اسلام کی بقاآزمائشوں میں ہے:فضل الرحمٰن:مدارس کو لاوارث نہ سمجھیں:تقی عثمانی

اسلام کی بقاآزمائشوں میں ہے:فضل الرحمٰن:مدارس کو لاوارث نہ سمجھیں:تقی عثمانی

مدارس پرکوئی سمجھوتہ قبول نہیں :سربراہ جے یو آئی :اسلام کی اشاعت کا بہترین ذریعہ ہیں:صدر وفاق المدارس خود مختاری پر آنچ نہیں آنے دینگے :قاری حنیف جالندھری،مولانا امجدخان ودیگر کا بھی جا معہ اشرفیہ میں خطاب

لاہور،اسلام آباد(سیاسی نمائندہ،مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی ،این این آئی)جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ مدارس کے نظام کو  کسی سازش کا شکار نہیں ہونے دیں گے ،مساجد ومدارس کے تحفظ پرکوئی سمجھوتہ قبول نہیں کیا جا ئے گا،اسلام کی بقاء آسائشوں میں نہیں بلکہ آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے ، اسلام اعتدال کا مذہب ہے ورنہ دنیا میں افراط و تفریط پیدا ہو جائے گی۔ صدر وفاق المدارس مفتی محمد تقی عثمانی نے کہاہے کہ دینی مدارس کو لاوارث نہ سمجھا جائے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ اشرفیہ لاہور میں دستار بندی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔مہتمم جامعہ اشرفیہ مولانا قاری ارشد عبید کی زیر صدارت تقریب سے ناظم اعلیٰ وفاق المدارس قاری حنیف جالندھری ،جے یو آئی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا محمد امجد خان،مولانا محمد یوسف خان، نائب مہتمم مولانا زبیر حسن اشرفی، حافظ اسعد عبید، مولانا احمد عمر، مفتی شاہد عبید، مفتی احمد علی، حافظ سعد اسعد، حافظ زاہد علی ملک، مولانا زاہد محمود ، مولانا مسعود قاسمی، مفتی محمد حسن نے بھی خطاب کیا جبکہ مولانا محمد صفی اللہ، حافظ نصیر احمد احرار، قاری جمال عبدالناصر، منظور آفریدی، حافظ غضنفر عزیز ،مولانا احمد حنیف جالندھری ودیگر بھی موجود تھے ۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ مولانا فضل الرحیم اشرفی کی دینی ، علمی وملی خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں ، ہمارے اکابر کی تاریخ اپنے مقاصد حصول تک جہد مسلسل کی ہے ۔ حضور پاکؐ معلم بھی ہیں مربی بھی ہیں، تعلیم اور تربیت نبوت کا حصہ ہے ،ہمارے مدرسے میں ادب کی تعلیم دی جاتی ہے جو دنیا کی کسی درسگاہ میں موجود نہیں ،آج نوجوانوں کو اپنے بزرگوں سے توڑا جارہا ہے اور انہیں اسلاف سے رشتہ توڑنے کا درس دیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ جب حکمران کی قوت باطلہ حرکت میں آتی ہے تو مشکل پیدا ہوتی ہے اور اس کے مقابلے میں جو آواز کھڑی ہوگی وہی حق کی آواز ہوگی ۔ مفتی محمد تقی عثمانی نے کہا ہم سے پوچھا جاتا ہے کہ مدارس کے فضلاء کی کھپت کہاں ہوگی، اس سب کے پیچھے بنیاد یہ ہے کہ تعلیم کا مقصد تو پیسہ کمانا ہے ،جب تعلیم کا مقصد پیسہ کمانا ہوگا تو پھر جو زیادہ بولی لگائے گا اس کے پیچھے چلا جائے گا ،دینی مدارس اسلام کی اشاعت کا بہترین ذریعہ ہیں ،دعا ہے کہ جامعہ اشرفیہ روایات کے مطابق علم و عرفان کی کرنیں بکھیرتا رہے ۔

قاری محمد حنیف جالندھری نے کہا کہ دینی مدارس کی خود مختاری پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنے دی جائے گی ، آج ہمیں مدارس کو خانقاہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ہم سب دین کے رنگ میں رنگے جائیں ، دنیا بھر سے لوگ دینی تعلیم کے لئے پاکستان کے مدارس کا رخ کرتے ہیں جبکہ دنیاوی تعلیم کے لئے لوگ بیرونی دنیا کا رخ کرتے ہیں۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ مدارس کے ذرائع آمدن کا پوچھتے ہو لیکن اکاؤنٹ کھولنے کی اجازت نہیں دیتے جس سے تمہیں ذرائع بھی خود معلوم ہو جائیں گے ۔ مولانا محمد امجد خان نے کہاکہ اسلام کے نام پر بننے والے وطن عزیز میں اسلام کا پیغام پھیلانے والے مدارس کو تنگ کیا جا رہا ہے ، قر آن وحدیث کا درس دینی مدارس سے قیامت کی صبح تک جا ری وساری رہے گا ۔ علاوہ ازیں مولانا فضل الرحمن نے مہتمم جامعہ اشرفیہ مولانا فضل الرحیم اشرفی کی وفات پر نائب مہتمم جامعہ اشرفیہ صاحبزادہ مولانا زبیر حسن سے ملاقات کے دوران اظہار تعزیت کیا۔اس موقع پر انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحیم اشرفی علم و عمل کا حسین امتزاج تھے ،ان کی وفات سے علمی حلقے یتیم ہوگئے ،مرحوم سے ہمیشہ محبت کا رشتہ رہا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں