ہرچہرے کی الگ داستان،سوال ایک کہ ہماراپیارازندہ ہے ؟

ہرچہرے کی الگ داستان،سوال ایک کہ ہماراپیارازندہ ہے ؟

کوئی دعاکرتا توکوئی آنسو بہارہا، بے خواب آنکھیں گل پلازہ کے ملبے پرٹک گئیں لاپتاعارف کے ہاں 20دن پہلے بیٹے کی پیدائش،اہلیہ کوصدمہ،بھائی معجزے کامنتظر سوالوں کاجواب نہیں دے سکتاگھرکیسے جائوں؟،قیصر علی کو اہلیہ، بیٹی اور بہن کی تلاش ریسکیو آپریشن سست روی کاشکارہے ،متاثرہ لواحقین انتظامیہ سے کافی نالاں

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)گل پلازہ کے باہر جمع ہجوم میں ہر چہرہ ایک الگ کہانی سمیٹے ہوئے ہے ، مگر آنکھوں میں ایک ہی سوال ہے کہ کیا ہمارا پیارا زندہ ہے ؟۔اسی ہجوم میں موجود اشرف کا بھائی عارف ہفتہ کی رات لگنے والی آگ کے بعد سے لاپتہ ہیں،اشرف نے بھرائی  ہوئی آوازمیں میڈیا کو بتایا کہ 20 دن پہلے ہی ان کے بھائی کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوئی تھی، ڈیڑھ سال کی ایک بیٹی بھی ہے ، عارف کی اہلیہ صدمے کی کیفیت میں ہیں، کبھی خاموشی سے آنسو بہاتی ہیں اور کبھی اپنے شوہر کو آواز دیتی ہیں، جیسے وہ ابھی دروازہ کھول کر اندر آ جائیں گے ۔ اشرف نے کہا وہ اور ان کے اہل خانہ پچھلے کئی دنوں سے ہسپتالوں اور جائے حادثہ کے درمیان بھٹک رہے ہیں،کوئی ہمیں واضح جواب نہیں دیتا، کبھی کہا جاتا ہے ملبہ ہٹ رہا ہے ، کبھی کہا جاتا ہے انتظار کریں، میرا دل کہتا ہے کوئی معجزہ ہوگا اور میرا بھائی زندہ مل جائے گا۔گل پلازہ کے باہر موجود عارف کے ماموں عبدالسلام کبھی ڈپٹی کمشنر آفس کے باہر معلومات لینے کی کوشش کرتے نظر آئے ، تو کبھی خاموشی سے ملبے کو تکتے ہوئے ۔

گل پلازہ کے باہر کھڑے قیصر علی کی آنکھوں میں نیند نہیں، ان کے چہرے پر تھکن اور آواز میں بے بسی صاف جھلکتی ہے ۔ سائٹ ایریا کے رہائشی قیصر علی چار دن سے اپنی اہلیہ، بیٹی اور بہن سمیت چار افراد کو تلاش کر رہے ہیں۔ان کاکہنا ہے کہ ہم گھر نہیں جا سکتے ، گھر میں سوگ کی کیفیت ہے ، کبھی کوئی کسی کو یاد کر کے بے ہوش ہو جاتا ہے ، کبھی کوئی پوچھتا ہے کچھ پتہ چلا؟ میرے پاس کسی سوال کا جواب نہیں۔انتظامیہ سے نالاں قیصر علی نے کہا ریسکیو آپریشن سست روی کا شکار ہے اور متاثرہ خاندانوں کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، ہمیں سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کریں، بس یہاں کھڑے ہیں کہ شاید کوئی خبر مل جائے ۔گل پلازہ کے باہر کھڑے اپنے پیاروں کے منتظر درجنوں افراد کا کہنا ہے کہ اس سانحے نے ایک بار پھر کراچی میں عمارتوں کی حفاظت، فائر سیفٹی انتظامات اور نگرانی کے نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے ،گل پلازہ کے باہر رات گئے بھی لوگ موجود ہیں، کوئی دعا کر رہا ہے ، کوئی خاموشی سے آنسو بہا رہا ہے اور کوئی ملبے کی طرف دیکھ کر بس ایک ہی جملہ دہرا رہا ہے شاید کوئی زندہ مل جائے ۔سول ہسپتال کے باہر موجود عمران کا کہنا تھا کہ ہماری دعا ہے کوئی معجزہ ہوجائے اور ہماری خالہ ہمیں مل جائیں،جب تک لاش نہیں ملتی، امید باقی رہتی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں