کچھ قوتیں جھوٹا بیانیہ بنا کر سند ھ کے وسائل پر ڈاکا ڈالنا چاہتی ہیں:بلاول بھٹو
سازش کے تحت صوبے کی کردار کشی کی جاتی،جو یہ سمجھتے ہیں عوام کی ترقی کا راستہ صرف اسلام آباد سے نکلے گا 18 ویں ترمیم کے بعد تھر ان قوتوں کو بہترین جواب، یہاں اتنا کوئلہ موجود جتنا سعودی عرب کے پاس تیل:خطاب
تھرپارکر(نمائندہ دنیا،مانیٹرنگ ڈیسک)پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ تھر میں اتنا کوئلہ موجود ہے جتنا سعودی عرب کے پاس تیل ہے ، مگر بدقسمتی سے ہمیں اپنے وسائل استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے ، سازش کے تحت مہم چلائی جاتی ہے کہ سندھ حکومت نے کچھ نہیں کیا،کام نہ کرنے کا جھوٹا بیانیہ بنا کر کچھ قوتیں سندھ کے وسائل پر ڈاکا ڈالنا چاہتی ہیں، 18 ویں ترمیم کے تحت دیے گئے اختیارات واپس لینا چاہتی ہیں،محترمہ بے نظیر بھٹو نے کام شروع کیا تو سازش کے تحت انہیں روک دیا گیا، کوئلہ کے اس ایک منصوبے سے نہ صرف تھر میں معاشی انقلاب آیا بلکہ اسلام آباد کوبھی بجلی فراہم ہوئی، جو یہ سمجھتے ہیں کہ سندھ کے عوام کی ترقی کا راستہ صرف اسلام آباد سے نکلے گا، تھرکے عوام نے اسے غلط ثابت کردیا ہے ، تھر میں پیپلزپارٹی کا کیا گیا کام اُن قوتوں کو بہترین جواب ہے ،تھر کا کوئلہ یہاں کے عوام کا اثاثہ ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے تھرپارکر کے گاؤں مٹھڑیو کے قریب نیشنل انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ انجینئرنگ یونیورسٹی کیمپس کی نئی عمارت کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
بلاول نے کہا کہ کچھ قوتیں صوبے کے حقوق پر حملہ کرنا چاہتی ہیں اور تھرپارکر کو جواز بنا کر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ چھوٹے صوبے نے کچھ نہیں کیا اختیارات اسلام آباد کو دیے جائیں۔ مذکورہ جھوٹے بیانیے کا سب سے بڑا جواب تھرپارکر ہے کہ کس طریقے سے اٹھارویں ترمیم کے بعد تھرپارکر ترقی کے حوالے تبدیل ہوا ہے ، جو اب ساری دنیا کے سامنے ہے ۔ ماضی کا تھرپارکر اور آج کا تھرپارکر ایک جیسا نہیں رہا۔ تھر کے کوئلے سے معاشی انقلاب آیا، جہاں پہلے صحت کی سہولیات نہ ہونے کے برابر تھیں، آج پورے تھر میں ہسپتال قائم کیے جا چکے ہیں۔ تھر کے نوجوانوں کے لیے این ای ڈی یونیورسٹی کی اپنی عمارت موجود ہے اور جلد اس کیمپس کو مکمل یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت نے 2008 سے آج تک سندھ کی یونیورسٹیوں کی تعداد دگنی کی،کوئی دوسرا صوبہ سندھ سے یہ مقابلہ نہیں جیت سکتا۔وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ ماضی میں کراچی سے مٹھی پہنچنے میں 8 گھنٹے لگتے تھے جبکہ آج یہ سفر 4 گھنٹوں میں طے ہو جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے سڑکوں کا جال بچھایا، پانی اور صحت کے شعبوں میں انقلابی اقدامات کیے اور آج تھر پاکستان کی قسمت بدلنے میں کردار ادا کر رہا ہے ۔