درختوں کی کٹائی کیخلاف اپوزیشن اور حکومتی اتحادی ایک پیج پر:قانون کے مطابق کاٹے:طلال

 درختوں کی کٹائی کیخلاف اپوزیشن اور حکومتی اتحادی ایک پیج پر:قانون کے مطابق  کاٹے:طلال

اب تک 29ہزار 115درخت کٹے ، بدلے میں 40ہزار درخت لگائے جا چکے :وزیر مملکت داخلہ ،معاملہ کی تحقیقات کریں :شازیہ مری ڈکیتیوں میں اسلام آباد پولیس ملوث :شیر افضل مروت،میرا شناختی کارڈ بلاک نہیں منسوخ کر دیا گیا:نور عالم کا قومی اسمبلی میں انکشاف

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر/نامہ نگار)قومی اسمبلی کے اجلاس میں اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی، صنعتوں کی بندش، بجلی و گیس کی قلت کیخلاف اراکینِ اسمبلی نے شدید احتجاج اور تشویش کا اظہار کیا۔ اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی پر اپوزیشن اور حکومتی اتحادی جماعتیں ایک پیج پر آگئیں۔اپوزیشن اور حکومتی اتحاد ی جماعتوں نے معاملہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کو بھجوانے کا مطالبہ کیا۔ڈپٹی سپیکر نے درختوں کی کٹائی اور ماحولیاتی امور کو مزید غور کے لیے قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے سپرد کرنے کی ہدایت کر دی۔وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چودھری نے درختوں کی کٹائی کو اسلام آباد کے ماسٹر پلان سے جوڑ دیا اور کہا کہ شہر کے ماسٹر پلان پر کئی جگہ گرین جبکہ کئی جگہوں پر عمارتیں اور انفراسٹرکچر بننا تھا۔انہوں نے کہا کہ انفر اسٹرکچر کے لیے کاٹے گئے درختوں کی جگہ دوگنا درخت لگائے گئے ہیں، اسلام آباد اب پہلے سے زیادہ سبز اور محفوظ ہے ۔وزیرِ مملکت داخلہ طلال چودھری نے عدالتی فیصلوں اور ماہرینِ جنگلات کی کمیٹی کی سفارشات کا حوالہ دیتے ہوئے کٹائی کے عمل کو قانون کے مطابق قرار دیا اور کہا کہ وفاقی دارالحکومت سے صرف وہی درخت ہٹائے گئے جو انسانی صحت کے لیے مضر تھے ۔

یہ اقدام سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں سائنسی سروے کے بعد کیا گیا۔پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے درختوں کی کٹائی کے معاملے کو تحقیقات کے لیے قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کو بھجوانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شکرپڑیاں سمیت مختلف علاقوں سے ہزاروں درخت کاٹے جانے کی خبریں ہیں، معاملہ بہت سنگین ہے ۔پی ٹی آئی کے علی محمد خان نے کہا کہ پولن کے باعث جنگلی شہتوت کاٹے جانا سمجھ آتا ہے لیکن 40 سے 50 سال پرانے درخت کیوں کاٹے گئے ۔پرانے درختوں کی کٹائی ماحولیات کے لیے نقصان دہ ہے اور اس معاملے پر فوری توجہ دی جانی چاہیے ۔ وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے کہا کہ پیپر ملبیری جیسے درخت الرجی اور بیماریوں کا سبب بن رہے تھے ۔ان کے مطابق اب تک 29 ہزار 115 مضرِ صحت درخت ہٹائے گئے جبکہ ان کے بدلے 10 فٹ سے زائد قد کے 40 ہزار درخت لگائے جا چکے ہیں اور 30 مارچ تک مزید 60 ہزار درخت لگائے جائیں گے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہر ایک درخت کے بدلے چار گنا زیادہ شجرکاری کی گئی۔ ایم این اے ریاض فتیانہ کے نکتۂ اعتراض پر وزیرِ مملکت نے عدالتی فیصلوں اور ماہرینِ جنگلات کی کمیٹی کی سفارشات کا حوالہ دیتے ہوئے کٹائی کے عمل کو قانون کے مطابق قرار دیا۔

ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ شہر میں تعمیرات کے باعث کچھ پرانے درخت بھی کاٹے گئے ہیں جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔ صرف باتوں سے کام نہیں چلے گا، 23 مارچ یا 14 اگست کو نیشنل پلانٹیشن ڈے منایا جائے ۔پی ٹی آئی کے علی محمد خان نے مردان اور گردونواح میں بجلی اور گیس کی شدید قلت کی نشاندہی بھی کی۔پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے نے بیرونِ ملک جانے والے مسافروں کو ایئرپورٹس پر آف لوڈ کیے جانے پر بھی تنقید کرتے ہوئے واضح اور بہتر پالیسی اپنانے پر زور دیا۔آغا رفیع اللہ نے کہا کہ صنعتکار ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک جا رہے ہیں جو معیشت کے لیے خطرناک ہے ، وزیراعظم کو اس معاملے کا فوری نوٹس لینا چاہیے ۔ بحث کے اختتام پر ڈپٹی سپیکر نے درختوں کی کٹائی اور ماحولیاتی امور کو مزید غور کے لیے قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے سپرد کرنے کی ہدایت کر دی۔میجر(ر) طاہر اقبال نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ پی ڈبلیو ڈی کے خاتمے کے فیصلے کے بعد چکوال سمیت کئی علاقوں میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے ادھورے پڑے ہیں اور یہ تاحال صوبائی حکومتوں کو منتقل نہیں کیے گئے جس سے عوامی فنڈز ضائع ہونے کا خدشہ ہے ۔ علاوہ ازیںقومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے شیرافضل مروت نے الزام عائد کیا کہ اسلام آباد میں جو ڈکیتیاں ہو رہی ہیں ان میں اسلام آباد پولیس ملوث ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک ڈکیتی 2 کروڑ کی ہوئی جو گرفتاری کے بعد انہوں نے پیسے واپس کیے ، 2 ایس ایچ اوز اور بھی ہیں جنہوں نے 10 کروڑ 17 لاکھ روپے لوٹے ہیں، اس کے علاوہ ایک این سی سی آئی اے ہے جو اپریل 2025 میں بنی اور ملک میں انت مچا دی، شہریوں سے پیسے بٹورنے کے چکر میں بے بنیاد مقدمے بنائے ، اسلام آباد میں 5 جگہوں پر ایک خفیہ ایجنسی کے نام پر چھاپے مارے گئے ۔

وزیر مملکت طلال چودھری نے کہا کہ جن کیسز کی نشاندہی شیر افضل مروت نے کی اس پر معاملہ دیکھ کر خود انہیں بتاؤں گا۔ شہرام خان ترکئی نے کہا کہ صوابی میں سردیوں میں 18،18 گھنٹے بجلی بند کی جا رہی ہے ، بل 40 سے 50 ہزار روپے تک آ رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ سندھ بھر میں لوڈشیڈنگ جاری ہے ، ان کے اپنے حلقے میں 20،20 گھنٹے بجلی بند رہتی ہے ، سردی میں نہ بجلی ہے نہ گیس اور عوام کو کوئی جواب دینے والا نہیں۔پیپلز پارٹی کے نبیل گبول نے کے ا لیکٹرک کے رویے اور لوڈ شیڈنگ کیخلاف ایوان سے واک آئوٹ کیا، پیپلز پارٹی کے سردار نبیل گبول نے کہا کہ دو سال سے کراچی شدید اذیت میں ہے ، کے الیکٹرک ایک سفید ہاتھی بن چکا ہے اور شہر کو کربلا بنا دیا گیا ہے ۔ انہوں نے وزرا کی عدم موجودگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ کے الیکٹرک کے خلاف ٹوکن بائیکاٹ کریں گے ۔ جے یو آئی کے نور عالم خان نے انکشاف کیا کہ انکا شناختی کارڈ بلاک نہیں بلکہ بالکل منسوخ کر دیا گیا ہے جبکہ بینک اکا نٹس اور کریڈٹ کارڈز بھی بلاک کیے گئے ۔ ایس این جی پی ایل نے نادرا کو خط لکھا اور انہوں نے میرا شناختی کارڈ منسوخ کیا، سپیکر ایاز صادق نے کہا کہ آپ مجھے لکھ کر دیں، میں اس معاملے کو دیکھتا ہوں۔قومی اسمبلی میں نادراترمیمی بل 2025 سمیت تین بلز پیش کردئیے گئے سحرکامران نے علاقہ دارالحکومت اسلام آبادبیٹریاں انتظام ودوبارہ کارآمدبنانے کابل 2025ایوان میں پیش کیا۔ طاہراقبال نے کوآپریٹوسوسائٹیزترمیمی بل ایوان میں پیش کرنے کی اجازت چاہی،اجازت ملنے پرانہوں نے بل ایوان میں پیش کردیا۔ ایوان نے مختلف ہوائی اڈوں پر دستاویزات کے حامل مسافروں کو سفر کی اجازت نہ دینے کی تحقیقات کیلئے فوری اقدامات کرنے کی قراردادکی متفقہ طورپرمنظوری دے دی ۔ یہ قرارداد پیپلز پارٹی کے آغارفیع اللہ نے پیش کی ، بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس آج صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں