کچھ کمپنیا ں پاکستان سے جارہی ہیں،توانائی قیمت اور ٹیکس زیادہ :وزیرخزانہ کا اعتراف
ڈیوٹیز کو معقول بنانا اور کاروباری لاگت کم کرنا ہوگی، جون تک تمام حکومتی ادائیگیاں ڈیجیٹل چینلز پر منتقل ہو جائینگی معاشی ترقی کیلئے اصلاحات ناگزیر :مشیر ، پالیسیوں میں تسلسل لانا ہوگا،ڈار،پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب
اسلام آباد(وقائع نگار،دنیا نیوز) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اعتراف کیا کہ یہ سچ ہے کچھ کمپنیاں پاکستان سے جا رہی ہیں،یہ حقیقت ہے ٹیکس اور توانائی کی قیمت زیادہ ہے ۔ڈیوٹیز کو معقول بنانا اور کاروباری لاگت کم کرنا ہوگی۔جون تک تمام حکومتی ادائیگیاں ڈیجیٹل چینلز پر منتقل ہو جائینگی،اسلام آباد میں پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ معاشی اصلاحات سے ہی ترقی ممکن ہے ، معیشت کی بہتری کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، نجی شعبے کو آگے آ کر معیشت میں کردار ادا کرنا ہوگا۔کچھ کمپنیاں پاکستان سے جا رہی ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ زیادہ ٹیکس اور انرجی کی بلند قیمتیں کاروبار کیلئے سنجیدہ مسائل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس پالیسی کو ایف بی آر سے لے کر فنانس ڈویژن کو منتقل کیا تاکہ پالیسی سازی اور ٹیکس وصولی کے عمل کو الگ کیا جا سکے ، ایف بی آر کا فوکس ٹیکس وصولی پر ہے ، رواں برس جون تک تمام حکومتی ادائیگیاں ڈیجیٹل چینلز پر منتقل ہو جائیں گی، غیر بینکنگ افراد کو باقاعدہ مالیاتی نظام میں شامل کیا جا رہا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال 38ارب ڈالر کے ترسیلات زر آئے ، رواں سال 41 ارب ڈالر ترسیلات زر آنے کی توقع ہے ۔ ٹیرف میں کمی سے پاکستان کی برآمدات اور صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگا، قرضوں کی ادائیگی خود کم نہیں ہوئی، ہم نے اقدامات کئے ۔
وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ یہ سچ ہے کہ کچھ کمپنیاں ملک سے جا رہی ہیں، ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ ٹیکس یا توانائی کی قیمت زیادہ ہے تو یہ حقیقی مسائل ہیں۔ سرکاری اداروں میں ہر سال تقریباً ایک ہزار ارب روپے ضائع ہو رہے ہیں، یوٹیلیٹی سٹورز، پی ڈبلیو ڈی اور پاسکو کو بند کیا گیا، ان اداروں کو دی گئی سبسڈی میں کرپشن ہو رہی تھی۔وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی کیلئے اصلاحات ناگزیر ہیں، برآمدات پر مبنی ترقی کو فروغ دیا جا رہا ہے ، حکومت معاشی اصلاحات کے لیے پرعزم ہے ۔ نجکاری کوئی نظریاتی منصوبہ نہیں بلکہ مارکیٹ کی خرابیوں کودرست کرنے کا طریقہ ہے ۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت معاشی اصلاحات کے ایجنڈے پر گامزن ہے ، سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر پالیسیوں میں تسلسل اور شفافیت لانا ہوگی، معیشت کی بنیادوں کو مضبوط بنانا ضروری ہے ۔ معاشی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا وقت کا تقاضا ہے ، انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل کامیابی سے مکمل ہوا، پی آئی اے کی نجکاری سے قومی خزانے پر مالی بوجھ کم ہوگا اور ایئرلائن جدید خطوط پر استوار ہوگی، توانائی شعبے میں گردشی قرضوں کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں، حکومتی اداروں میں شفافیت اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے ، معاشی ترقی کیلئے صرف باتوں سے آگے بڑھ کر ڈلیوی پر توجہ دینی ہوگی۔