امریکا کو روس اور چین سے نہیں اندر سے خطرہ : امریکی محکمہ دفاع کی نیشنل ڈیفنس اسٹریٹیجی 2026 جاری
آئندہ برسوں میں امریکی فوج کی اولین ترجیح ملکی دفاع اور انڈو پیسیفک خطے پر توجہ ،اتحادی دفاعی ذمہ داریاں خود اٹھائیں گے ، محدود مدد فراہم کی جائیگی:پینٹا گون کینیڈا نے چین سے تجارتی معاہدہ کیا تو 100 فیصد ٹیرف لگائیں گے :ٹرمپ کی دھمکی ،منی سوٹا میں امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ سے 1 شخص ہلاک،شہریوں کا احتجاج
واشنگٹن (اے ایف پی)پینٹاگون نے امریکا کی نئی نیشنل ڈیفنس اسٹریٹیجی2026 جاری کر دی ہے جس میں روس، چین کے بجائے غیرقانونی تارکین وطن کے سبب داخلی خطرات کو اولین ترجیح قرار دیا گیا ہے ،امریکی فوج آئندہ برسوں میں ملکی دفاع کو اولین ترجیح دے گی اور چین کو روکنے پر توجہ مرکوز رکھے گی، جبکہ یورپ اور دیگر خطوں میں اتحادیوں کو پہلے کے مقابلے میں محدود امریکی حمایت فراہم کی جائے گی۔ روس اور چین سے لاحق خطرات کو نسبتاً کم اہمیت دی گئی ہے ۔ یہ پچھلی پینٹاگون پالیسی سے نمایاں طور پر مختلف ہے ۔
اس میں نہ صرف اتحادی ممالک پر زیادہ ذمہ داریاں ڈالنے اور واشنگٹن سے کم مدد فراہم کرنے پر زور دیا گیا ہے ، بلکہ روایتی حریفوں چین اور روس کے بارے میں نرم لہجہ اختیار کیا گیا ہے ۔دستاویز میں کہا گیا ہے جب امریکی افواج اپنے ملک اور انڈو پیسیفک خطے پر توجہ دیں گی، تو دیگر علاقوں میں ہمارے اتحادی اور شراکت دار اپنی سلامتی کی بنیادی ذمہ داری خود اٹھائیں گے ، جبکہ امریکی افواج کی جانب سے محدود مگر اہم مدد فراہم کی جائے گی۔
سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں جاری کی گئی نیشنل ڈیفنس اسٹریٹیجی میں چین کو امریکا کے لیے سب سے بڑا اور فیصلہ کن چیلنج قرار دیا گیا تھا، جبکہ روس کو ایک ’’شدید خطرہ‘‘ کہا گیا تھا۔نئی حکمتِ عملی میں تاہم چین کے ساتھ باعزت تعلقات پر زور دیا گیا ہے ، اور حیران کن طور پر اس میں امریکی اتحادی تائیوان کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، جسے چین اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے ۔ روس کے حوالے سے دستاویز میں کہا گیا ہے کہ وہ نیٹو کے مشرقی رکن ممالک کے لیے ایک مسلسل مگر قابلِ انتظام خطرہ ہے ۔
ٹرمپ انتظامیہ کی نیشنل ڈیفنس اسٹریٹیجی میں سابق حکومت کو سرحدی سلامتی نظرانداز کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ دستاویز کے مطابق اس غفلت کے نتیجے میں غیر قانونی تارکینِ وطن کی یلغار اور منشیات کی وسیع پیمانے پر اسمگلنگ ہوئی۔حکمتِ عملی میں کہا گیا ہے کہ سرحدی سلامتی ہی قومی سلامتی ہے ، اور اسی لیے پینٹاگون سرحدوں کو سیل کرنے ، ہر قسم کی دراندازی کو روکنے اور غیر قانونی تارکینِ وطن کی ملک بدری کو ترجیح دے گا۔
اس کے برعکس سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے چین اور روس پر توجہ مرکوز رکھی تھی اور کہا تھا کہ یہ دونوں ممالک دہشت گردی کے خطرے سے بھی زیادہ امریکا کی اندرونی سلامتی کے لیے خطرناک چیلنجز ہیں۔علاوہ ازیں ٹرمپ نے کینیڈا کو چین سے تجارتی معاہدے کی صورت میں 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دے دی۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ اگر کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کینیڈا کو چین کے لیے ایک ’’ڈراپ آف پورٹ‘‘ بنا دیں گے جہاں سے چینی مصنوعات امریکا میں داخل ہوں، تو وہ سخت غلط فہمی میں ہیں۔دوسری جانب امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر منیاپولس میں امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہو گیا۔
منی سوٹا کے گورنر ٹم والز نے سوشل میڈیا پر پیغام میں کہا ہے کہ وفاقی ایجنٹ کی فائرنگ کے ایک اور ہولناک واقعے پر وائٹ ہاؤس سے بات کی ہے ۔ صدر فوراً امیگریشن آپریشن ختم کریں، ٹرمپ غیر تربیت یافتہ امیگریشن افسروں کو منی سوٹا سے واپس بلائیں۔ محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی ترجمان ٹریشیا میکلافلن نے کہا کہ جس شخص کو گولی ماری گئی، اس کے پاس آتشیں اسلحہ موجود تھا، امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ کے خلاف شہریوں نے احتجاج کیا، اس دوران سکیورٹی اہلکاروں کی مظاہرین کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں، جس کے دوران آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔مظاہرین نے امیگریشن اینڈ کسٹم انفورسمنٹ آپریشن روکنے کا مطالبہ کیا۔واضح رہے چند ہفتے قبل امریکی وفاقی امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ سے 37سالہ خاتون رینی گڈ ہلاک ہو گئی تھی ۔