7افرادقتل کامقدمہ ،سابق مشیر وزیراعلیٰ سندھ کی ضمانت منظور

7افرادقتل کامقدمہ ،سابق مشیر وزیراعلیٰ سندھ کی ضمانت منظور

ایف آئی آر میں 22 افراد کو نامزد کیا گیا مگر محمد اسماعیل کا نام شامل نہیں تھا:سپریم کورٹ واقعہ اسماعیل کے ایما پر ہوا:وکیل مدعی، ایک گواہ کے بیان پر شامل تفتیش کیا گیا:وکیل ملزم

اسلام آباد(کورٹ رپورٹر)سپریم کورٹ نے پیپلز پارٹی کے رہنما اور وزیراعلیٰ سندھ کے سابق مشیر محمد اسماعیل کی ایک لاکھ کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔ کیس کی سماعت جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جس میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس ملک شہزاد احمد خان بھی شامل تھے ۔سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ ملزم کے لیے بار بار "بااثر" کا لفظ کیوں استعمال کیا جا رہا ہے ۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کو بتایا جائے کہ آخر ملزم بااثر کیسے ہے ۔اس پر جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ یہ تو بتایا جا رہا ہے کہ ملزم بہت پاور فل ہے ، آخر وہ ہے کون؟ملزم کے وکیل فرہاد ابڑو نے مؤقف اختیار کیا کہ محمد اسماعیل کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے اور وہ وزیراعلیٰ سندھ کے سابق مشیر رہ چکے ہیں، تاہم انہیں ایک جھوٹے اور من گھڑت مقدمے میں پھنسا دیا گیا ہے ۔

وکیل کے مطابق صوبائی وزیر داخلہ نے ملزم کے خلاف پندرہ جھوٹی ایف آئی آرز درج کروائیں۔سرکاری وکیل نے کیس ملتوی کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ مقدمے کا مکمل ریکارڈ تاحال موصول نہیں ہوا۔ اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ منگوانا استغاثہ کی ذمہ داری تھی، فائل کیوں نہیں منگوائی گئی، عدالت کے ساتھ مذاق نہ کیا جائے ۔مدعی مقدمہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے شکایت کنندہ کی بیٹی کو اپنی حراست میں رکھا، تاہم جسٹس جمال مندوخیل نے ہدایت کی کہ عدالت کے سامنے موجودہ کیس کے حقائق پر ہی بات کی جائے ۔ سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے نشاندہی کی کہ ایف آئی آر میں بائیس افراد کو نامزد کیا گیا تھا مگر محمد اسماعیل کا نام شامل نہیں تھا۔ مدعی کے وکیل نے کہا کہ سارا واقعہ محمد اسماعیل کی ایماء پر ہوا۔ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ محمد اسماعیل کو صرف ایک پراسیکیوشن گواہ کے بیان کی بنیاد پر شامل تفتیش کیا گیا۔ مدعی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ واقعے میں سات افراد قتل ہوئے ہیں، جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ اگر سات افراد قتل ہوئے تھے تو ملزم کا نام پہلے دن ہی مقدمے میں شامل ہونا چاہیے تھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں