سیلاب،دہشتگردی پر قومی اسمبلی اجلاس سے پی ٹی آئی کا بائیکاٹ

سیلاب،دہشتگردی پر قومی اسمبلی  اجلاس سے پی ٹی آئی کا بائیکاٹ

اسلام آباد(نامہ نگار،سٹاف رپورٹر) قومی اسمبلی کے اجلاس سے پی ٹی آئی کا بائیکاٹ ، کور م کی نشاندہی ، حکومت کورم پورا رکھنے میں کامیاب رہی ، پی ٹی آئی کو سبکی اٹھانا پڑی ۔

 تحریک انصاف کے بائیکاٹ پر وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میرا آئین اورقانون ایک اسمبلی کو مانتا ہے اور وہ یہ ہے ، تحریک انصاف کا لیڈر عدالتی فیصلوں سے ہی باہر آئے گا۔آپ سیلاب زدگان کیلئے یہاں بیٹھ کر بات کریں آپ ان کے ووٹوں سے یہاں آئے ہیں۔تباہی اس قدر بڑی ہے کہ پوری قوم دل کھول کر مدد کرے ، قومی اسمبلی نے بلوچستان میں دہشت گرد حملے کے خلاف مذمتی قرارداد بھی منظور کرلی ۔ وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے کہا کہ ملک میں اس وقت 2 ہزار کے قریب افراد لاپتہ ہیں ، بلوچ سیاسی قیادت کیساتھ مل بیٹھنے کوتیار ہیں،قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکرا یاز صادق کی زیر صدارت بیس منٹ تاخیر سے شروع ہوا ۔سپیکر نے کہاکہ جو فیصلہ ہو اتھا وقفہ سوالات نہیں لیاجائے گا ۔ وقفہ سوالات کو موخر کرنے کے لیے رولز معطل کرنے کی تحریک پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی سید نوید قمر نے پیش کی جسے ایوان نے منظور کر لیا۔پی ٹی آئی کے بیرسٹر گوہر نے کہاکہ پنجاب میں سیلاب نے تباہ کاریاں کی ہیں اس پر ہماری تمام ہمدردی پنجاب کے ساتھ ہیں تاہم ہمارے ارکان کو ڈی نوٹیفائی کیاگیا ہے ہماری آواز کو دبایا جارہا ہے ،ہمارے ساتھ ناانصافیاں اور زیادتیاں ہو رہی ہیں، ہم اس پر ایوان سے بائیکاٹ کریں گے ۔این ڈی ایم اے سے ہمارا شکوہ رہے گا۔

این ڈی ایم اے نے ہمیں بونیر کے لئے صرف چھ چیزیں دیں۔ این ڈی ایم اے نے ہماری اس طرح مدد نہیں کی جس طرح کرنی چاہیے تھی۔ ہم ایوان سے بائیکاٹ کررہے ہیں، ہم عوامی اسمبلی باہر لگائیں گے ۔وفاقی وزیر قانون نے کہاکہ سیاست برائے سیاست کیلئے اس طرح کے سوالات اٹھائے جاتے ہیں، میرا آئین اورقانون ایک اسمبلی کو مانتا ہے اور وہ یہ ہے ، پی ٹی آئی کا لیڈر عدالتی فیصلوں سے ہی باہر آئے گا۔ آپ سیلاب زدگان کیلئے یہاں بیٹھ کر بات کریں آپ ان کے ووٹوں سے یہاں آئے ہیں۔ حالیہ سیلاب اور بارشوں سے 884 افراد جاں بحق اور 9 ہزار 292 گھر تباہ ہوئے ، پوری قوم متاثرین کی دل کھول کر مدد کرے ۔ وزیر اعظم کی طرف سے سیلاب سے ملک بھر میں جاں بحق ہونے والوں کے لئے 20 لاکھ روپے فی کس دئیے جارہے ہیں،شدید زخمیوں کو 5 لاکھ اور معمولی زخمیوں کو 2 لاکھ روپے دیے جائیں گے ، تباہی اس قدر بڑی ہے کہ پوری قوم دل کھول کر مدد کرے ،ہم سارے وسائل یکجا کرکے متاثرین کی بحالی کے لئے کوشاں ہیں۔ سپیکر ایاز صادق نے کہاکہ آپ باہر جا کر کہیں گے کہ ہمیں بولنے کا موقع نہیں دیا گیا۔میں این ڈی ایم اے گیا تھا کاش کہ آپ لوگ بھی جاتے وہاں جو بریفنگ دی جاتی ہے اور جس طرح این ڈی ایم اے کام کر رہا ہوں وہ کاش آپ دیکھتے ۔اگر آپ لوگ الگ جانا چاہتے ہیں این ڈی ایم اے تو ارینج کروا دیتا ہوں۔

این ڈی ایم اے بھرپور کام کر رہی ہے ، میں جب این ڈی ایم اے گیا تو خصوصی بونیر میں ریلیف ورک کے بارے میں پوچھا۔اسی دوران پی ٹی آئی کے ارکان بائیکاٹ کرکے باہر چلے گئے بعدازاں پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی اقبال آفریدی نے کورم کی نشاندہی کردی جس پر سپیکر نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا اس وقت ضرورت ہے ہم ایک ساتھ ہوں، آج اتنے اہم ایشوز پر بات ہونی ہے ، سیلاب اور دہشتگردی پر بات کرنی ہے ۔ سپیکر نے کہاکہ افغانستان میں زلزلہ آیا ،بلوچستان میں دہشت گردی ہوئی ،ملک سیلاب میں ڈوبا ہے ۔اپوزیشن ایسے میں کورم کی نشان دہی کرتی زیادتی کررہی ہے ۔ قومی مسائل اور ایشوز سے کوئی سروکار نہیں ہے جو کہ افسوسناک ہے ۔ سپیکر نے گنتی کروانے کی ہدایت کردی گنتی کروانے پر کورم پورا نکلا سپیکر نے اجلاس کی مزید کاروائی جاری رکھے ہوئے ایجنڈا مکمل کیا۔ وفاقی وزیرقومی صحت سید مصطفی کمال نے کہا کہ سیلاب اورقدرتی آفات موسمیاتی تغیرات کانتیجہ ہے ،ہرسال اس میں 20فیصداضافہ ہورہاہے ، ۔مقامی حکومتوں کے نظام کو جب تک اختیارات نہیں دئیے جائیں گے اس وقت تک قدرتی آفات کے ساتھ ساتھ معمول کے مسائل بھی حل نہیں ہوسکتے ، اب تک ہم پولیو کامکمل خاتمہ نہیں کرسکے ،پارلیمان کواس حوالہ سے اپناکرداراداکرنا چاہیے ۔

جے یو آئی کے مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلہ پر کل جماعتی کانفرنس بلائی جائے ،لاپتہ افراد کے احتجاج پر بیٹھے لوگوں سے بات چیت کے لئے وزیر داخلہ کمیٹی بنائیں۔ مسلم لیگ ن کے جمال شاہ کاکڑ نے کہا کہ ،بلوچستان کے مسئلہ پر کمیٹی بنائی جائے ۔ اسلام آباد میں احتجاج کرنے والوں کے پیارے لاپتہ ہیں،ان سے بات کی جائے ۔جے یو آئی کے عثمان بلیدی نے کہا کہ اس ایوان میں جب بھی کسی سنجیدہ معاملہ پر بحث ہوتی ہے تو پی ٹی آئی بائیکاٹ اور کورم کی نشاندہی کرتی ہے جو افسوسناک ہے ۔ خیبر پختونخوا کے حالات سب کے سامنے ہیں ،وہاں کے وزیر اعلٰی صرف مولانا فضل الرحمان پر تنقید کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں قومی اسمبلی نے بلوچستان میں دہشت گرد حملے کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کرلی جس میں صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس دہشت گردی میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لائے ۔قراردادرکن قومی اسمبلی پولین بلوچ نے پیش کی ۔ بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعہ پر بحث سمیٹتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا کہ دہشت گردی کے عفریت سے نکلنے کا راستہ قومی ایکشن پلان پر عملدرآمدہے ، ہم ان سے مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔ ان کے کچھ مطالبات ایسے ہیں کہ جن پر حکومت عملدرآمد نہیں کرسکتی ۔یہ عدالتی معاملہ ہے ۔

اسلام آباد پریس کلب کے باہر ریڈ زون میں احتجاج کرنے والوں کو کچھ لوگ سیاسی اور پبلسٹی کے لئے استعمال کرتے ہیں،ہم ان سے بات چیت کے ذریعے اس مسئلہ کا حل چاہتے ہیں۔ وزیر مملکت برائے داخلہ نے بتایا کہ اسلام آباد پریس کلب کے باہر بلوچستان سے لاپتہ افراد کے حوالے سے احتجاج کیا جارہا ہے ،یہ احتجاج کرنے والی ہماری بچیاں ہیں،یہ ایک اہم روڈ پر احتجاج کررہی ہیں،ریڈ زون پر احتجاج نہ کرنے کے عدالت کے حکم اوراس حوالے سے قانون کے باوجود ان کو مکمل سکیورٹی اور تحفظ فراہم کیاجارہا ہے ، طلال چودھری نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت 2 ہزار کے قریب لاپتہ افراد ہیں،حکومت اس پر زیرو ٹالرنس رکھتی ہے ۔ نیشنل ایکشن پلان پر جتنا عمل ہوگا اتنی دہشت گردی کم ہوگی۔ ہم بلوچستان کی سیاسی قیادت کے ساتھ مل بیٹھنے کوتیار ہیں۔ قومی اسمبلی میں 7 قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس بھی پیش کی گئیں۔ ایوان میں وفاقی وزیر ملک رشید احمد کے بھائی،رکن شفقت عباس کے بھائی اوربی این پی کی ریلی پر خود کش حملے میں جاں بحق افراد کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی ۔

علاوہ ازیں پی ٹی آئی نے ایوان کے باہر عوامی اسمبلی  لگائی ۔اس موقع پر محمود خان اچکزئی اور اختر مینگل کی جانب سے 8 ستمبر کو بلوچستان میں شٹر ڈا ئون ہڑتال کی کال پر پی ٹی آئی نے اپنی حمایت کا اعلان کردیا ،علی محمد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 180 سیٹوں والے ایوان سے باہر اور 17 سیٹوں والے ایوان کے اندر ہیں ۔ سیاسی لوگوں کو سیاست کرنے دی جائے ۔ اس موقع پر افغان شہریوں کے انخلا میں توسیع کی قرارداد بھی منظور کی گئی ، بیرسٹر گوہر نے قرارداد پیش کی جس کے مطابق عوامی اسمبلی ہائبرڈ نظام کو ماورائے عدالت سمجھ کر مسترد کرتی ہے ۔ 26 ویں ترمیم کے خلاف دائر پٹیشنز فل کورٹ سے سنی جائیں ۔ آزاد رائے پر پابندی ختم کی جائے ۔ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغانیوں کے انخلا کو روکا جائے ۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ تمام ارکان قومی اسمبلی اپنے سیلاب متاثرین کی مدد کو پہنچیں۔

پی ٹی آئی رہنما عاطف خان نے عوامی اسمبلی سے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ آئین کے مطابق اسمبلی عوام کی بہتری کے لیے فیصلے کرتی ہے جب کہ عوام کی بھلائی کے لیے کوئی قانون نہیں بنایا گیا ۔ 1200 ارب روپے کی کرپشن معاف کروائی گئی۔ یہ آئینی ترمیم عدلیہ کو دبانے کے لیے لاتے ہیں ۔ اسد قیصر نے کہا کہ بلوچستان میں جو دھماکے ہوئے ، ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔اطہر من اللہ کے کراچی میں خطاب کی مکمل حمایت کرتے ہیں ۔ عامر ڈوگر نے کہا کہ ملک میں ہائبرڈ نظام کی باتیں کی جارہی ہیں ۔ ہائبرڈ نظام شخصی حکومت ہوتی ہے جس میں کوئی انصاف نہیں ہوتا۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمارے اراکین اور کارکنوں کے ساتھ انصاف کیا جائے ۔ بانی پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی اور دیگر اسیران کو رہا کیا جائے ۔ بانی کی مقبولیت دیکھنی ہے تو سیلاب کی اس گھڑی میں انہیں فون کرنے کی اجازت دی جائے ۔ عمران خان کی کال پر دنیا اربوں روپے کی امداد دے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں