شہباز شریف کی پوٹن اور شی جن پنگ سے ملاقاتیں:روس سے قریبی تعلقات،چین سے مضبوط شراکت داری کا عزم

شہباز شریف کی پوٹن اور شی جن پنگ سے ملاقاتیں:روس سے قریبی تعلقات،چین سے مضبوط شراکت داری کا عزم

بیجنگ ، اسلام آباد(نامہ نگار،دنیا نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں )وزیر اعظم شہباز شریف نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور اور چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی اور روس سے قریبی تعلقات ،چین سے مضبوط شراکت داری کے عزم کا اظہار کیا ۔

جنوبی ایشیا کی صورتحال، افغانستان، مشرق وسطیٰ اور یوکرین کے تنازعہ، فلسطین اور کشمیر جیسے دیرینہ مسائل اور عالمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا ہے ۔روسی صدر اور شہبازشریف نے 2024میں آستانہ میں ہونے والی اپنی ملاقات کو یاد کرتے ہوئے گزشتہ ایک سال کے دوران تعاون کو وسعت دینے اور اس کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور گرمجوشی پر مبنی ہیں۔ اس بات کی بنیاد پر کہ پاکستان روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے وزیراعظم نے روس کے ساتھ تجارتی روابط، توانائی، زراعت، سرمایہ کاری، دفاع، مصنوعی ذہانت، تعلیم، ثقافت اور عوام سے عوام کے تبادلے جیسے شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے کے لیے پاکستان کی تیاری اور دلچسپی سے آگاہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ مختلف عالمی پلیٹ فارمز پر دونوں ممالک کے نقطہ نظر میں کافی حد تک مماثلت ہے ۔

مزید برآں وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان قائم ادارہ جاتی میکانزم کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجوزہ پاکستان سٹیل مل (پی ایس ایم) کراچی کے فلیگ شپ پراجیکٹ اور کنیکٹیوٹی پراجیکٹس میں سرمایہ کاری جیسے ٹھوس اقدامات آنے والی نسلوں کے لیے پاکستان روس دوستی کی علامت ہوں گے ۔دوطرفہ تعلقات کے بارے میں پاکستان کے وزیر اعظم کے جائزے سے اتفاق کرتے ہوئے صدر ولادیمیر پوٹن نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے استحکام کا ذکر کیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شنگھائی تعاون تنظیم جیسی تنظیموں میں تعاون کا فروغ علاقائی اور عالمی سلامتی اور استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔ملاقات کے دوران روسی صدر نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو روس کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت دی۔ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ،آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر،وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وزیر داخلہ محسن نقوی،وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اﷲ تارڑ ، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی موجود تھے ۔

شہبازشریف اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ میں ملاقات ہوئی ،وزیراعظم شہباز شریف نے جنوبی ایشیا میں جامع مذاکرات کی نگرانی کیلئے چین کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشتگردی میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے ، جس کا بیانیہ دنیا تسلیم نہیں کرتی، پاکستان کے عوام چین کے ساتھ دوستی کودل سے پسند کرتے ہیں جبکہ چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں چین پاکستان کی حمایت کرتا ہے ۔چینی سرکاری میڈیا کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ میں ملاقات ہوئی جس میں خطے کی صورتحال اوردوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر اعظم نے چینی صدر کی قائدانہ صلاحیتوں کی تعریف کی اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین عظیم دوست ہیں جو ہر آزمائش میں پورا اترے ہیں، بیلٹ اینڈ روڈ، سی پیک منصوبہ صدر شی جن پنگ کی مثالی قیادت کا ثبوت ہے ۔وزیراعظم نے مزید کہاکہ پاکستان کے عوام چین کے ساتھ دوستی کودل سے پسند کرتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ چین جنوبی ایشیا میں جامع مذاکرات کی نگرانی کرے ، تاکہ مذاکرات کے ثمرات پاکستان کو مل سکیں، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشتگردی میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے ، بیانیہ دنیا تسلیم نہیں کرتی۔وزیر اعظم نے تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کے سربراہی اجلاس کے کامیاب انعقاد پر صدر شی جن پنگ کو مبارکباد دی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو چین کی کامیابیوں پر بہت فخر ہے اور وہ اس عظیم سفر میں چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہے گا۔وزیراعظم نے پاکستان کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے چین کی غیر متزلزل حمایت کو سراہا۔ وزیر اعظم نے کثیرالجہتی کو مضبوط بنانے کے لیے صدر شی جن پنگ کے پختہ عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس سلسلے میں صدر شی جن پنگ کے تاریخی اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے جس میں گلوبل گورننس انیشیئیٹو، گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیئیٹو، گلوبل سکیورٹی انیشیئیٹو اور گلوبل سولائزیشن انیشیئیٹو شامل ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ اقدامات اجتماعی عالمی بھلائی کے لیے ضروری ہیں اور علاقائی اور عالمی امن، استحکام اور ترقی میں معاون ثابت ہوں گے ۔

صدر شی نے کہا کہ چین اقتصادی ترقی کے تمام شعبوں میں پاکستان کی مدد جاری رکھے گا، خاص طور پر جب کہ سی پیک اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور اس کے تحت پاکستان کے اہم ترین اقتصادی شعبوں پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے ۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ان کے ممالک کے درمیان تعلقات منفرد اور بے مثال ہیں اور اس کی عکاسی ان کے دوطرفہ تعاون کو مزید بڑھانے کے ذریعے ہونی چاہیے ۔دونوں رہنماؤں نے اہم علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اس سلسلے میں پاکستان اور چین کے درمیان قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔وزیر اعظم شہباز شریف کی بیجنگ میں جمہوریہ تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے ملاقات ہوئی ہے جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ۔دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور تاجکستان کے درمیان باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں جاری تعاون پر اطمینان کا اظہار ،جبکہ تجارت اور سرمایہ کاری، رابطے ، توانائی، علاقائی سلامتی، ثقافت اور عوام سے عوام کے تبادلے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں