IMFپروگرام اینٹی گروتھ:اسحاق ڈار:کمپنیاں پاکستان سے جارہیں ٹیکس اور توانائی قیمت زیادہ:محمد اورنگریب

IMFپروگرام اینٹی گروتھ:اسحاق ڈار:کمپنیاں پاکستان سے جارہیں ٹیکس اور توانائی  قیمت زیادہ:محمد اورنگریب

ہم ایف 17ایکسپورٹ کر رہے ، 2.5فیصد آبادی بڑھوتری سے 2.6فیصد جی ڈی پی گروتھ عملاً زیرو ، ملک میں 8ٹریلین ڈالر کے منرل ریسورسز :نائب وزیراعظم امارات کے 3ارب ڈالر رول اوور پر جلد پیشرفت ، سرکاری اداروں میں سالانہ ایک ہزار ارب ضائع ،رواں مالی سال سود ادائیگیوں میں 8سو ارب تک بچت :وزیرخزانہ

 اسلام آباد (مدثر علی رانا) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف پروگرام کو اینٹی گروتھ قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2.5 فیصد آبادی میں اضافے کے مقابلے میں 2.6 فیصد جی ڈی پی گروتھ عملی طور پر زیرو گروتھ ہے ۔ملک میں 8 ٹریلین ڈالر کے منرل ریسورسز موجود ہیں،پاکستان ایف 17 ایکسپورٹ کر رہا۔ وزیر خزانہ سینیٹر اورنگزیب نے کہا کہ یہ سچ ہے کچھ کمپنیاں پاکستان سے جا رہی ہیں،یہ حقیقت ہے ٹیکس اور توانائی کی قیمت زیادہ ہے ۔ڈیوٹیز کو معقول بنانا اور کاروباری لاگت کم کرنا ہوگی۔جون تک تمام حکومتی ادائیگیاں ڈیجیٹل چینلز پر منتقل ہو جائینگی،سرکاری اداروں میں ہر سال ایک ہزار ارب ضائع ہورہے ،رواں مالی سال سود ادائیگیوں میں 8 سو ارب تک بچت ہو گی، یو اے ای کے 3 ارب ڈالر رول اوور پر جلد پیشرفت ہو گی۔ احسن اقبال نے کہا کہ اڑھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں اور 40 فیصد سے زائد آبادی غربت کا شکار ہے ۔

وفاقی وزیر مصد ق ملک نے کہا کہ حکومت کو بیرونی قرض 12 فیصد شرح سود پر ملتا ہے جبکہ سابق دور میں 50 لوگوں کو چار ارب ڈالر قرضے صفر شرح پر دیئے گئے ۔چار ارب ڈالر امیر طبقے کو نہیں چھوٹی کمپنیوں کو دینا ہونگے ، پاکستان کے ہر بچے کو ترقی کی امید دلانا ہوگی۔اسلام آباد میں پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ملک میں 8 ٹریلین ڈالر کے معدنی وسائل موجود ہیں جبکہ معاشی ترقی کے لیے پالیسیوں میں تسلسل ضروری ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ بیرونی قرضہ 100 ارب ڈالر اور واجبات 30 ارب ڈالر ہیں۔ کرنٹ اکاؤنٹ کو قابو میں رکھنے کے لیے 10 ارب ڈالر کی برآمدات، 10 ارب ڈالر کی ترسیلات زر اور 10 ارب ڈالر کی خدمات کی برآمدات بڑھانا ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں ملکی معیشت کے مفاد میں ہونی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اب جے ایف 17 فائٹر جیٹ برآمد کر رہا ہے ۔ سی پیک فیز ٹو میں قراقرم ہائی وے کو دیامر بھاشا ڈیم کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے جس پر جلد کام شروع ہو جائے گا۔ اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان نے امریکا کے ساتھ 19 فیصد ٹیرف ریٹ پر ڈیل کی ہے جبکہ ایس پی پلس اسٹیٹس پر پیش رفت کے لیے جرمنی اور ہنگری نے حمایت دی ہے ۔

سعودی عرب کے ساتھ ستمبر میں ہونے والے معاہدے کے بعد حرمین شریفین کے تحفظ کی ذمہ داری پاکستان کے پاس ہوگی۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان 12 برس بعد تعلقات بحال ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کامیابی سے مکمل ہو چکی ہے جس سے اعتماد بحال ہوگا اور سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کی ترغیب ملے گی۔ ملکی معاشی استحکام کے لیے پالیسیوں میں تسلسل ناگزیر ہے ۔ حکومت سنبھالتے وقت ڈیفالٹ کے خدشات تھے مگر عزم تھا کہ آئی ایم ایف ہو یا نہ ہو، ڈیفالٹ نہیں ہونے دیں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ چین سے 4 ارب ڈالر، سعودی عرب سے 5 ارب ڈالر اور یو اے ای سے 3 ارب ڈالر کے رول اوور کیے جائیں گے ۔وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کے دوران کہا کہ گزشتہ مالی سال ترسیلات زر 38 ارب ڈالر تھیں جبکہ رواں سال یہ 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور ایف بی آر کی ٹرانسفارمیشن پر عمل جاری ہے جبکہ کمپلائنس اور انفورسمنٹ کے ذریعے ٹیکس قوانین پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے ۔ توانائی کے شعبے میں اصلاحات جاری ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں مقامی سرمایہ کاروں نے شرکت کی، 24 ادارے نجکاری کمیشن کے حوالے کیے جا چکے ہیں، جبکہ یوٹیلیٹی سٹورز، پی ڈبلیو ڈی اور پاسکو کو بند کر دیا گیا ہے کیونکہ ان اداروں کو دی جانے والی سبسڈی میں کرپشن ہو رہی تھی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ غیر ضروری ڈیوٹیز نقصان دہ ہیں اور کاروباری لاگت کم کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ قرضوں پر سود کی ادائیگی سب سے بڑا خرچ ہے ۔ گزشتہ سال قرضوں پر سود کی مد میں 850 ارب روپے کی بچت کی گئی اور رواں مالی سال بھی اتنی ہی بچت متوقع ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ دو ہفتوں میں پانڈا بانڈز لانچ کرے گی۔ سروے کے مطابق 73 فیصد سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے حق میں ہیں۔ تجارتی خسارہ بڑھا ہے ، تاہم کرنٹ اکاؤنٹ ہدف کے اندر ہے ۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بڑی صنعتوں کی کارکردگی مثبت رہی۔ نجی شعبے کو قرضہ بڑھ کر 1.1 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے ۔ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں 1 لاکھ 35 ہزار نئے سرمایہ کار آئے ہیں اور 18 ماہ میں سرمایہ کاری میں 41 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس دنیا کی تیسری بڑی فری لانسر فورس موجود ہے ، نوجوانوں کو نظام اور پلیٹ فارم فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔

انہوں نے کہا کہ 2047 تک تین ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کے لیے آبادی پر قابو پانا ہوگا کیونکہ 2.55 فیصد سالانہ اضافے کے ساتھ ترقی ممکن نہیں۔وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان نے 1947 سے 2025 تک متعدد کامیابیاں حاصل کیں، ملک ایٹمی طاقت بن چکا ہے اور مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے تاہم دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان پیچھے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چین کی فی کس آمدن بہت زیادہ ہے جبکہ پاکستان کی محدود ہے اور ویتنام کی برآمدات پاکستان سے کہیں زیادہ ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جاپان، کوریا، چین، ویتنام، ترکی اور بنگلہ دیش نے امن، استحکام اور پالیسی کے تسلسل کے ذریعے ترقی کی۔ ان کے مطابق 90 فیصد شرح خواندگی کے بغیر ترقی ممکن نہیں جبکہ پاکستان میں اڑھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں اور 40 فیصد سے زائد آبادی غربت کا شکار ہے ۔وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے کہا کہ پاکستان کو صلاحیت کی کمی نہیں بلکہ ساختی اصلاحات کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایئر لائن، ریلوے ، پاور کمپنیاں اور فیکٹریاں چلانے کی لاگت بہت بڑھ چکی ہے جبکہ ہائی کوالٹی ملازمتوں کا فقدان معیشت کو متاثر کر رہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ صرف اثاثے فروخت کرنا کافی نہیں، انسانی وسائل میں سرمایہ کاری، خواتین کی معاشی شمولیت اور آبادی پر کنٹرول بھی ضروری ہے ۔وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے کہا کہ عوامی خوشحالی کے لیے پروڈکٹیویٹی بڑھانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو بیرونی قرض 12 فیصد شرح سود پر ملتا ہے جبکہ ماضی میں محدود افراد کو کم شرح پر بڑے وسائل دئیے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ وسائل امیر طبقے کے بجائے چھوٹی کمپنیوں کو دئیے جانے چاہئیں۔ سی ای او جاز عامر ابراہیم نے بتایا کہ 2026 میں 20 لاکھ مرچنٹس کو راست کیو آر کوڈ پر منتقل کرنے کا ہدف ہے ۔پلاننگ کمیشن کی ممبر نادیہ رحمان نے کہا کہ 348 ارب ڈالر کی گرین فنانسنگ درکار ہے اور ڈیزاسٹر رسک فنانسنگ کے اقدامات ناگزیر ہیں۔ شرکا نے کہا کہ 1960 سے 2026 کے دوران ملکی جی ڈی پی گروتھ 6 فیصد سے کم ہو کر 3.6 فیصد تک محدود ہو چکی ہے ۔ماہر معاشیات ڈاکٹر خاقان نجیب نے کہا کہ آئی ایم ایف قرض پروگرام پر دوبارہ بات چیت کی ضرورت ہے اور سرمایہ کاری کو جی ڈی پی کے 35 فیصد تک بڑھانا ہوگا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں