ٹرمپ کا طرز عمل اب تیسری عالمی جنگ کا خدشہ ظاہر کررہا
ایران کے اندر سیاسی تبدیلی ممکن نظر نہیں آ رہی، مشرق وسطی ٰمیں جنگ ہو سکتی
(تجزیہ:سلمان غنی)
امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سے دھمکی دی ہے کہ احتجاجی مظاہرین کو پھانسیاں دیں تو سخت کارروائی ہوگی اور جواباً ایران بھی پسپائی اختیار کرنے کیلئے تیار نہیں اور ایرانی حکومت مظاہروں میں ملوث افرادکے خلاف کارروائی میں تیزی لاتی نظر آرہی ہے ۔ صورتحال ہر آنے والے لمحات میں پریشان کن بنتی جا رہی ہے البتہ ایران کے اندر سے حکومتی تبدیلی کے عمل بارے رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ فی الحال یہ سلسلہ ممکن نظر نہیں آ رہا اور اس کی بڑی وجہ احتجاجی مظاہرین کی قیادت کسی منظم سیاسی قوت کے پاس نہ ہونا ہے ۔اس کا تجزیہ ضروری ہے کہ امریکا ایران کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کرے گا جواباً ایرانی حکومت عملی اقدامات کرے گی یا پسپائی اختیار کرے گی اور امریکی حکمت عملی کے تحت ایران میں رجیم چینج کا منصوبہ ممکن ہوگا۔ امریکی صدر ٹرمپ ایران میں رجیم چینج کے حوالہ سے بڑی جلدی میں ہیں۔
لہٰذا ایران کے اندر سیاسی تبدیلی ممکن نظر نہیں آ رہی اور ان امریکی تائید و حمایت سے خود ایرانی عوام پر سوچنے پر مجبور نظر آ رہے ہیں کہ ایرانی حکومت کی تبدیلی کے بعد نظم و نسق کس کے ہاتھ آئے گا اور کیا چل پائے گا ،ویسے بھی اگر دیکھا جائے تو مختلف ممالک خصوصاً لیبیا، شام، عراق سمیت مختلف ملکوں میں امریکی دباؤ پر آنے والی تبدیلیوں کے نتیجہ میں یہاں مضبوط حکومتیں قائم نہ ہوسکیں اور یہ ملک کمزور ہوئے اور ایران کے حوالہ سے ماہرین یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ امریکی جارحیت کے نتیجہ میں حکومت تو تبدیل ہو سکتی ہے مگر کیا یہ چل پائے گی لہٰذا یہی وہ سوال ہے ، ایسی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں جن میں وینزویلا کی مثال دی گئی ہے کہ وہاں پر امریکی حملہ کے نتیجہ میں امریکا ان کے صدرکو تو اٹھالے گیا لیکن وینزویلا میں استحکام کوسوں دور ہے ،ایران امریکا کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے ،ایران امریکا سے تو نہیں نمٹ پائے گا لیکن اسرائیل کو ٹارگٹ ضرور کرے گااور اب بھی یہی صورتحال ہے کہ جب سے امریکا نے ایران کو ٹارگٹ کرنے اور اس کے خلاف جارحانہ عزائم ظاہر کئے ہیں ایرانی قیادت کا ردعمل بھی دفاعی نہیں جارحانہ ہے ۔ البتہ علاقائی اور عالمی فورمز صدر ٹرمپ کا طرز عمل اب تیسری عالمی جنگ کا خدشہ ظاہر کررہے ہیں اور کوئی بھی صدرٹرمپ کے سامنے آنے کیلئے تیار نظر نہیں آ رہا ۔
عمومی رائے میں کہا جا رہاہے کہ کسی جنگ کے امکانات زیادہ نہیں البتہ محدود یا ٹارگٹڈ کارروائی کو خارج ازامکان قرار نہیں دیاجا سکتا اور یہ بھی کہا جا رہا ہے ہوسکتا ہے کہ امریکاکی جانب سے یہ کارروائی جارحیت کے ارتکاب کی ضرورت کی بجائے خود ایران کے اندر سے ہو البتہ اس وقت امریکی جارحیت کے حوالہ سے یہ سوال بھی خطہ کے ممالک میں پریشانی کا باعث ہے کہ ایران پر حملہ مشرق وسطی ٰکو جنگ میں جھونک سکتا ہے اس سے تیل کی قیمتیں عالمی معیشت اور سپلائی چین شدید متاثر ہوگی۔ماضی میں امریکا نے اپنے اہداف کے حصول کیلئے دنیا میں مداخلت کی اپنی برتری کو برقرار رکھا لیکن اب امریکا کھل کر دنیا کے سامنے آ گیا ہے اور یہ بھی خوش فہمی ہوگی کہ صدر ٹرمپ اکیلا اس تبدیلی کے ذمہ دار ہیں۔امریکا میں ادارے ملکر پالیسی بناتے ہیں اب امریکا نے فیصلہ کرلیا ہے کہ دنیا پر وہ اپنی حاکمیت قائم کریگا جہاں تک نئی پیدا شدہ صورتحال میں پاکستان کی حکمت عملی کا سوال ہے تو پاکستان براہ راست صورتحال میں فریق تو نہیں بن رہا البتہ وہ اپنے اس اصولی موقف پر گامزن ہے کہ جارحیت کا عمل مسائل پیدا کرتا ہے ۔ لہٰذا ایسا طرز عمل اختیار نہ کیا جائے جس سے امن کیلئے خطرات ہوں لہٰذا ہمیں ہر حال میں اپنی اندرونی مضبوطی کے ایجنڈا پر گامزن ہونا چاہئے اور یہی ایک صورت ہوگی کہ ہم عالمی اور علاقائی سطح پر خطرات اور خدشات سے نمٹ پائیں گے ۔