ایران پر ممکنہ حملہ،ٹرمپ کو بریفنگ:اسرائیل میں ہائی الرٹ کارروائی کی تو دونوں ملکوں کے فوجی اڈے ہمارا جائز ہدف ہونگے:ایرانی حکام
ٹرمپ کا ایرانی فورسز کو نشانہ بنانے سمیت مختلف آپشنز پر غور:امریکی میڈیا،فوجی حملوں کے منفی اثرات کے خدشات،آئندہ ہفتے باضابطہ بریفنگز ،کل امریکی قومی سلامتی کا اجلاس ہو گا احتجاج کا تیسرا ہفتہ، 500 مظاہرین ہلاک ،10 ہزار گرفتار:امریکی تنظیم، 114 سرکاری اہلکار مارے گئے ، ایرانی میڈیا ، دہشتگرد ملک میں داخل: صدرپزشکیان،فسادات خدا سے جنگ :پراسیکیوٹر
واشنگٹن،تہران (نیوز ایجنسیاں،دنیا مانیٹرنگ) امریکی صدر ٹرمپ ایران میں جاری خونریز مظاہروں کے بعد ممکنہ فوجی کارروائی کے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایران میں مداخلت سے متعلق بریفنگ دی گئی، جس میں تہران کی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران میں تشدد کے واقعات میں درجنوں افراد ہلاک اور گرفتار ہو چکے ہیں۔ تاہم امریکی انتظامیہ کے اندر خدشات بھی پائے جاتے ہیں کہ فوجی حملے الٹا اثر ڈال سکتے ہیں، جس سے ایرانی عوام حکومت کے حق میں متحد ہو سکتے ہیں یا ایران جوابی فوجی کارروائی کر سکتا ہے ۔امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ ایران میں جاری احتجاجی تحریک کی حمایت کے لیے ایسے اقدامات پر غور کر رہے ہیں جو براہِ راست فوجی حملوں سے کم درجے کے ہوں۔ ان آپشنز میں ایرانی فوج اور حکومتی اداروں کے خلاف سائبر کارروائیاں شامل ہیں، جن کا مقصد مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کی صلاحیت کو متاثر کرنا ہے ۔حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایرانی حکومتی شخصیات اور توانائی و بینکاری جیسے اہم معاشی شعبوں پر نئی پابندیاں عائد کرنے پر بھی غور کر رہی ہے ۔ اس کے علاوہ ایران میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ توڑنے کے لیے اسٹارلنک جیسی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا آپشن بھی زیر غور ہے ، تاکہ مظاہرین عالمی رابطے میں رہ سکیں۔امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ کے لیے ایران سے متعلق مختلف آپشنز کی تیاری میں متعدد امریکی ادارے شامل ہیں، جبکہ آئندہ ہفتے باضابطہ بریفنگز متوقع ہیں۔
منگل کو صدر ٹرمپ اعلیٰ قومی سلامتی حکام کا اجلاس بلا کر آئندہ لائحہ عمل پر غور کریں گے ۔امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔امریکی صدر ٹرمپ نے ہفتے کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ ایران آزادی چاہتا ہے اور شاید پہلے سے کہیں زیادہ۔ امریکا ایران کی مدد کے لیے تیار ہے ۔ٹرمپ نے گزشتہ آٹھ روز کے دوران کئی بار کہا ہے کہ اگر ایرانی حکومت مظاہرین پر تشدد کرتی رہی اور انہیں قتل کیا جاتا رہا تو امریکا ان کی حمایت کے لیے آئے گا۔برطانوی میڈیا کے مطابق اسرائیل ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے پیش نظر ہائی الرٹ پر ہے ۔ اسرائیلی ویب سائٹ دی یروشلم پوسٹ نے 11 جنوری کو نامعلوم ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اسرائیل اس امکان کے پیش نظر ہائی الرٹ پر ہے کہ امریکا ایران میں حکومت مخالف تحریک کی حمایت کے لیے مداخلت کر سکتا ہے ۔ادھر وائی نیٹ ویب سائٹ کے مطابق اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو اور امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے 10 جنوری کو ایک ٹیلی فونک گفتگو میں ایران کے خلاف ممکنہ امریکی کارروائی پر تبادلہ خیال کیا۔ایران کی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اگر امریکا ایران پر فوجی حملہ کرتا ہے تو اسرائیل اور امریکی فوجی مراکز جائز اہداف تصور کیے جائیں گے ۔پارلیمان کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے ایرانی سپیکر نے کہا کہ ایران اپنی دفاعی حکمتِ عملی کو صرف جوابی کارروائی تک محدود نہیں رکھے گا بلکہ واضح اور عملی خطرات کی بنیاد پر پیشگی اقدام بھی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیغام صدر ٹرمپ اور ان کے اتحادیوں کے لیے ہے کہ وہ غلط اندازے نہ لگائیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اس وقت چار محاذوں اقتصادی، فکری، عسکری اور دہشت گردی پر امریکا اور اسرائیل کے خلاف برسرِپیکار ہے ۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکا کا مقصد حالیہ 12 روزہ جنگ کے ذریعے ملک کو افراتفری کی طرف دھکیلنا تھا۔ایرانی ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ لوگ اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک تربیت یافتہ ہیں، کچھ دہشت گردوں کو باہر سے ملک میں داخل کیا گیا، مساجد کو آگ لگائی گئی اور رشت میں بازاروں کو جلایا گیا۔
ایرانی صدر نے دعویٰ کیا کہ کچھ لوگ جو عوام میں سے نہیں ہیں اور اس ملک سے تعلق نہیں رکھتے ،انہوں نے لوگوں کو رائفلوں اور مشین گنوں سے قتل کیا۔ کچھ کے سر قلم کیے ، کچھ کو آگ لگا دی۔ان کے مطابق امریکا اور اسرائیل ان فساد بپا کرنے والوں کو کہہ رہے ہیں کہ آگے بڑھو، ہم تمہارے ساتھ ہیں۔مسعود پزشکیان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ گلی محلوں میں جمع ہوں اور افراتفری کو روکیں۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ہدایت یافتہ اور تربیت یافتہ افراد عوام پر گولیاں چلا رہے اور گھروں و املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل اپنے مذموم مقاصد کیلئے ایران میں فسادات کرا رہے ہیں۔ حکومت مسائل حل، عوامی مشکلات کم کرنے کی کوشش کررہی ہے لیکن کسی غیرملکی کوقوم میں انتشارکے بیج بونے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ایرانی صدر نے عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرنے کاوعدہ کیا اور تمام طبقہ ہائے فکرکوفسادات کیخلاف کھڑے ہونے کی دعوت دی۔صدرپزشکیان نے کہا کہ امریکی صدر کو وینزویلا، غزہ اوردیگرمقامات پرکیے اقدامات پرشرم آنی چاہیے ۔صدرپزشکیان نے ایرانی عوام سے ملکی مسائل کے حل کیلئے متحد ہونے کی اپیل کی اور کہاکوئی شہری بے امنی نہ پھیلائے اورکوئی انسان دوسرے انسان کو قتل نہ کرے ، حکومت بدعنوانی کی جڑوں کے خلاف کارروائی کررہی ہے ۔دوسری جانب قومی پولیس چیف احمد رضا رادان نے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب اہم شخصیات کو گرفتار کرنیکا دعویٰ کیا ہے لیکن انہوں نے نام نہیں بتائے ۔
ایران میں مہنگائی کے خلاف ملک گیر مظاہروں میں شدت آ رہی ہے ، مشتعل مظاہرین حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے باوجود سڑکوں پر نکلے ۔رپورٹس کے مطابق گزشتہ تین روز میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں سینکڑوں افراد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔بی بی سی کی طرف سے دیکھی گئی تصدیق شدہ ویڈیوز اور عینی شاہدین کے اکاؤنٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اپنا ردِعمل تیز کر رہی ہے ، کیونکہ اس نے انٹرنیٹ پر مکمل بلیک آؤٹ جاری رکھا ہوا ہے ۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے بھی ایران کے اندر سے رپورٹنگ کرنے سے قاصر ہیں جس کی وجہ سے معلومات کا حصول اور تصدیق مشکل ہو جاتی ہے ۔ بی بی سی کے مطابق کچھ ویڈیو فوٹیج سامنے آئی ہیں ، تصدیق شدہ ویڈیومیں مظاہرین کو تہران کے ضلع گیشا میں سڑکوں پر قبضہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔ متعدد ویڈیوز، جن کی تصدیق بی بی سی ویریفائی نے کی ہے میں ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد کے وکیل آباد بلیوارڈ پر مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہو رہی ہیں۔نقاب پوش مظاہرین آگ کے ایک الاؤ کے پیچھے چھپے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز کے کئی اہلکار کچھ فاصلے پر موجود ہیں۔ قریب ہی ایک گاڑی آگ کی لپیٹ میں ہے ۔اس دوران ایک سے زیادہ گولیاں چلنے کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔ایران کے پراسیکیوٹر جنرل محمد موحدی آزاد نے ملک میں جاری فسادات کے دوران گرفتار کیے گئے افراد کے خلاف مقدمات تیز رفتاری سے چلانے کے لیے خصوصی عدالتیں تشکیل دینے اور جرم ثابت ہونے پر سزائے موت دینے کی ہدایت کی ہے ۔
اُن کا کہنا تھا کہ تمام فسادیوں کے خلاف الزامات یکساں ہیں۔ چاہے کسی نے عوامی سلامتی اور املاک کو نقصان پہنچانے میں فسادیوں اور دہشت گردوں کی مدد کی ہو یا کرائے کے فوجی جنہوں نے ہتھیار اٹھا کر شہریوں میں خوف و ہراس پھیلایا ہو، یہ خدا کے خلاف جنگ ہے اور اس کی سزا صرف موت ہے ۔اُن کا کہنا تھا کہ ان افراد کو دعویٰ نہیں کرنا چاہیے کہ اُن کے ساتھ دھوکہ ہوا۔ کیونکہ اُنہیں دُشمن کے ارادوں کے بارے میں بہت پہلے ہی بتا دیا گیا تھا۔اپنے حکم میں اُنہوں نے کہا کہ کارروائی میں نرمی، ہمدردی یا سمجھوتے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ ایران میں گزشتہ تین سالوں میں سب سے بڑے احتجاجات میں کم از کم 192 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکام پر قتل عام کرنے کا الزام لگایا ہے ۔یہ مظاہرے ابتدا میں مہنگائی کے خلاف شروع ہوئے تھے ، مگر اب ایران کے 1979 کے انقلاب کے بعد کے مذہبی نظام کے خلاف وسیع تر تحریک میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ احتجاجات دو ہفتوں سے جاری ہیں اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے اقتدار کو چیلنج کر رہے ہیں۔نیٹ بلاکس کے مطابق انٹرنیٹ کی بندش کے باوجود مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے ، جس کے نتیجے میں اطلاعات کا تبادلہ مشکل ہو چکا ہے ۔
ایران کے خبر رساں ادارے تسنیم نے جاری بدامنی کے دوران سکیورٹی فورسز کے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تازہ فہرست شائع کی ہے ۔تسنیم کے مطابق 11 جنوری تک مجموعی طور پر 114 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار صوبہ بہ صوبہ ایک فہرست کی صورت میں دئیے گئے ہیں، جسے تسنیم نے کہا ہے کہ مسلسل اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں پولیس، پاسدارانِ انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) اور اس کی نیم فوجی تنظیم بسیج کے اہلکار شامل ہیں۔ ایران میں حکومت مخالف مظاہرے تیسرے ہفتے میں داخل ہو گئے ہیں، جو ملک کے تمام 31 صوبوں تک پھیل چکے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق سکیو رٹی فورسز کی سخت کارروائیوں کے دوران سڑکوں پر تشدد کے مناظر دیکھے جا رہے ہیں، جبکہ ہلاک ہونے والے مظاہرین کی تفصیلات بھی سامنے آ رہی ہیں۔امریکی انسانی حقوق تنظیم کے مطابق گزشتہ 15 دن میں کم از کم 500 مظاہرین ہلاک اور 10 ہزار سے زائد افراد گرفتار ہو چکے ہیں، جبکہ ایران میں 72 گھنٹوں سے انٹرنیٹ اور فون سروس معطل ہے ۔ ایران ہیومن رائٹس نے کم از کم 192 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے ، جبکہ دیگر ذرائع کے مطابق یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے ۔ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال پر عالمی برادری کی تشویش بڑھ گئی ہے اور امریکی تنظیم سی ایچ آر آئی نے کہا کہ ایک قتل عام جاری ہے ، دنیا کو فوری طور پر اقدام کرنا ہوگا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایک ایران نواز ہیکر نے ایسے 600 افراد کی شناخت کی ہے ، جن کے بارے میں حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ موساد کے ایجنٹ ہیں اور ایران میں احتجاج کو بھڑکانے میں ملوث ہیں۔
اسرائیل کے وزیر خارجہ گیدیون سعار نے اتوار کو یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے ۔سعار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ انہوں نے جرمنی کے وزیر داخلہ سے ملاقات میں کہا اب وقت آ گیا ہے کہ یورپی یونین ایران کی انقلابی گارڈز کو دہشت گرد تنظیم قرار دے ۔ انہوں نے مزید کہایہ طویل عرصے سے جرمنی کا بھی موقف رہا ہے اور آج اس معاملے کی اہمیت سب کے سامنے واضح ہے ۔اسرائیل ماضی میں بھی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا مطالبہ کرتا رہا ہے ۔اسرائیلی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیل ایران کے عوام کی آزادی کی جدوجہد کی حمایت کرتا ہے ،اسرائیلی وزیر نے ایرانی حکومت کو دہشت گردی اور شدت پسندی کا سب سے بڑا برآمد کنندہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف اسرائیل کا نہیں بلکہ ایک عالمی اور علاقائی مسئلہ ہے ۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ وہ امید رکھتے ہیں کہ ایران جلد ظلم کی بیڑیاں توڑ کر آزاد ہو جائے گا، کیونکہ اسلامی جمہوریہ میں بڑے پیمانے پر احتجاج جاری ہیں۔نیتن یاہو نے ہفتہ وار کابینہ اجلاس میں کہا ہم سب کی دعا ہے کہ ایرانی قوم جلد ظلم کی بیڑیاں توڑ کر آزاد ہو، اور وہ دن آئے گا جب اسرائیل اور ایران دوبارہ ایک وفادار شراکت دار بن کر دونوں عوام کے لیے خوشحالی اور امن کا مستقبل تعمیر کریں گے ۔ایران میں تعینات پاکستانی سفیر محمد مدثر ٹیپو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وزارت خارجہ نے پاکستانی شہریوں کیلئے ایڈوائزری جاری کی ہے ، شہریوں سے درخواست ہے کہ وہ اس پر عمل کریں۔
پاکستانی سفیر نے مزید بتایا کہ وزارت خارجہ نے کرائسز مینجمنٹ سیل بنا دیا ہے اس سے سہولت فراہم کر رہے ہیں، شہری اور طلبہ اپنی دستاویز اور ادویات ساتھ رکھ کر سفر کریں، طلبہ کا اہلخانہ سے رابطہ نہیں ہو رہا تو سفارتخانہ سے رابطہ کریں ہم بات کروائیں گے ۔برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوجی سربراہ کو حکم دیا ہے کہ وہ گرین لینڈ پر حملے کا منصوبہ تیار کریں۔ تاہم سینئر امریکی فوجی گرین لینڈ پر حملے کے منصوبے کے مخالف ہیں۔ٹرمپ نے کیوبا کو تجارتی معاہدہ کرنے کی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ کیوبا کے لیے اب کوئی پیسا یا تیل نہیں جائے گا، وہ تجارتی معاہدہ کرلے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے ۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر مارکو روبیو کے کیوبا کے آئندہ صدر ہونے کی پوسٹ ری پوسٹ کردی۔خبر ایجنسی کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک صارف نے لکھا تھا کہ کیوبا کے آئندہ صدر مارکو روبیو ہوں گے ، صدر ٹرمپ نے پوسٹ پر \"مجھے اچھا لگا\" کا تبصرہ کیا۔