حکومت پنجاب کی گندم پالیسی تبدیل، آٹا، روٹی کی قیمت بڑھنے کا خدشہ
گندم خریداری کیلئے قیمت 3500، اوپن مارکیٹ میں 4ہزار فی من فروخت ہوگی سٹریٹجک ذخائر کا انتظام خریدار کریگا،حکومت 70فیصد فنانسنگ لاگت برداشت کریگی
لاہور (عمران اکبر)پنجاب حکومت کی گندم پالیسی میں 2برس بعد تبدیلی اور پرانی پالیسی کے فعال ہونے سے آٹا، روٹی کی قیمت بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا، گندم پالیسی 2026 کے مطابق حکومت پنجاب 25لاکھ میٹرک ٹن تک گندم کے ذخائر خریدے گی،سٹریٹجک گندم ذخائر سٹیک ہولڈرز کے ذریعے خریدے جائیں گے ، رواں سال نئی گندم خریداری کی قیمت فی من 3500 روپے رکھی گئی،سٹریٹجک گندم ذخائر کا انتظام خریدار بینکوں کے ذریعے کرے گا،حکومت پنجاب فنانسنگ لاگت کا 70 فیصد حصہ برداشت کرے گی،ڈی جی فوڈ ،ایگریکیٹر اور متعلقہ بینک کے مابین سہ فریقی معاہدہ کیا جائے گا۔
منتخب سٹیک ہولڈرز کو سرکاری گودام بلا معاوضہ دئیے جائیں گے ، ایگریکیٹر کل گندم گندم کا 0اعشاریہ 5فیصد سے کم یا 20فیصد سے زیادہ حصہ نہیں لے سکے گا، کسان کو گندم کی 3500 روپے فی من کا سو فیصد معاوضہ موقع پر ملے گا، ذرائع کے مطابق اوپن مارکیٹ میں گندم 4 ہزار روپے فی من فروخت ہو گی ،نئی گندم مہنگی فروخت ہونے سے آٹا، روٹی کی قیمت بڑھ جائے گی۔خیال رہے 2025میں گندم کی قیمت اوپن مارکیٹ کی قیمت کے برابر رکھی گئی ،2024میں بھی قیمت اوپن مارکیٹ کی قیمت کے برابر تھی، 2023میں گندم خریداری کیلئے قیمت 3900روپے فی من امداد ی قیمت رکھی گئی تھی،2022اور 2021 میں گندم خریداری کیلئے قیمت 2200روپے من رہی۔