گل پلازہ : مصنوعی پھولوں کی دکان میں آگ بچوں کے کھیلنے کے دوران لگی : تحقیقاتی ذرائع
آگ لگتے ہی وہاں موجود افراد باہر کی طرف بھاگے ، دروازے بند ہونے پر بھگدڑ مچ گئی ، واقعہ شارٹ سرکٹ کا نتیجہ نہیں 86افراد لاپتہ ہیں :ڈی سی ،باقیات بہت خراب،15کی شناخت ہوسکی:پولیس سرجن،میونسپل کمشنر کے ایم سی برطرف
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک،دنیانیوز)تحقیقاتی حکام نے سانحہ گل پلازہ کی ابتدائی رپورٹ عینی شاہدین اور متاثرین کے بیانات کی مدد سے تیار کرلی۔ تحقیقاتی ذرائع کے مطابق گل پلازہ میں آگ مصنوعی پھولوں کی دکان میں لگی، وہاں موجود بچوں کے کھیلنے کے دوران آگ لگی ،ممکنہ طور پر بچے دکان میں ماچس یا لائٹر سے کھیل رہے تھے ، ابتدائی طور پر آگ دکان میں موجود سامان میں لگی اور بجلی کی تاروں میں پھیلی،آگ شارٹ سرکٹ کے باعث نہیں لگی، آگ لگتے ہی عمارت میں موجود افراد خارجی راستوں کی طرف بھاگے ، عمارت کے دروازے بند ہونے کی وجہ سے بھگدڑ مچی۔ذرائع کے مطابق آگ لگنے سے عمارت میں موجود سی سی ٹی وی سسٹم مکمل طور پر متاثر ہوا ہے ۔
ادھر ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو نے کہاکہ اتنی بڑی آگ کو صرف شارٹ سرکٹ کہہ کر نہیں چھوڑ سکتے ، واقعے کی مکمل تحقیقات ہوں گی۔گل پلازہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ڈی سی ساؤتھ نے کہا کہ آگ شارٹ سرکٹ سے لگی یا نہیں اس حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ دروازے بند کیوں تھے ، ہر پہلو پر تفتیش کر رہے ہیں ، جس کی بھی غفلت سامنے آئی، اس کے خلاف کارروائی ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ 55 سے 60 لاشیں ممکنہ طور پر نکالی جا چکی ہیں، عمارت کا 40 فیصد حصّہ گرا ہوا ہے اس کو چھوڑ کر باقی کو سرچ کر لیا گیا ،تقریباً 80 افراد کی جانیں ضائع ہوئیں،86لاپتہ ہیں ،عمارت کی حالت بہت خراب ہے اور کسی بھی وقت گر سکتی ہے ۔
دوسری جانب پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمعیہ سید نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ باقیات کی حالت بہت خراب، اب تک 50 سے زائد انسانی باقیات سے ڈی این اے نمونے حاصل کئے جا چکے اور ڈی این اے اور دیگر ذرائع سے صرف 15 افراد کی شناخت ممکن ہو سکی ۔علاوہ ازیں صدرگل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن تنویر پاستا کا کہنا تھاکہ مارکیٹ کے راستے بند نہیں تھے ، ایمرجنسی ریمپ بھی کھلا تھا ، بجلی بند نہ کرتے تو جو لوگ باہر نکلے وہ بھی نہیں نکل سکتے تھے ۔ ادھر سانحہ گل پلازہ پر میونسپل کمشنر کے ایم سی افضل زیدی کو عہدے سے ہٹادیا گیا ہے ،چیف سیکرٹری سندھ آصف حیدر نے نوٹیفکیشن جاری کردیا،19 گریڈکی ایکس پی سی ایس افسر سمیراحسین کو میونسپل کمشنر کے ایم سی کا اضافی چارج دے دیا گیا ۔