ٹیکنالوجیز گول میز مباحثہ، اے آئی میں انسانی حقوق کے خلا کی نشاندہی
ملکی ،بین الاقوامی اداروں سے تعلق رکھنے والے 40 سے زائد سٹیک ہولڈرز کی شرکت مباحثے میں جامع تحقیق پر مبنی ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کے نئے پوزیشن پیپر کا بھی اجرا
اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی) ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام پاکستان میں ابھرتی ٹیکنالوجیز پر قومی گول میز مباحثے کا انعقاد کیا گیا، مباحثے میں حکومت، میڈیا، سول سوسائٹی، بین الاقوامی اداروں اور ٹیکنالوجی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے 40سے زائد سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی ۔یورپی یونین کی معاونت سے مباحثے کے موقع پر ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کے نئے پوزیشن پیپر Emerging Technologies in Pakistan: Towards a People-Centred Policy Framework کااجرا کیا گیا جو پاکستان بھر میں کی گئی جامع تحقیق پر مبنی ہے ، تحقیق سے ایک واضح گورننس خلا سامنے آیا ہے ۔جہاں پاکستان کی قومی اے آئی پالیسی 2025 جدت اور معاشی ترقی کو ترجیح دیتی ہے ، وہیں انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے مؤثر اور قابلِ نفاذ حفاظتی اقدامات کی کمی ہے ،جس کے باعث نگرانی، سنسرشپ، الگورتھمک تعصب اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے نقصانات بغیر روک ٹوک کے بڑھ رہے ہیں ۔ڈی آر ایف کے مطابق یہ سٹڈی 11 فوکس گروپ مباحثوں 79 شرکا ،60 سروے جوابات اور ماہرین کے انٹرویوز پر مشتمل ہے۔
جو اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ عوام زمینی سطح پر اے آئی کے اثرات پہلے ہی محسوس کر رہے ہیں ۔ ریسرچ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 65 فیصد شرکا نے پرائیویسی کے خاتمے کا خدشہ ظاہر کیا ، 63 فیصد نے غلط معلومات کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کیا ہے ،نصف شرکا اے آئی کے ذریعے نگرانی پر فکرمند تھے ۔ ریسرچ میں بتایا گیا ہے کہ اگر چہ پاکستان کے 84 فیصد نیوز رومز اے آئی ٹولز استعمال کر رہے ہیں، تاہم صرف 12 اداروں کے پاس ان کے اخلاقی استعمال سے متعلق باقاعدہ پالیسیاں ہیں ۔مباحثے میں وزارتِ اطلاعات و نشریات، وزارتِ انسانی حقوق، پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی ، NCCIA، نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (NCHR)، نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف دی چائلڈ (NCRC) نمایاں میڈیا اداروں، صحافی یونینز، سول سوسائٹی تنظیموں، اقوام متحدہ کے اداروں، سفارتی مشنز اور ٹیکنالوجی کے شعبے کے نمائندگان نے شرکت کی ۔ پاکستان میں یورپی یونین کے وفد کی نمائندگی مسٹر جیروئن ویلمز، ہیڈ آف کوآپریشن نے کی، جنہوں نے حقوق پر مبنی ڈیجیٹل گورننس میں بین الاقوامی شراکت داری کی اہمیت پر زور دیا ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈی آر ایف کی بانی نگہت داد نے کہا کہ پاکستان اے آئی کو ناگزیر سمجھ کر یا گلوبل نارتھ کے قوانین کی نقالی کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔