ارکان پارلیمنٹ کے اثاثوں کی تفصیلات خفیہ رکھنے پر حکومت ،اپوزیشن متحد،بل منظور

ارکان پارلیمنٹ کے اثاثوں کی تفصیلات خفیہ رکھنے پر حکومت ،اپوزیشن متحد،بل منظور

الیکشن قوانین کی تشریح اور انتخابی تنازعات پر سپریم کورٹ کااختیار سماعت ختم ، معاملہ آئینی عدالت کے سپرد سکیورٹی خطرے پر ارکان کے اثاثے ایک سال تک خفیہ رکھے جاسکتے ، خواتین مخصوص نشستوں کے خاتمے کابل پیش 18 ویں ترمیم پربات کریں تو پھڑپھڑاہٹ شروع ہوجاتی:ن لیگ، حکومت خواجہ آصف کے بیان کی وضاحت دے :پی پی

اسلا م آباد(یاسر ملک) الیکشن ایکٹ میں آ ئینی عدالت اورسیاستدانوں کے اثاثوں سے متعلق بڑی تبدیلیاں ، حکومت اور اپوزیشن اثاثوں کی تفصیلات مخفی رکھنے پریک زباں ہوگئے ، ارکان کے اثاثے بغیراجازت شائع کرنے پر پابندی ، سپیکر قومی وصوبائی اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ کو اثاثوں کی تفصیلات شائع نہ کرنے کا اختیارمل گیا۔ سپریم کورٹ کا الیکشن قوانین کی تشریح اور انتخابی تنازعات پر اختیار سماعت ختم ، اب یہ معاملہ وفاقی آئینی عدالت کے سپرد کردیاگیاہے ۔ قومی اسمبلی اجلاس ڈپٹی سپیکر غلام مصطفی شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا ، پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی شازیہ مری نے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل منظوری کیلئے پیش کیا ، جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا، 10 شقوں میں ترامیم کی گئیں۔

جس کے تحت اراکین قومی وصوبائی اسمبلیوں اور سینیٹرز کے مالیاتی اثاثوں کو بنا اجازت شائع نہ کرنے ، الیکشن قوانین کی تشریح اور انتخابی تنازعات پر سماعت کااختیار سپریم کورٹ آف پاکستان سے لیکر وفاقی آئینی عدالت کے سپرد کر دیا گیا ۔ بل کے تحت الیکشن ایکٹ کی سیکشن 9 ،سیکشن 66،سیکشن 104،سیکشن 104اے ، سیکشن 155، سیکشن202،سیکشن 212 اور سیکشن 232 میں ترمیم کی گئی ہے ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کا نام نکال کر وفاقی آئینی عدالت کو شامل کر لیا گیا، جس کے تحت قانونی فورمز پر وفاقی آئینی عدالت کا کردار واضح کرنے کیساتھ ساتھ الیکشن قوانین کے تحت اپیلوں اور قانونی تشریحات کا دائرہ اختیار وفاقی آئینی عدالت کو دے دیا گیا ہے ۔ الیکشن ایکٹ کی سیکشن 138میں ترمیم کے ذریعے سپیکر قومی اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ کو اثاثوں کی تفصیلات شائع نہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے ۔ ترمیم کے مطابق جان یا سکیورٹی خطرے کی صورت میں کسی رکن کے اثاثے عوامی سطح پر شائع نہیں کیے جائیں گے ، جب کہ سپیکر یا چیئرمین تحریری وجوہات کے ساتھ ایوان میں رولنگ دے سکیں گے ۔

منظور شدہ ترمیم کے تحت اثاثوں کی تفصیلات زیادہ سے زیادہ ایک سال تک خفیہ رکھی جا سکیں گی، تاہم اثاثوں اور واجبات کی مکمل اور درست تفصیلات الیکشن کمیشن کو خفیہ طور پر جمع کرانا لازم ہوگا۔ قومی اسمبلی کی جانب سے منظور کردہ بل کے مطابق اب اراکین اسمبلی اور سینیٹ کے اثاثے اسمبلی کے سپیکر یا چیئرمین سینیٹ کی منظوری کے بعد ہی شائع کیے جا سکیں گے اور اثاثے خفیہ بھی رکھے جا سکیں گے ۔ کوئی بھی رکن قومی اسمبلی یا سینیٹ خود یا اپنے خاندان کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں متعلقہ سپیکر یا چیئرمین سینیٹ کو اثاثے خفیہ رکھنے کی درخواست دے سکے گا۔قومی اسمبلی سے منظور کردہ بل کی اہمیت اور اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے بتایا گیا کہ شفافیت اور بنیادی حقوق کے درمیان توازن پیدا کرنا قانون سازی کا مقصد ہے ۔ اثاثوں اور واجبات کی معلومات کی اشاعت کو احتساب کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے تاہم بل میں یہ بھی کہا گیا کہ غیر ضروری یا حد سے زیادہ انکشاف ارکان اور ان کے اہل خانہ کی سکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے ،اس لیے ذاتی سلامتی اور پرائیویسی کے تحفظ کو بھی قانون سازی کا اہم مقصد قرار دیا گیا ہے ۔

سپیکر قومی اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ کی رولنگ کی صورت میں الیکشن کمیشن ایک سال تک اثاثے خفیہ رکھنے کا پابند ہوگا جب کہ قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد یہ بل سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔ اس موقع پر بیرسٹر گوہر نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس الیکشن لا کے معاملات سپریم کورٹ کے بجائے آئینی عدالت میں لے جائے جا رہے ہیں اور اس میں آئین کی تشریح کی ضرورت نہیں ، اگر الیکشن کمیشن بیس پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ ووٹنگ کا فیصلہ کرے تو اس معاملے کو آئینی عدالت میں لے جایا جا رہا ہے ۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے جواب میں کہا الیکشن کمیشن کے بہت سے معاملات پہلے بھی آئینی عدالت گئے ہیں، سیاسی جماعت کو کالعدم قرار دینا آئینی معاملہ تھا جو اب آئینی عدالت میں جائے گاجب کہ فلور کراسنگ کا معاملہ بھی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار میں آئے گا۔ ایسا نہیں ہو سکتا الیکشن کمیشن کی 80 فیصد اپیلیں سپریم کورٹ اور 20 فیصد آئینی عدالت میں جائیں۔ اجلاس میں سی آر پی سی ترمیمی بل 2026 بھی پیش کیا گیا جس میں ضابطہ فوجداری کی سیکشن 174 بی اور سی میں ترمیم تجویز کی گئی ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین کے مخصوص نشستوں کے خاتمے سے متعلق آئینی ترمیمی بل بھی قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔

پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ رکن اسلم گھمن نے یہ بل پیش کیا جس میں خواتین کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں براہ راست انتخاب کی ترمیم شامل ہے ۔ قومی اسمبلی میں دستور ترمیمی بل 2026 بھی پیش کیا گیا، جس پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا وہ اصولی طور پر دستور ترمیمی بل 2026 کی مخالفت کرتے ہیں، بل کمیٹی کے سپرد کیا جائے تاکہ اس پر غور ہو سکے ۔ بعد ازاں بل قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ وزیر قانون نے کہا دونوں ایوانوں میں اپوزیشن لیڈر آ چکے ہیں اور اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ قائمہ کمیٹیوں میں واپس آئے تاکہ کمیٹیوں کے کام میں بہتری آ سکے ۔ اس سے قبل ارکان پارلیمنٹ اپنے اثاثہ جات الیکشن کمیشن کو جمع کراتے تھے اور الیکشن کمیشن یہ اثاثہ جات میڈیا سمیت کسی کو بھی فراہم کر دیتا تھا۔ اس حوالے سے بل پیش کرنے والی پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری کا موقف تھا اثاثہ جات پبلک ہونے کی وجہ سے ارکان پارلیمنٹ کو سکیورٹی خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔اجلاس کے دوران فاطمہ یونیورسٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سمیت نئی یونیورسٹیوں کے قیام سے متعلق 7بل پیش کیے گئے جنہیں پارلیمانی سیکرٹری اور وزیر مملکت خزانہ کی درخواست پر ڈیفر کر دیا گیا۔

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، نامہ نگار، مانیٹرنگ ڈیسک )قومی اسمبلی میں 18 ویں آئینی ترمیم پر حکومت اور اتحادی ایک مرتبہ پھر آمنے سامنے آگئے ۔وزیر دفاع خواجہ آصف کے بعد وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب 18 ویں آئینی ترمیم پر بات کرتے ہیں تو پھڑپھڑاہٹ شروع ہو جاتی ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے جواب دیا کہ کراچی کی آگ کی آڑ میں 18ویں ترمیم کو نشانہ بنایا گیا ۔یہ حکومتی پارٹی کا پالیسی بیان ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔وزیردفاع خواجہ آصف کے 18ویں ترمیم سے متعلق بیان پر حکومت وضاحت دے ۔پی پی پی رکن سحر کامران نے حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر دفاع یہ بتائیں کہ آخر 18ویں ترمیم کیسے ڈھکوسلہ ہے ۔

ڈھکوسلہ 18 ویں آئینی ترمیم نہیں، ڈھکوسلہ وہ صدارتی آرڈیننس تھا جو حکومت نے صدر کے دستخطوں کے بغیر جاری کر دیا۔ بلدیاتی نظام پر بات کرتے ہوئے انہیں آمریت کیوں یاد آ جاتی ہے ۔ وزارت دفاع کی فائر بریگیڈ آجانے کے بیان کو انہوں نے طعنہ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا وزارت دفاع صرف ایک وزیر کی ہے یا پوری قوم کی؟ قومی اسمبلی اجلاس کے دوران وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سکیورٹی رانا تنویر حسین نے کراچی کے سانحہ گل پلازہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر 18ویں ترمیم کے بعد سب کچھ ٹھیک ہے تو پھر کیا گل پلازہ کی آگ بھی ٹھیک ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب بھی 18ویں آئینی ترمیم پر بات کرتے ہیں تو پھڑپھڑاہٹ شروع ہو جاتی ہے ۔پی پی پی کے رکن اسمبلی نوید قمر نے کہا کہ 18ویں ترمیم پر وزیر دفاع اور وفاقی وزیر رانا تنویر کی طرف سے سوالات اٹھایا جانا حکمران جماعت کی پالیسی اسٹیٹمنٹ ہے اور پیپلز پارٹی اسے کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ آج تک تاریخ کو مسخ کر کے قومی نصاب پڑھایا گیا، وفاق یہ چاہتا ہے کہ صوبے اپنے وسائل وفاق کو اس لیے دیں تاکہ وہ قرض لے سکے اور قرض اتار سکے ایسا کسی صورت قابل قبول نہیں۔خواجہ آصف سانحہ کراچی گل پلازہ پر بات کرتے ہوئے بلاوجہ 18ویں ترمیم کو بحث میں لے آیا اور مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر کے بیان کو وہ حکومت کی پالیسی سمجھتے ہیں۔سید نوید قمر نے کہا کہ ملک کے ساتھ ماضی میں بہت تجربے کیے گئے اور ہر تجربے کے ساتھ ملک کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے وفاق سے مطالبہ کیا کہ مزید تجربات بند کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک وفاق ہے اور مضبوط پاکستان مضبوط صوبوں سے بنتا ہے ۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا صوبوں کو دئیے گئے وسائل واپس لیے جا رہے ہیں تاکہ وفاق قرضے لے اور واپس کرے اور کیا اب بھی ساٹھ اور ستر کی دہائی سے باہر نہیں نکلا جا رہا۔نوید قمر نے کہا کہ 18ویں ترمیم کو گالی دینے کے لیے کراچی گل پلازہ کی آگ کو بہانہ بنایا گیا اور آگ کے معاملے پر بلاوجہ 18ویں ترمیم کو گھسیٹا گیا۔

انہوں نے کہا کہ نصاب میں ساری زندگی جھوٹ پڑھایا گیا اور تاریخ میں تبدیلیاں کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صوبوں سے وسائل واپس لیے گئے تو وہ صحت اور تعلیم جیسے شعبے کیسے چلائیں گے ۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے خواجہ آصف کے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ قرار دینے کے بیان سے فاصلہ اختیار کرتے ہوئے اسے ان کی ذاتی رائے قرار دیا اور کہا کہ ارکان اپنی ذاتی رائے کا اظہار خیال کرتے رہتے ہیں اسے مسئلہ نہیں بنانا چاہیے ۔فیصلے پارلیمنٹ کی رضامندی سے ہوتے ہیں، اس لیے ایسے بیانات کو پالیسی نہ سمجھا جائے ۔متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) رکن سید حفیظ الدین نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کوئی آسمانی صحیفہ نہیں اس میں بالکل تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں، سندھ میں انتظامی بنیاد پر نئے یونٹس بننے چاہئیں،کراچی میں آتشزدگی سمیت دیگر حادثات پر صرف بیانات کے بجائے عملی اقدامات ضروری ہیں۔ اپوزیشن رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ اگر ایک بہن اڈیالہ جیل میں اپنے بھائی سے ملاقات کر لے تو اس سے ریاست کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی سیاسی حکومت بدنام ہوئی اور آج بھی سیاسی حکومت ہی بدنام ہو رہی ہے ۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ صرف ایک بیان دینے پر ان کے حلقے کے فنڈز بند کر دئیے گئے ۔پی ٹی آئی رہنما شہریار آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کوئی احسان نہیں بلکہ آئینی اور قانونی حق ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا۔جواب میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا کہ تمام سیاسی سرگرمیوں میں ناکامی کے بعد اب اڈیالہ جیل کے گیٹ پر سیاست کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قیدیوں کو تمام آئینی اور قانونی حقوق فراہم کر رہی ہے اور بانی پی ٹی آئی سے اب تک ساڑھے آٹھ سو سے زائد افراد ملاقات کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور فیصلہ بھی عدالت ہی کرے گی۔اجلاس کے اختتام پر قومی اسمبلی میں سابق رکن قومی اسمبلی راجہ نادر پرویز اور رکن قومی اسمبلی محمد طفیل کے مرحوم بھائی کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی، دعا مولانا مصباح الدین نے کرائی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں