔ آج سے 17 اگست کے دوران درمیانے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے جبکہ قصور میں دریائے ستلج سے ملحقہ آبادیوں میں نچلے درجے کا سیلاب ہے ، ریسکیو 1122 قصورنے متاثرہ علاقوں میں بوٹ ٹرانسپورٹیشن سروس شروع کر دی ہے ۔ محکمہ آبپاشی کے مطابق ہیڈ گنڈا سنگھ سے اس وقت 70 ہزار کیوسک پانی کا اخراج جاری ہے ، جس سے دریا کے کنارے آباد بستیاں زیرِ آب آ گئی ہیں۔متاثرہ علاقوں میں کوٹھی فتح محمد، ولے والا، ہرچوکی، چھبر، قلعی شاہو، اطہر سنگھ، فتی والا، بنگلہ دیش بستی، سہجرہ، دھوپ سڑی، چندا سنگھ، مستے کی نگر اور گرد و نواح کے دیہات شامل ہیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں