انتہا پسند پالیسیاں افغانوں کیلئے خطے اور دنیا میں خطرے کا باعث
سکیورٹی خدشات کے باعث ترکیہ سے 18 افغان گرفتار، ڈی پورٹیشن سینٹر منتقل عالمی سطح پر غیر قانونی افغانوں کی گرفتاری ، ملک بدری پاکستان کے مؤقف کی تائید
اسلام آباد(خصوصی نیوز رپورٹر)افغانستان میں طالبان حکومت کی سخت گیر پالیسیوں اور سکیورٹی خدشات کے باعث دنیا کے مختلف ممالک میں افغان شہریوں کے خلاف امیگریشن قوانین پر سختی دیکھنے میں آ رہی ہے ۔ افغان میڈیا ادارے خامہ پریس نیوز ایجنسی کے مطابق، ترکیہ کے حکام نے رہائشی دستاویزات نہ رکھنے والے 18 افغان شہریوں کو گرفتار کر کے ڈی پورٹیشن سینٹر منتقل کر دیا ہے ۔ گزشتہ سال ترکیہ میں 42 ہزار سے زائد غیر قانونی افغان باشندوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔امر یکا ، برطانیہ اور متعدد یورپی ممالک پہلے ہی افغان شہریوں پر ویزا پابندیاں عائد کر چکے ہیں جبکہ پاکستان اور ایران سے بھی لاکھوں غیر قانونی افغان باشندوں کی ملک بدری کا عمل جاری ہے ۔ ان اقدامات کی وجہ سکیورٹی خدشات، امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیاں اور بعض واقعات میں شدت پسندی سے جڑے معاملات بتائے جا رہے ہیں۔ گزشتہ سال واشنگٹن میں ایک افغان دہشت گرد کی فائرنگ سے نیشنل گارڈ کے اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ جرمنی کے شہر میونخ میں افغان شرپسند نے گاڑی ہجوم پر چڑھا کر 25 افراد کو زخمی کردیاتھا ۔ ایران نے بھی دراندازی کرنے والے متعدد افغان شدت پسندوں کو ہلاک اور لاکھوں کو ملک بدر کیا تھا ۔ عالمی سطح پر غیر قانونی افغان شہریوں کی گرفتاری اور ملک بدری پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف موقف کی بھی تائید کرتی ہے جس سے خطے میں سکیورٹی کی صورتحال اور عالمی سلامتی کے لیے خطرات واضح ہو گئے ہیں۔