نئے صوبے بنانے میں حرج نہیں، اختیارات نچلی سطح پر منتقل نہ کرنا عوام سے دھوکا : وزیر دفاع

نئے صوبے بنانے میں حرج نہیں، اختیارات نچلی سطح پر منتقل نہ کرنا عوام سے دھوکا : وزیر دفاع

ہم موثربلدیاتی نظام نافذ نہ کرسکے ، پاکستان کی بقا لوکل گورنمنٹ میں ہے ، اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہونے تک ملکی مسائل حل نہیں ہونگے :وزیردفاع ہمیں اقتصادی لانگ مارچ کرناہے :احسن اقبال،مصدق ملک، ٹیکس فائلر زکی تعداد اصل صلاحیت سے بہت کم :راشد لنگڑیال ،تھنک فیسٹ میں گفتگو

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیردفاع خواجہ آصف نے ملک میں نئے صوبے بنانے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے صوبے بنانے میں کوئی حرج نہیں ہے اور کسی کو اس سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہئے ،بلدیاتی نظام موثر انداز میں نافذ کرنے میں ہم ناکام رہے ، نفاذ میں ناکامی کی وجہ سے ہی 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلا کہا، پاکستان کی بقا لوکل گورنمنٹ میں ہے ، جب اختیارات نچلی سطح پر نہیں لے کر جائیں گے تو وہ عوام کے ساتھ دھوکے کے مترادف ہے ۔لاہور میں تھنک فیسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو اختیارات دئیے گئے ، صوبوں میں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ہونی چاہئے ، یہ اقدام جمہوریت اور سیاسی جماعتوں دونوں کو مضبوط کرے گا ۔ یہ ایک آزمودہ نسخہ ہے کہ تینوں بڑے ڈکٹیٹروں ایوب خان ،جنرل ضیا اور پرویز مشرف نے بھی بلدیاتی انتخابات کو ترجیح دی جس سے وہ عوام میں اپنی مقبولیت بڑھانے کے خواہاں رہے۔

نجانے کیوں ہمارے سیاستدان اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی سے خوفزدہ ہوتے ہیں،ان کو ایسا لگتاہے کہ کوئی دوسری جماعت مقبولیت نہ حاصل کر لے ۔ مسلم لیگ ن سمیت کوئی بھی پارٹی لوکل گورنمنٹ کی مخالفت نہ کرے ،اِس نظام کے ذریعے جمہوریت مضبوط ہوتی ہے ۔خواجہ آصف نے کہا کہ 18ویں ترمیم نے ڈویلیشن گارنٹی کی لیکن یہ کبھی نہیں ہوسکا، اسی لئے میں نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلا کہا جو کئی لوگوں کو بہت برا لگا۔ لوکل گورنمنٹ سے اگر خطرہ ہے تو صرف بیوروکریسی کو ہے کیونکہ اس کے اختیارات کم ہوکر لوکل گورنمنٹ کو ملیں گے ۔وزیردفاع نے کہ 27 ویں ترمیم میں دو چیزیں ڈراپ کی گئیں، ایک لوکل گورنمنٹ اوردوسری قومی سلیبس ،دعاہے اگلی ترمیم میں یہ چیزیں شامل ہوں ۔ قبل ازیں سیالکو ٹ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہاکہ پاک فوج خیبرپختونخوا میں جہاد کر رہی جبکہ صوبائی حکومت کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہے ۔ شہدا کے لہو سے وطن کی عزت میں اضافہ ہوا اورآج وطن میں امن ہے ۔معرکہ حق ہماری افواج کا معرکہ تھا اور حق کا معرکہ تھا۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے تھنک فیسٹ اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کو این آر او دینے والا اب کوئی نہیں، اس کی رہائی اگر چاہتے ہیں تو صرف عدالتوں کے ذریعے ہوسکتی ہے ، تحریک انصاف اب تحریک انتشار بن چکی ہے ، ہم نے اقتصادی لانگ مارچ کرنا ہے ، سڑکوں پر انتشار نہیں پھیلانا ، اسی طرح ڈیجیٹل اور سائبر سرحدوں کا تحفظ بھی اب قومی سلامتی کا ناگزیر حصہ بن چکا ہے ، حکومت کسی کو انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دے گی، کرپشن میں سزا یافتہ شخص کو بچانے کیلئے پورے ملک کو یرغمال نہیں بنایا جا سکتا۔ وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے بین الاقوامی سطح پر ماحولیاتی احتساب پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی ماحولیاتی بحران محض ایک ماحولیاتی آفت نہیں بلکہ بین الاقوامی تعاون اور انصاف کی ناکامی ہے ۔

الگ تھلگ تحقیق کا دور ختم ہونا چاہئے اور اس کی جگہ سائنسی سفارت کاری کو فروغ دیا جانا چاہئے ، سائنس وہ واحد پل ہے جو اقوام کے درمیان سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ تحقیق اور عالمی منصوبوں کے ذریعے رابطہ قائم کر سکتی ہے ۔چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال کاتھنک فیسٹ میں کہناتھاکہ پاکستان میں ٹیکس فائلرز کی تعداد اصل صلاحیت سے بہت کم ہے ۔ ملک میں لاکھوں افراد ایسے ہیں جو ٹیکس دینے کے زمرے میں آتے ہیں لیکن جھوٹ بولتے اور حقائق چھپاتے ہیں اسی لئے کم آمدن والوں پر ٹیکس کی شرح زیادہ ہے ،ہم ٹیکس کی مزید شرح نہیں بڑھائیں گے ۔ رواں سال ٹیکس ریٹرن کی تعداد میں 20 فیصد اضافہ ہوا مگر پھر بھی کمپلائنس ریٹ کم ہے ۔ان کاکہناتھاکہ تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے ۔ایف بی آر میں ٹیکنالوجی متعارف کروائی جا رہی ہے تاکہ ٹیکس چھپانے کے کلچر کا خاتمہ کیا جا سکے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں