ججوں کیخلاف سوشل میڈیا پر مہم،ذمہ داروں کیخلاف کارروائی نہیں ہوئی:لاہور ہائیکورٹ:این سی سی آئی اے کے سربراہ کل ذاتی حیثیت میں طلب

ججوں  کیخلاف سوشل  میڈیا پر مہم،ذمہ داروں کیخلاف کارروائی  نہیں ہوئی:لاہور ہائیکورٹ:این سی سی آئی اے کے  سربراہ کل ذاتی  حیثیت میں طلب

ججز کیخلاف مہم چلانے والوں کی لسٹیں تیار کریں، یہ سائبر دہشتگردی ،ہم تہ تک جائیں گے ،آپ ازخود اختیارات استعمال کرسکتے ،کیوں ڈیوٹی پوری نہیں کی؟ جسٹس علی ضیا پنجاب حکومت ججز کیخلاف کسی مہم کا حصہ نہیں،وفاقی حکومت عدالتی حکم پر من و عن عمل کریگی:ایڈووکیٹ جنرل، این سی سی آئی اے نے مشترکہ انویسٹی گیشن ٹیم بنا دی

لاہور (کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ میں اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی سوشل میڈیا پر کردار کشی مہم کیخلاف درخواست پر سماعت، جسٹس علی ضیا باجوہ نے ڈی جی این سی سی آئی اے کو کل (جمعرات کو)ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیدیا ۔عدالت نے قرار دیا کہ ہم اس معاملہ کی تہ تک جائیں گے ، ججز کیخلاف مہم چلانے والوں کی لسٹیں تیار کریں، یہ سائبر دہشتگردی ہے ، آئندہ کوئی ایسی پوسٹ نظر آئی تو ذمہ دار ڈی جی ہوں گے ۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی ضیا باجوہ نے کیس کی سماعت کی ۔درخواست گزار کی جانب سے قانونی ماہر میاں داؤد پیش ہوئے ، جبکہ عدالت کے حکم پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز ، ڈائریکٹر این سی سی آئی اے حشمت کمال ودیگر افسر پیش ہوئے ۔جسٹس علی ضیا باجوہ نے ججز کیخلاف مہم پرذمہ داروں کیخلاف کارروائی نہ کرنے پر این سی سی آئی اے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔

جسٹس علی ضیا باجوہ نے استفسار کیاکہ سرکاری وکیل صاحب بتائیے کیا این سی سی آئی اے کا ازخود اختیار ختم ہوگیا ؟،حشمت کمال صاحب آپ پنجاب کے سربراہ ہیں کیوں خاموش ہیں؟ ،حشمت کمال صاحب بتائیے اب تک ایکشن کیوں نہیں ہوا؟،این سی سی آئی اے کیوں سو رہا ہے کیا وجہ ہے ؟،جسٹس علی ضیا باجوہ نے کہاکہ اتنی خوفناک مہم ججز کے خلاف چلائی جارہی ہے اب تک ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی ۔ ڈائریکٹر این سی سی آئی اے حشمت کمال نے کہاکہ ہم وقتاً فوقتاً ہر معاملے کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ جسٹس علی ضیا باجوہ نے کہا آپ کی قانون کے مطابق یہ ڈیوٹی تھی کہ ججز کیخلاف یا اداروں کیخلاف کوئی ایسا مواد آئے تو آپ ازخود اختیارات استعمال کرسکتے ہیں ،کیوں آپ نے ڈیوٹی پوری نہیں کی؟ ،سیکشن 37کہتا ہے غیر قانونی کانٹینٹ کو ہٹانے کیلئے اقدامات کیے جائیں گے ، اب تک کوئی ایک ایکشن نہیں لیا گیا ۔ دوران سماعت عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز سے استفسار کیا کہ بتائیے پنجاب حکومت کیا کررہی ہے ؟ ۔ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز نے کہاکہ پنجاب حکومت ججز کیخلاف کسی مہم کا حصہ نہیں اور ججز کیخلاف مہم کی مذمت کرتی ہے ۔

جسٹس علی ضیا باجوہ نے کہا پنجاب حکومت کا موقف واضح ہے ،بتائیے وفاقی حکومت کا کیا موقف ہے ؟ ۔سرکاری وکیل نے کہاکہ وفاقی حکومت عدالتی حکم پر من و عن عمل کرے گی ۔درخواست گزار کے وکیل میاں دائود نے موقف اختیار کیا تھا کہ ججز کیخلاف سوشل میڈیا مہم پر این سی سی آئی اے کی خاموشی نے بھی سوالات کھڑے کئے ہیں، ججز کیخلاف سوشل میڈیا مہم میں ملوث اکائونٹس کیخلاف مقدمات درج کرنے ، توہین آمیز مواد کی مسلسل مانیٹرنگ اور اسے فوری ہٹانے کا حکم دیا جائے ۔عدالت نے کل 15جنوری کو ڈی جی این سی سی آئی اے سمیت دیگر افسروں کو طلب کرلیا۔ادھر دوسری جانب این سی سی آئی اے نے معاملے کی تحقیقات کے لیے چار رکنی مشترکہ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی ،نوٹیفکیشن کے مطابق ایڈیشنل ڈائریکٹر لا سرفراز احمد کھٹانہ ،اسسٹنٹ ڈائریکٹر سید علی ،انسپکٹر نجف خان ،سب انسپکٹر وسیم خان ٹیم میں شامل ہیں جبکہ مشترکہ انویسٹی گیشن ٹیم تین روز میں واقعہ کی انکوائری کرکے رپورٹ جمع کرائے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں