ایران کے اندر سے تبدیلی نہ ہونے پر ٹرمپ جھنجھلاہٹ کا شکار

ایران کے اندر سے تبدیلی نہ ہونے پر ٹرمپ جھنجھلاہٹ کا شکار

پاکستان ایران پرجارحیت کی حمایت نہیں کریگا مگر کوشش کریگا جنگ نہ پھیلے

(تجزیہ:سلمان غنی)

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کی نفسیاتی کیفیت طاری ہے ۔امریکی صدر ٹرمپ کی بھرپور کوشش ہے کہ ایران امریکا کے سامنے سرنڈر کر جائے اور وہ یہاں اپنا ایجنڈا آگے بڑھا سکے ،لیکن ایران قطعی پسپائی کے لئے تیار نہیں ، تمام تر امریکی خدشات اور خطرات کے باوجود وہ دفاعی انداز اختیار نہیں کر رہا اورہر طرح کی جارحیت کے لئے تیار نظر آ رہا ہے ۔امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ہماری بڑی فورس ایران کی جانب رواں دواں ہے اور بہت سے جہاز ایران کی طرف جا رہے ہیں۔ لیکن ایرانی لیڈر شپ کا کہنا ہے کہ کسی قسم کی جارحیت برداشت نہیں ہوگی، بدترین صورتحال کے لئے ہماری فوج تیار ہے۔

ایرانی ردعمل سے واضح ہو رہا ہے کہ وہ امریکی دباؤ اور جارحانہ عزائم کے سامنے سے ہٹنے والے نہیں بلکہ جارحیت کی صورت میں بڑے ردعمل کی تیاری میں ہیں اور بڑا سوال تو یہی نظر آ رہا ہے کہ امریکی جارحیت کی صورت میں ایران کا متوقع ردعمل کیا ہوگا اور ایران کہاں تک مزاحمت کر سکے گا ،ایرانی بیانات سے لگتا ہے حملے کی صورت میں ایران خطے میں موجود امریکی اڈوں کو ٹارگٹ کرے گا ۔چونکہ علاقائی محاذ پر امریکا کے فوجی اڈے زیادہ تر مسلم ممالک میں ہیں ، اس لئے کہا جا رہا ہے کہ اگر اب تک امریکا نے براہ راست ایران پر حملہ نہیں کیا تو اس کی بڑی وجہ عرب ممالک اور اس کی لیڈر شپ ہے جو امریکا کو یہ باور کراتی نظر آ رہی ہے کہ ایران پر حملہ کی صورت میں اس کے اثرات سے وہ بھی بچ نہ پائیں گے ، لہٰذا کوشش کی جائے کہ جنگ تک نوبت نہ آئے۔

دوسری جانب امریکا ایران کو ہضم نہیں کر پا رہا ،خصوصاً اس کے جوہری پروگرام کو علاقائی محاذ پر اپنے مفادات کے لئے خطرناک سمجھتا ہے ۔اگر صدر ٹرمپ ایران پر حملے یا یہاں اپنی جارحیت پر مصر ہیں تو یہ صورتحال علاقائی محاذ پر ایسی نفسیاتی کیفیت پیدا کرے گی جس میں امن و استحکام کے لئے خطرات ہوں گے ،امریکا کے مقابلے میں ایران کو شکست بھی ہوتی ہے تو یہ وقتی ہوگی اس لئے کہ ماضی میں بھی امریکا کی جانب سے ایران کی لیڈر شپ اور خصوصاً سائنسدانوں کو ٹارگٹ کرنے کے باوجود ان کی جگہ ان کی دوسری لیڈر شپ نے لی تھی اور وہ بھی اس موقف پر کاربند نظر آئی جس پر ان کی شہید قیادت کھڑی تھی ۔

یہی وہ عمل ہے جو اب تک امریکا کو براہ راست جارحیت سے روکے ہوئے ہے ۔جہاں تک ایران کے اندر سے تبدیلی کے عمل کا سوال ہے تو حالیہ بغاوت اور ردعمل نتیجہ خیز نہیں ہوا ،اس کی بڑی وجہ ایران کے اندر حکومتی گرفت اور ایرانیوں کا امریکا کے خلاف ردعمل تھا اور اب اس حوالہ سے امریکی اندازہ غلط ہونے کے باعث صدر ٹرمپ پھر سے جھنجھلاہٹ کا شکار ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ ایران پر امریکی حملہ صرف ایک ملک پر حملہ نہیں ہوگا بلکہ اس کے عالمی اثرات ہوں گے ، براہ راست تو اس پر عالمی طاقتیں ردعمل نہیں دیں گی لیکن ا س عمل سے امریکا سفارتی تنہائی سے دوچار ہو سکتا ہے۔پاکستان جارحیت کی حمایت تو نہیں کرے گا مگر کوشش کرے گا کہ جنگ نہ پھیلے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں