اپوزیشن لیڈرز کی تقرریاں ، مذاکرات کا ماحول بن سکتا ہے

اپوزیشن لیڈرز کی تقرریاں ، مذاکرات کا ماحول بن سکتا ہے

وزیراعظم ڈائیلاگ کی بات کرتے ہیں تو یقیناً ان کا یہ اعتماد مقتدرہ کی تائید ہی ہوگا

(تجزیہ :سلمان غنی )

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر محمود خان اچکزئی کی تقرری کے بعد ایوان بالا میں راجہ ناصر عباس کی نامزدگی کا نوٹیفکیشن پارلیمنٹ کی سطح پر ایک خوش آئند پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔ اس بات کے امکانات بھی  روشن ہیں کہ آنے والے حالات میں پارلیمنٹ میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈائیلاگ کا ماحول بحال ہو سکتا ہے ۔ اس کے نتیجے میں سیاسی استحکام کی طرف سفر کا آغاز ہو سکتا ہے ۔اس لیے کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اپوزیشن لیڈر کا منصب تحریک انصاف کی بجائے اس کی اتحادی جماعتوں کے ذمہ داران کے حصے میں آیا ہے ، جو ملک میں سیاسی ڈیڈلاک کو توڑنے اور بامقصد مذاکراتی عمل آگے بڑھانے کی بات کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی میں اپنے پہلے خطاب میں ملک کو درپیش سلگتے ایشوز پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور جمہوریت، پارلیمان اور آئین کی سربلندی کے لیے حکومت سے تعاون کی بات کی۔

مذاکراتی عمل کی بحالی پر زور دیا اور حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے اپوزیشن لیڈر کے جذبات کا خیرمقدم کرتے ہوئے سپیکر آفس کے ذریعے مذاکرات کرنے کی حامی بھر لی۔سینیٹ کے اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس کے حوالے سے بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ سیاست میں انتہا پسندانہ خیالات کی بجائے جمہوری اور سیاسی طرز عمل پر یقین رکھتے ہیں اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے خواہاں ہیں۔ دونوں رہنماؤں کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری کا عمل صرف آئینی ضرورت نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک واضح سیاسی سوچ ہے ، جس کا مقصد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک کا خاتمہ تھا تاکہ حکومت اور اپوزیشن کے تعلقات کار کی بحالی کے ساتھ ملک میں سیاسی استحکام کی جانب قدم بڑھایا جا سکے اور سیاسی قوتوں کے درمیان فاصلے کم ہوں۔اپوزیشن کے منصب کے ذریعے ایوانوں میں غیر معمولی اور ہنگامی صورتحال کی بجائے ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ایک دوسرے کی بات سنی جائے اور اس پر کسی حد تک عمل پیرا بھی ہوا جائے ۔ اسی طرح سینیٹ میں علامہ ناصر عباس کے انتخاب کو بھی اس سوچ کا مظہر قرار دیا جا سکتا ہے ۔ریاست سمجھتی ہے کہ اس غیر قانونی عمل میں ملوث کسی بھی شخص کو رعایت نہیں ملنی چاہیے ۔ یہی وہ نکتہ ہے جس نے پاکستان میں سیاست کو کمزور کیا ہے اور ریاست کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔

لہٰذا بڑا سوال خود اپوزیشن کی پارلیمانی قیادت کے سامنے ہے کہ 9 مئی کے واقعات کے اثرات سے کیسے نکلا جا سکتا ہے ؟۔ کہا جاتا ہے کہ جب سیاسی رہنما سیاسی عمل کا مظاہرہ کریں اور مل بیٹھیں تو پھر معاملات آگے بڑھتے ہیں اور مسائل کا حل نکلتا ہے ۔ اپوزیشن کی نئی قیادت کے لیے چیلنج یہی ہوگا کہ وہ حکومت سے مل کر اہم ایشوز پر مذاکراتی عمل شروع کرے اور حکومت کے لیے لازم ہوگا کہ وہ سولو پرواز کی بجائے اپوزیشن کو شامل کرے ، کیونکہ یہی ملک کے وسیع تر مفاد میں ہے ۔جہاں تک پاکستان کی مقتدرہ کا سوال ہے تو حکومت کسی ایسے عمل میں آگے نہیں بڑھے گی جس کی تائید مقتدرہ سے حاصل نہ ہو۔ اگرچہ حالات اور وزیراعظم شہباز شریف اپوزیشن سے بامقصد ڈائیلاگ کی بات کرتے نظر آتے ہیں، تو یقیناً ان کا یہ اعتماد مقتدرہ کی تائید ہی ہوگا۔ اپوزیشن کو اس مذاکراتی عمل کو کسی کی رہائی یا ریلیف سے منسلک کرنے کی بجائے ، قوم اور ملک کے مسائل کے حل کے ساتھ مشروط کرنا پڑے گا۔ اگر فریقین اس جذبے کے ساتھ بیٹھیں گے تو ڈائیلاگ کا عمل نتیجہ خیز ہو سکتا ہے اور تناؤ اور ٹکراؤ کا خاتمہ بھی ممکن ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں