کشمیرایکشن کمیٹی کا اجلاس کا بائیکاٹ افسوسناک : وفاقی وزراء

 کشمیرایکشن کمیٹی کا اجلاس کا بائیکاٹ افسوسناک : وفاقی وزراء

معاہدہ کے زیادہ ترنکات پرعملدرآمد ہوچکا،لوکل گورنمنٹ کے مطالبے پرکام جاری عدم تعاون کا رویہ معاہدے پر عملدرآمد میں رکاوٹ بن سکتا :طارق فضل،امیرمقام

اسلام آباد(خصوصی نامہ نگار،دنیا نیوز )وفاقی وزیر پارلیمانی امورطارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ کشمیرجوائنٹ ایکشن کمیٹی کا بلاجواز اجلاس کا بائیکاٹ افسوسناک ہے۔ اجلاس میں معاہدے کے ایک ایک نکتے پر تفصیل سے غور کیا گیا،19اموات کے باوجود متعدد ایف آئی آرز ختم کر دی گئیں۔ عدم تعاون کا رویہ معاہدے پر عملدرآمد میں رکاوٹ بن سکتا ہے ، احتجاج میں شریک سرکاری ملازمین کو بحال کیا گیا،جاں بحق افراد کے لواحقین کو ایک ایک کروڑ دیئے گئے ،زخمی ہونے والے افراد کو 10،10 لاکھ روپے دیئے گئے۔

وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے کہا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے معاہدے کے زیادہ تر نکات پر عملدرآمد ہو چکا ہے ، کمیٹی کے اراکین کی جانب سے مزاکرات میں عدم شرکت افسوس ناک ہے ۔ پریس کانفرنس کے موقع پر وزیر خزانہ آزادکشمیر چوہدری قاسم مجید،وزیر تعلیم دیوان علی چغتائی ،چیف سیکرٹری خوشحال خان، سیکرٹری امور کشمیر ظفر حسن اور ایڈیشنل سیکرٹری کامران رحمان خان بھی موجود تھے ۔ امیر مقام نے کہا اجلاس پہلے سے طے شدہ تھا،ہم انتظار کرتے رہے لیکن جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبران نہیں آئے ، موجودہ وزیراعظم آزاد کشمیر نے کئی کابینہ اجلاس کیے اور نکات پر عملدرآمد کیا۔

انہوں نے کہا کہ صرف سنگین نوعیت کی 15 ایف آئی آرز باقی رہ گئی ہیں،نئی ایف آئی آرز سے متعلق جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ مان لیا گیا، وزراء اور سیکرٹریز کی تعداد 20 کردی گئی،معاہدے کے تحت احتجاج کے دوران معطل کیے گئے ملازمین بحال کردیئے گئے ،لوکل گورنمنٹ کے حوالے سے مطالبے پر کام جاری ہے ۔معاہدے کے عین مطابق معاوضہ جات کی ادائیگی کردی گئی ،پراپرٹی کے ٹرانسفر سے متعلق آرڈیننس صدر کو بھجوا دیا گیا ہے ،یو ایس ایف کے سی ای او اور بورڈ ممبران کی تقرری کردی گئی ہے ،آزاد کشمیر کابینہ نے دو تعلیمی بورڈز کی منظوری دیدی ہے ،میڈیکل کالجز میں اوپن میرٹ کی پالیسی پر اس سال پر عملدرآمد شروع ہوگیا ہے ،واٹر سپلائی سکیموں کے معاہدوں پر عملدرآمد ہورہا ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں