چوزے پرڈیوٹی برقرار،برائلرگوشت مزیدمہنگاہونے کا امکان
حکومتی فیصلہ پولٹری کی صنعت اور عوامی غذائی سلامتی کیلئے نقصان دہ ڈیوٹی ختم کی جائے :عبدالباسط، ڈاکٹر ایف ایم صابرودیگرکی پریس کانفرنس
لاہور (کامرس رپورٹر)پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن (پی پی اے )نے ایک دن کے چوزے (ڈے اولڈ چکس) پر 10 روپے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی برقرار رکھنے کے حکومتی فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے پولٹری صنعت اور عوامی غذائی سلامتی کیلئے نقصان دہ قرار دیا ہے ۔ ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ چکس کی کم پلیسمنٹ آئندہ 6 سے 8 ہفتوں میں مرغی کے گوشت کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا باعث بنے گی، جس سے کم آمدنی والے طبقات متاثر ہوں گے ۔ان خیالات کااظہار پی پی اے کے چیئرمین عبدالباسط، گروپ لیڈر ڈاکٹر ایف ایم صابر، وائس چیئرمین ملک محمد شریف، خلیق ارشد اور ڈاکٹر سجاد ارشد نے لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا، چیئرمین پی پی اے عبدالباسط نے کہا کہ یہ ٹیکس درحقیقت صارف پر ٹیکس ہے اور سستی حیوانی پروٹین کی فراہمی کو متاثر کرے گا۔ڈاکٹر ایف ایم صابر کے مطابق پولٹری سیکٹر ملکی گوشت کی کھپت کا 40 فیصد سے زائد فراہم کرتا ہے اور پہلے ہی بجلی اور فیڈ کی بلند قیمتوں کے دباؤ میں ہے ۔ ملک محمد شریف نے بتایا کہ پیداواری لاگت 350 سے 380 روپے فی کلوگرام تک پہنچ چکی ہے ، جس کے باعث چھوٹے فارمز شدید بحران کا شکار ہیں۔پی پی اے نے ایف بی آر اور وزارتِ خزانہ سے ڈیوٹی کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ بصورتِ دیگر چکن اور انڈے عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو سکتے ہیں۔