ایک سال:حکومتی قرضوں میں 10 ہزار ارب کا اضافہ:جولائی تا اکتوبر 270 ارب کا ٹیکس شارٹ فال

ایک سال:حکومتی قرضوں میں 10 ہزار ارب کا اضافہ:جولائی تا اکتوبر 270 ارب کا ٹیکس شارٹ فال

مجموعی قرض حجم 84ہزار ارب ،اگلے 3سال میں شرح نمو بڑھ کر 5.7فیصد تک جانے کا تخمینہ :وزارت خزانہ چارماہ کا ٹیکس ہدف4109ارب ،3840ارب روپے جمع ہوسکے ، ٹیکس ریٹرنز میں 17.6فیصد اضافہ ریکارڈ

 اسلام آباد(مدثرعلی رانا)ایک سال کے دوران حکومتی قرضوں میں 10ہزار ارب کا اضافہ ہوگیا، مالی سال 2024کے دوران ملکی قرضوں کا مجموعی حجم 74 ہزار ارب روپے تھا جو گزشتہ مالی سال 2025 کے دوران بڑھ کر ساڑھے 84 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا ۔ دستاویز کے  مطابق ایک سال کے دوران مجموعی قرضوں میں 10 ہزار ارب روپے سے زائد اضافہ ہوا ہے ،اگلے تین سال میں شرح نمو بڑھ کر 5.7 فیصد تک جانے کا تخمینہ ہے وزارت خزانہ کے مطابق مہنگائی 23.4 فیصد سے گھٹ کر 4.5 فیصد پر آگئی، سال 2028ء تک مہنگائی کی شرح 6.5 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے ۔ وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق تین برسوں میں قرض بلحاظ جی ڈی پی تناسب 70.8 فیصد سے کم ہو کر 60.8 فیصد پر آنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔3 برسوں میں قرض بلحاظ جی ڈی پی تناسب کمی ہو گی، معاشی سست روی کو قرضوں کی پائیداری کیلئے بڑا خطرہ ہے ، فلوٹنگ ریٹ قرض کی بڑی مقدار سے شرح سود کا خطرہ بلند رہے گا، وزارت خزانہ کی مالی سال 2026-28 کیلئے ڈیٹ اسسٹین ابیلٹی انالیسز رپورٹ میں کہا گیا کہ مالی سال 2026 سے 2028 کی درمیانی مدت میں قرض مستحکم سطح رہنے کی توقع ہے ، گزشتہ سال مارک اپ ادائیگیوں میں 888 ارب روپے کی بچت ہوئی، وزارت خزانہ رپورٹ میں قرضوں سے متعلق خطرات اور چیلنجز کی بھی نشاندہی کر دی گئی۔ ایکسچینج ریٹ اور سود کی شرح میں تبدیلی قرض کا بوجھ بڑھا سکتی ہے ، فلوٹنگ ریٹ قرض کی بڑی مقدار سے شرح سود کا خطرہ بلند رہے گا، 80 فیصد قرض فلوٹنگ ریٹ پر حاصل کیا گیا جس سے شرح سود کا خطرہ برقرار ہے جبکہ ملک کے ذمہ واجب الادا بیرونی قرضے مجموعی قرض کا 32.3 فیصد ہیں۔

اسلام آباد (کامرس رپورٹر)رواں مالی سال جولائی تا اکتوبر کے دوران ایف بی آر کو 270 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کا سامنا رہا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق 4 ہزار 109 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں ایف بی آر صرف 3 ہزار 840 ارب روپے ٹیکس جمع کر سکا۔ اسی عرصے میں 205 ارب روپے کے ریفنڈز بھی جاری کیے گئے ۔اکتوبر کے دوران ایف بی آر 1026 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 70 ارب روپے کم ٹیکس جمع کر سکا۔ اس دوران 438 ارب روپے انکم ٹیکس، 345 ارب روپے سیلز ٹیکس، 70 ارب روپے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور 107 ارب روپے کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں حاصل کیے گئے ۔ اکتوبر میں 48 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کیے گئے جو گزشتہ سال کے 11 ارب روپے کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے ۔ذرائع کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس کلیکشن آئی ایم ایف اہداف سے بھی کم رہی۔ ہر ماہ ریونیو کلیکشن میں کمی ریکارڈ ہوئی۔ ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے ایف بی آر کا سالانہ ہدف 14 ہزار 131 ارب روپے سے کم کر کے تقریباً 13 ہزار 970 ارب روپے کر دیا تاہم حکومت یا ایف بی آر کی جانب سے اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔ابتدائی طور پر ہدف میں 150 ارب روپے کی کمی کی گئی تھی جو بعد ازاں بڑھ کر 169 ارب روپے تک جا پہنچی۔ اگر یہ تخمینہ درست ہے تو ایف بی آر کو جولائی تا اکتوبر اب بھی 100 ارب روپے کے قریب شارٹ فال کا سامنا ہے ۔ایف بی آر اعلامیہ کے مطابق 31 اکتوبر 2025 تک 59 لاکھ ٹیکس ریٹرنز جمع ہو چکے جو گزشتہ سال کی نسبت 17.6 فیصد زیادہ ہیں۔ ان میں سے 36 لاکھ ٹیکس دہندگان نے اپنے ریٹرنز کے ساتھ ٹیکس کی ادائیگی بھی کی جس سے 9 ارب روپے اضافی ریونیو حاصل ہوا۔ریٹرنز کی مد میں وصولیاں 60 ارب روپے سے بڑھ کر 69 ارب روپے تک پہنچ گئیں۔ ایف بی آر نے تھرڈ پارٹی ڈیٹا کی بنیاد پر ملک بھر میں 8 لاکھ پیغامات ٹیکس دہندگان کو ارسال کیے ، جن میں سے 70 ہزار افراد کو ان کی آمدن کے مطابق درست ریٹرن جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں