ہفتے کے اندر نوٹیفکیشن، ‘‘ایک صفحہ’’ پہلے سے زیادہ مضبوط، 28 ویں ترمیم پر کام جاری : رانا ثنا اللہ

ہفتے کے اندر نوٹیفکیشن، ‘‘ایک صفحہ’’ پہلے سے زیادہ مضبوط، 28 ویں ترمیم پر کام جاری : رانا ثنا اللہ

بانی پی ٹی آئی نے جیل میں بیٹھ کر ٹرمپ کو جتوایا،وہ کام نہیں آئے ،سہیل آفریدی وکیل ہیں نہ فیملی ممبر، قید تنہائی کی باتیں غلط، ملاقاتوں میں سیاسی باتوں کو روکیں گے :مشیر وزیراعظم ترمیم پرجوہوگا بلاول کی مشاورت سے ہوگا،صوبائی حکومت دہشتگردی کیخلاف وفاقی پالیسی میں حائل نہ ہوتو گورنر راج کی ضرورت نہیں،دنیا نیوز کے پروگرام ’’دنیا مہر بخاری کیساتھ ‘‘میں گفتگو

اسلام آباد(دنیا نیوز)مشیر وزیراعظم سیاسی اُمور رانا ثنا اللہ نے کہا ایک حساس معاملہ ہونے جا رہا ہے ، جیسے کام مکمل ہو جائے گا فیلڈ مارشل بارے نوٹیفکیشن ہو جائے گا،میرا خیال ہے اسی ہفتے معاملہ مکمل ہوجا نا چاہیے ، اس بارے میں خوا مخوا ہ سٹوری بنائی جا رہی ہے ، ‘‘ایک صفحہ’’ پہلے سے زیادہ مضبوط ہے ، 28 ویں ترمیم پر بھی کام جاری ہے ۔دنیا نیوز کے پروگرام ‘‘دنیا مہر بخاری کے ساتھ ’’ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا جب قانون میں تبدیلی آتی ہے تو اس نے آگے امپلی منٹ ہونا ہوتا ہے ، پھر رولز فریم ہوتے ہیں، اس میں کسی قسم کا ابہام نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا صوبائی حکومت دہشتگردی کیخلاف وفاق کی پالیسی میں حائل نہ ہو تو گورنر راج کی ضرورت نہیں، تمام چیزوں کو غور سے دیکھا جا رہا ہے ، یہ معاملہ ابھی صرف زیرِ بحث ہے ، ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا، 28 ویں ترمیم پر بات ہورہی ہے ، کام جاری ہے ، کہ اس پر اتفاق رائے ہو جائے ، پاپولیشن کی بات ہے ، این ایف سی میں بیلنس کی بات ہے ،لوکل باڈی ہے ، ہیلتھ ایشوز ہیں، اس بارے بات ہو رہی ہے ، جوہوا بلاول کی مشاورت سے ہی ہو گا۔

انہوں نے کہا بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھنے کی باتیں بالکل غلط ہیں، بانی پی ٹی آئی نے جیل میں بیٹھ کر ڈونلڈ ٹرمپ کو جتوایا،لیکن وہ ان کے کام نہیں آئے ، کانگریس مین سے رابطے ہوتے رہے ، انٹرنیشنل جریدوں میں مضامین چھپتے رہے ، پھر 26 نومبر 2024 بپا ہوا، انہوں نے جیل میں رسائی لے کر ایسا کیا، اطلاع تھی پی ٹی آئی 26نومبر کو9 مئی کو دہرانے کی تیاری کر رہی ہے ، اس کے لیے علی امین گنڈا پور کو کہا گیا، انہوں نے ریزرویشن شو کی کہ ایسا نہیں ہو سکتا، پھر ان کو تبدیل کر کے یہ ٹارگٹ سہیل آفریدی کو دیا گیا، اگر وہ جیل میں بیٹھ کر ایسا کریں گے تو قانون اس کی اجازت نہیں دیتا، ملاقات فیملی ممبر سے یا وکلا سے ہوا کرتی ہے ، اگر کوئی موو تیار کرنی ہے ،حکومت کیسے اس کی اجازت دے سکتی ہے ، حکومت جیل میں ملاقاتوں میں سیاسی باتوں کو روکے گی، ملاقات کے بعد میڈیا پر آ کر ان کا میسج دیا جاتا ہے ، جو لوگ وہاں ہوتے ہیں انہیں بھی کچھ نہ کچھ پتا چل جاتا ہے ، ملاقات کرانے یا نہ کرانے کا اختیار سپرنٹنڈ نٹ جیل کے پاس ہوتا ہے ، انہوں نے فیصلہ کرنا ہوتا ہے ، آج بانی پی ٹی آئی سے اُن کی بہن اور وکیل کی ملاقات کرائی گئی، ملاقات کے بعد میڈیا پر ملاقات کی تفصیلات بارے آگاہ کیا جاتا ہے ، ملاقاتوں سے متعلق سپرنٹنڈنٹ جیل نے بتانا ہوتا ہے۔

سپرنٹنڈ نٹ جیل نے عظمیٰ سے کہا تھا کہ آپ باہر آ کر بات نہ کیجئے گا، لیکن خبریں چل رہی ہیں ایسا ہی ہوا ہے ۔مشیر وزیراعظم سیاسی اُمور کا کہنا تھا کہ سپرنٹنڈنٹ جیل نے فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کس سے ملاقات کروانی ہے ، نواز شریف نے کبھی جیل میں بیٹھ کر حکومت کے خلاف مہم نہ چلائی، ہم نے کبھی جیل میں بیٹھ کر یہ نہیں کہا کہ لاہور کے اوپر چڑھائی کر دیں، بانی پی ٹی آئی نے آج بھی کچھ باتیں کیں، یہ ملاقات تو نہیں ہوتی۔ جب وکلا ان سے ملتے ہیں، کیسز بارے بات ہونی چاہیے ، ایسا نہیں کہ وکیل ملاقات کے بعد جلائو،گھیرائو کا پروگرام بنائیں، رانا ثنااللہ نے کہا کہ ایک بات ہے مکافات عمل، وہ بھی تو ہونا ہوتا ہے ، اِس معاملے کو ہم نے شروع نہیں کیا، دیکھنا چاہیے یہ سلسلہ کہاں سے شروع ہوا، یہ معاملہ ہم نے شروع نہیں کیا، رہا ہونے کے بعد میں قومی اسمبلی میں قرآن پاک کا نسخہ لے کر چلا گیا تھا، ان کو گواہ بنا کر کہا 25 سالہ سیاسی کیریئر میں کسی منشیات فروشوں سے رابطہ بھی کیا ہو تو مجھ پر اللہ کا عذاب نازل ہو۔ کوئی اس وقت قہر کا شکار ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں، نواز شریف سے لوگوں کو ملوانے کی خبر کے بعد ان سے کسی کو ملنے نہیں دیا جاتا تھا، انہوں نے نیو یارک سے کہا تھا میں جا کر نواز شریف کی ساری سہو لتیں ختم کروں گا، ایسا ہی کیا۔

انہیں جیل میں صبح پہلے ڈاکٹر چیک کرتا ہے ، پھر بہترین،لیوش ناشتہ اور دوپہر کو ان کی مرضی کا کھانا مہیا کیا جاتا ہے ، آج انہوں نے 8 بجے اپنی پسند کا کھانا کھایا، کتابیں ان کے پاس ہیں، آج انہوں نے اخبار بھی پڑھا ہے ، ورزش بھی کی ہے ، لیکن بہن سے کہا کہ تم نے یوں کہنا ہے ، کہ کچھ نہیں مل رہا۔ مشیر وزیراعظم نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہن سے ایک گھنٹے ملاقات ہوئی، بشریٰ بی بی بھی وہاں موجود تھیں، پی ٹی آئی والے جو باتیں کررہے ہیں اس کی کوئی حکومت اجازت نہیں دے سکتی، وہ جو جیل میں بیٹھ کر کر رہے ہیں ایسا کوئی نہیں کرتا، ریکارڈ پر ہے کہ نواز شریف ہوں یا شہباز شریف کسی نہیں کبھی یہ نہیں کہا کہ کھانے ، پینے میں ان کو تنگی دی جائے ، حالانکہ ہمارے لیے وہاں سپیشل برانچ کا بندہ بیٹھا ہوا ہوتا تھا، کہا جاتا تھا کہ ان کا دھیان رکھو، شہباز شریف نے تین مرتبہ اس کا حل بتایا ہے ، بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھنے کی باتیں بالکل غلط ہیں۔

خط لکھنے یا موصول ہونے پر کوئی رکاوٹ نہیں، سہیل آفریدی اُن کے وکیل ہیں اور نہ ہی اُن کے فیملی ممبر ،ملاقات کیسے ہو۔ کسی سیاسی ملاقات کے لیے اجازت نہیں دی جا سکتی، حکومتی آرڈر میں لکھا ہوا ہے ، قانون کے مطابق ان کے محبوب سابق جج ثاقب نثار ہی فرما گئے ہیں کہ ایک آدمی کو جب سزا ہو جائے تو وہ سیاست کر سکتا ہے نہ کسی پارٹی کو ہیڈ کر سکتا ہے اور نہ سیاسی فیصلے میں شامل ہو سکتا ہے ، ان کا اپنا کیا دھرا ان کے آگے آ رہا ہے ، ملاقات میں اگر کوئی لا وایئلیٹ ہوتا ہے تو کوئی اس تو پوچھے گا،آپ وہاں کیا تماشا لگوا رہے ہیں، قانون کو نافذ کرنا سپرنٹنڈنٹ کا کام ہے ، جوملے ہیں وہی بتا سکتے ہیں کہ وہ غصے میں ہیں، رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا معمول کے مطابق رولز اور لا کے مطابق ملاقاتیں کریں تو وہ ہوسکتی ہیں، ملاقاتیں اگر اسلام آباد پر چڑھائی کیلئے کرنی ہیں تو وہ نہیں ہوسکتیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں