ضمنی الیکشن:ن لیگ نے میدان مارلیا:13میں سے 12نشستوں پر کامیاب،پی ٹی آئی کا 11حلقوں میں بائیکاٹ
حافظ نعمان ،بابرنواز، بلال بدر، دانیال ،محمد طفیل ،محمودقاد رایم این اے ، سلطان رانجھا،علی حیدر ،آزادتبسم ،طاہر پرویز ،احمد شہریار، محمد حنیف ایم پی اے منتخب پیپلزپارٹی کے علمدار عباس رکن پنجاب اسمبلی منتخب ،پی ٹی آئی لاہور سے میاں اظہر اور ہری پور میں عمرایوب کی سیٹ نہ بچا سکی ،دھاندلی کے الزامات فاتح امیدوارں کے حامیوں کا جشن ، بھنگڑے ، مٹھائیاں تقسیم ، الیکشن میں ٹرن آئوٹ بہت کم رہا ، عوام نے مریم نواز پراعتماد کا اظہار کیا :شہباز شریف
لاہور (کورٹ رپورٹر ،نمائندگان دنیا،مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوز ایجنسیاں) ضمنی الیکشن میں پاکستان مسلم لیگ ن نے میدان مار لیا ،قومی اسمبلی کی 6نشستیں اپنے نام کرکے کلین سویپ کیا ، پنجاب اسمبلی کی 6نشستیں مسلم لیگ ن کےنام رہیں جبکہ ایک پر پیپلزپارٹی نے قبضہ جما لیا،پی ٹی آئی نے 13 میں سے 11حلقوں میں الیکشن کا بائیکاٹ کیا جبکہ دیگراپنی چھوڑی 2نشستوں پر بھی فتح نہ مل سکی ۔قومی اسمبلی کے 6اورپنجاب اسمبلی کی 7نشستوں پر ضمنی انتخابات کیلئے گزشتہ روز ووٹ ڈالے گئے ، پولنگ کا عمل صبح 8بجے شروع ہوا جو بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہا،ٹرن آؤٹ کم رہا،بعض مقامات پر امیدواروں کے حامیوں میں توتکار ہوئی تاہم مجموعی طور پر ماحول پر امن رہا ،تعطیل کی وجہ سے صبح کے اوقات میں ووٹنگ کی شرح کم رہی تاہم دوپہر کے بعد پولنگ سٹیشنوں پر ووٹرز کا رش دیکھنے میں آیا ،قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے کسی بھی نا خوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لئے سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے ،نتائج مکمل ہونے پرفاتح امیدوار وں کے حامی ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑا ڈالتے رہے اورمٹھائیاں تقسیم کی گئیں ۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب میں قومی اسمبلی کے 5، صوبائی اسمبلی کے 7اور خیبر پختوانخوا میں قومی اسمبلی کے ایک حلقے میں ضمنی انتخابات کے لئے پولنگ ہوئی ، تمام حلقوں میں ووٹنگ کا عمل بروقت شروع ہوا ، امیدواروں کی جانب سے پولنگ ایجنٹس اور متحرک سپورٹرز کے لئے پر تکلف ناشتے کا اہتمام کیا گیا ، سیاسی جماعتوں کے امیدواروں اور آزاد امیدواروں کو پولنگ سٹیشنز سے فاصلے پر اپنے کیمپس لگانے کی اجازت دی گئی تھی ، کیمپوں میں موجود سپورٹرز اور کارکنوں کی قیمے والے ،آلو والے نان ، بریانی اور قورمے سے تواضع کی گئی جبکہ چائے کا دور بھی بلا تعطل چلتا رہا ، حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے کیمپوں میں زیادہ گہما گہمی دیکھنے میں آئی ۔
وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی درخواست پر فوجی دستوں کی تعیناتی کی گئی،پاک آرمی اور سول آرمڈ فورسز کوبطور کوئیک رسپانس فورس تعینات رکھا گیا ۔شام پانچ بجے پولنگ سٹیشنز کے دروازے بند کر دئیے گئے اور صرف پولنگ سٹیشنز کے اندر موجود ووٹرز کو حق رائے دہی کی اجازت دی گئی ، ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے پر امیدواروں کے پولنگ ایجنٹس کی موجودگی میں گنتی کا عمل شروع کر دیا گیا۔لاہو رمیں این اے 129کی نشست پاکستان تحریک انصاف کے میاں اظہر کی وفات پر خالی ہوئی تھی جبکہ دیگر حلقوں میں پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں کے 9مئی کے کیسز میں نااہلی پر ضمنی انتخاب کروایاگیا۔این اے 18 ہری پور کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے بابر نواز ایک لاکھ 63ہزار996ووٹ لے کرواضح برتری حاصل کی اورکارکنوں نے مرکز ی آفس میں جیت کا جشن منایاجبکہ آزاد امیدوار شہرناز عمر ایوب خان ایک لاکھ 20ہزار 832 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر تھیں ۔عمرایوب کے نااہل ہونے پر ہونیوالے ضمنی الیکشن میں 9امیدوار میدان میں تھے جبکہ پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار عمرایوب کی اہلیہ شہرناز پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ امیدوار تھیں۔ این اے 96 فیصل آباد 2 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری کے بھائی مسلم لیگ ن کے امیدوار محمد بلال بدر 79278 ووٹ لے کرجیتے جبکہ آزاد امیدوار نواب شیر وسیر 26483 ووٹ لیکر رنراپ بنے ۔ یہ نشست پی ٹی آئی کے رائے حیدر علی کھرل کی نااہلی پر خالی ہوئی تھی۔بلال حیدر کے حامیوں نے جیت کی خوشی میں مٹھائیاں تقسیم کیں اوربھنگڑے ڈالے ۔این اے 104 فیصل آباد 10 کے مکمل 375 پولنگ سٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے تحت مسلم لیگ ن کے دانیال احمدنے 52ہزار791 ووٹ لے کرفتح حاصل کرلی جبکہ آزاد امیدوار رانا عدنان جاوید 19ہزار262 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے ۔دانیال احمد قومی اسمبلی میں سابق اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کے بیٹے ہیں ۔یہ نشست سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین حامد رضا کی 9 مئی کیس میں سزا کے سبب خالی ہوئی تھی۔ این اے 129 لاہور 13 کے مکمل 334 پولنگ سٹیشنز کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے حافظ میاں محمد نعمان نے میدان مار لیا،وہ63ہزار441ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار ارسلان احمد 29ہزار99 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے ۔
یہ نشست پی ٹی آئی کے میاں اظہر کی وفات پر خالی ہوئی تھی اور ان کی جگہ ان کے نواسے ارسلان احمد نے الیکشن لڑا ۔حافظ نعمان نے 34ہزار342ووٹ کی برتری حاصل کی ،حلقے کا ٹرن آؤٹ 18اعشاریہ 67فیصد رہا۔این اے 143 ساہیوال 3 کے مکمل 442 پولنگ سٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق مسلم لیگ ن کے محمد طفیل ایک لاکھ 36ہزار313ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے ، آزاد امیدوار ضرار اکبر چودھری13ہزار120ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے ۔یہ نشست پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدوار رائے حسن نواز کی نااہلی پر خالی ہوئی تھی،یہاں ٹرن آؤٹ 24فیصدرہا۔ این اے 185 ڈیرہ غازی خان 2 کے مکمل 226 پولنگ سٹیشنز کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے تحت مسلم لیگ ن کے محمود قادر خان 82ہزار413 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ پیپلزپارٹی کے دوست محمد کھوسہ کو49ہزار262ووٹ ملے ،یہ نشست پی ٹی آئی کی زرتاج گل کے نااہل ہونے پر خالی ہوئی تھی۔وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ ضمنی انتخابات میں کامیابی کا کریڈٹ میاں نواز شریف کے وژن اور جماعت کے کارکنوں کی محنت کو جاتا ہے ، ضمنی انتخابات میں کامیابی پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کی صوبے کی ترقی کیلئے کی گئی محنت پر عوام کے اعتماد کی عکاسی ہے ۔ پی ٹی آئی رہنما حماد اظہرنے ویڈیو پیغام میں این اے 129کے نتائج بدلنے کا الزام لگایا،جس پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کہا ہے کہ این اے 129 میں فارم 45 غائب ہونے کے متعلق الزامات بے بنیاد ہیں۔ الیکشن کمیشن پنجاب کی ترجمان ہدا گوہر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو اس طرح کی جتنی بھی شکایات موصول ہوتی ہیں، کمیشن پہلے ان کی متعلقہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر، ریٹرننگ افسر اور ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر سے تصدیق کرتا ہے ، کمیشن کو یہی رپورٹ ملی ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے ۔ تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ این اے 18 ہری پور سے موصول فارم 45 کے مطابق تحریک انصاف کی امیدوارشہرناز کو 519 پولنگ سٹیشنز میں تقریباً 25 ہزار ووٹوں کی واضح برتری حاصل تھی ، افسوسناک اور شرمناک ہے کہ الیکشن کمیشن کا عملہ سرکاری ویب سائٹ پر غلط نتائج اپ لوڈ کر تارہا، ایک بار پھر الیکشن کمیشن کا اصل چہرہ قوم کے سامنے بے نقاب ہو گیا ۔
الیکشن کمیشن انتظامی اور عملی سطح پر مکمل ناکامی کا شکار دکھائی دیتا ہے ، جس کے باعث پورے انتخابی عمل کی شفافیت، غیرجانبداری اور ساکھ پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اگر یہی انتخابات کرانے کا معیار ہے تو بہتر تھا کہ الیکشن کرانے کی بجائے براہِ راست کوئی نوٹیفکیشن جاری کر دیا جاتا ۔پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 73 سرگودھا کے 163 پولنگ سٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے تحت مسلم لیگ ن کے میاں سلطان علی رانجھا71ہزار 770ووٹ لے کرفاتح بنے ا ورآزاد امیدوار محمد حارث12ہزار 970ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے ۔ پی پی 87 میانوالی 3 کے مکمل 193 پولنگ سٹیشنز غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے علی حیدر نور خان نیازی67ہزار870ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ آزاد امیدوار محمد ایاز خان نیازی6ہزار388ووٹ لیکررنراپ رہے ۔پی پی 98 فیصل آباد 1 کے مکمل 171 پولنگ سٹیشنز کے نتائج کے مطابق ن لیگ کے آزاد علی تبسم44ہزار 388ووٹ لے کر جیتے جبکہ آزاد امیدوار محمد اجمل 35ہزار 246 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے ۔پی پی 115 فیصل آباد 18 کے مکمل 159 پولنگ سٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق ن لیگ کے محمد طاہر پرویز49ہزار 46ووٹ لے کرجیتے جبکہ آزاد امیدوار محمد اصغر کو صرف 1898ووٹ ملے ۔پی پی 116 فیصل آباد 19 کے مکمل 190 پولنگ سٹیشنز میں سے 100کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے احمد شہریار 48ہزار 824 ووٹ لے کر جیت گئے اورآزاد امیدوار ملک اصغر علی قیصر 11ہزار 429 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے ۔مسلم لیگ ن کے امیدوار احمد شہریار وزیراعظم کے مشیر اورسینیٹر رانا ثنا اللہ کے داماد ہیں ۔ پی پی 203 ساہیوال 6 کے مکمل 185 پولنگ سٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے تحت مسلم لیگ ن کے محمد حنیف46ہزار900ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جو رکن قومی اسمبلی کا ضمنی الیکشن جیتنے والے محمد طفیل جٹ کے چھوٹے بھائی ہیں ، آزاد امیدوار فلک شیر 10ہزار895 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے ۔ پی پی 269 مظفر گڑھ 2 کے 156 پولنگ سٹیشنز کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے میاں علمدار عباس قریشی 55ہزار611ووٹ لے کر جیت گئے جبکہ آزاد امیدوار محمد اقبال خان پتافی دوسرے نمبر پر رہے ۔