طالبان رجیم :افغانستان میں آزادیِ صحافت کو زوال ،سچ بولنا جرم
تشدد، گرفتاریوں،سخت سنسرشپ کا سامنا ،خواتین صحافیوں کیلئے حالات مزید سنگین 2024 میں افغانستان میں 12میڈیا ہائوسز بند ،خواتین کی 80فیصد نوکریاں ختم
اسلام آباد(خصوصی نیوز رپورٹر)افغان طالبا ن رجیم کے زیرِ سایہ افغانستان میں آزادیِ صحافت بدترین زوال کا شکار ہو چکی ہے جہاں سچ بولنا جرم بن گیا اور صحافیوں کو تشدد، گرفتاریوں اور سخت سنسرشپ کا سامنا ہے ۔ بالخصوص خواتین صحافیوں کے لیے حالات انتہائی خطرناک اور ناقابلِ برداشت ہو چکے ہیں۔دی افغانستان انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق افغان میڈیا سپورٹ آرگنائزیشن نے انکشاف کیا ہے کہ طالبان نے صوبہ قندوز میں خاتون صحافی نذیرہ رشیدی کو گرفتار کر لیا ۔ اطلاعات کے مطابق نذیرہ رشیدی کو منگل 6 جنوری کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا جبکہ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ چار دن سے طالبان کی تحویل میں ہیں اور ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔افغان میڈیا پروٹیکشن آرگنائزیشن کے مطابق خاتون صحافی کو بغیر کسی قانونی جواز کے گرفتار کیا گیا ۔ تنظیم نے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ نذیرہ رشیدی کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے افغانستان میں 93 فیصد خواتین صحافی خوف، دبائواور پابندیوں کے ماحول میں کام کرنے پر مجبور ہیں جبکہ 55 فیصد خواتین صحافیوں کو طالبان کی جانب سے ذاتی دھمکیوں اور ہراسانی کا سامنا ہے ۔ آر ایس ایف کے مطابق 2025 میں افغانستان آزادیِ صحافت پر پابندیوں کے باعث 180 ممالک میں سے 175ویں نمبر پر آ چکا ہے ، جو دنیا کے نچلے ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے ۔ 2024 کے دوران افغانستان میں 12 میڈیا ہائوسز بند کیے گئے جبکہ خواتین صحافیوں کی 80 فیصد نوکریاں ختم ہو گئیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کی مسلسل عدم توجہی اور خاموشی کے نتیجے میں افغانستان میں آزادیِ اظہار اور آزاد صحافت ہمیشہ کے لیے ماضی کا قصہ بنتی جا رہی ہے ۔