شہباز شریف اور ایران کے صدر کا ٹیلی فونک رابطہ، پاکستان مذاکرات کیلئے کوشاں چاہتا ہے کوئی ایکشن نہ ہو: ایرانی سفیر ، ابراہام معاہدے کا حصہ نہیں بنیں گے : پاکستان

شہباز شریف اور ایران کے صدر کا ٹیلی فونک رابطہ، پاکستان مذاکرات کیلئے کوشاں چاہتا ہے کوئی ایکشن نہ ہو: ایرانی سفیر ، ابراہام معاہدے کا حصہ نہیں بنیں گے : پاکستان

مذاکرات ناگزیر ،مشاورت برقرار رکھیں گے :وزیراعظم ،یورپی سفیر کی ملاقات،اسحاق ڈار کا ایرانی وزیرخارجہ سے رابطہ،استحکام فورس میں شمولیت کافیصلہ نہیں ہوا:دفتر خارجہ ٹرمپ کا ایران کے خلاف مختلف آپشنز پر غور ، سکیورٹی فورسز اور کمانڈروں پر محدود حملے بھی شامل ، یورپی یونین نے ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت گر د قرار دیدیا

اسلام آباد(نامہ نگار، نمائندہ دنیا،مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم شہبازشریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں دو طرفہ ادارہ جاتی میکانزم کے ذریعے اعلیٰ سطح روابط اور مشاورت کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیاگیا،ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا پاکستان مذاکرات کیلئے کوشاں ہے ،چاہتا ہے کوئی ایکشن نہ ہو جبکہ ترجمان دفترخارجہ طاہرحسین اندرابی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان ابراہام معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا اور نہ ہی عالمی استحکام فورس میں شمولیت اختیار کرے گا ۔وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق شہبازشریف اور مسعود پزشکیان نے ٹیلیفون پر بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ شہباز شریف نے خطے میں امن، سلامتی اور ترقی کے فروغ کے لیے پائیدار مذاکرات اور سفارتی تبادلہ خیال کی اہمیت پر زور دیا۔ مشترکہ تاریخ، ثقافت اور عقیدے سے جڑے پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی اور برادرانہ تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے، دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے دائرہ کار میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دو طرفہ ادارہ جاتی میکانزم کے ذریعے اعلیٰ سطح روابط اور مشاورت کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم سے پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر رائمونڈاس کاروبلس نے بھی ملاقات کی،شہباز شریف نے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں خصوصاً تجارت، سرمایہ کاری، ترقی و سلامتی، مائیگریشن اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت کے فروغ میں جی ایس پی پلس سکیم کے کلیدی کردار پر زور دیا ۔دریں اثنا نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ، اسحاق ڈار نے خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد قابل عمل راستہ ہیں۔دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ ایک دوسرے کے ساتھ قریبی رابطے میں رہیں گے تاکہ علاقائی امن اور مستحکم تعلقات کو فروغ دیا جا سکے ۔علاوہ ازیں پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ کے دوران کہا پاکستان مذاکرات کے لیے کوششیں کر رہا ہے اور چاہتا ہے کوئی ایکشن نہ ہو،پاکستان کے ساتھ اعلیٰ سطح پر مسلسل رابطہ موجود ہے ، پاکستان نے کشیدگی میں کمی کے لیے مخلصانہ کردار ادا کیا۔

ایران نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا، کشیدگی میں اضافے سے خطے کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے ۔ ایران خطے میں کسی نئی کشیدگی کا خواہاں نہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے ، امریکا کے مطالبات قابل قبول نہیں۔ایرانی سفیر نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کے دعوئوں کو زمینی حقائق کے برعکس قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات سے متعلق امریکی بیانات کو اندرونی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے ، امریکا عالمی برادری کے سامنے مذاکرات کا تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے ، ایران نے واضح کیا کہ ایسے دعوے زمینی حقائق کے برعکس ہیں۔ایرانی سفیر نے کہا کہ 8 جنوری کو اچانک پرتشدد واقعات سامنے آئے ، پُرامن احتجاج کے دوران پولیس کی موجودگی حفاظتی اقدام کے طور پر تھی، سکیورٹی فورسز کو مظاہرین کے تحفظ کی ہدایت تھی۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کے چند شہروں میں منظم ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کی گئی، پُرتشدد عناصر کی تعداد محدود تھی، مگر نقصان شدید ہوا۔ غیر ملکی میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز کے ذریعے اشتعال انگیزی کی گئی۔

13 جنوری کو امریکی صدر کی جانب سے سوشل میڈیا پر بیان سامنے آیا جس بیان میں سرکاری اداروں پر قبضے کی کھلی ترغیب دی گئی۔ تشدد کے نتیجے میں ایران میں شہری ہلاکتیں ہوئیں، ان واقعات میں کئی افراد زخمی ہوئے ، متعدد گرفتار کیے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں دہشتگرد گروہوں کے روابط سامنے آئے ، ملوث عناصر کا تعلق منافقین اور دیگر مسلح گروہوں سے ثابت ہوا، گرفتار افراد نے بیرونی ہدایات ملنے کا اعتراف کیا۔ ایران کو ماضی میں دہشتگردی کا سامنا رہا مگر حالیہ جرائم غیر معمولی تھے ۔ مزید برآں ترجمان دفترخارجہ طاہرحسین اندرابی نے کہا پاکستان غزہ بورڈ آف پیس میں خلوص نیت سے شامل ہوا، پاکستان سمیت 7 دیگراہم مسلم ممالک نے بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیارکی،بورڈ آف پیس کے ذریعے پاکستان فلسطین میں امن کاخواہاں ،پاکستان غزہ کی تعمیر نو اوربہتری کے لئے بورڈ آف پیس کا حصہ بنا،بورڈ آف پیس سے متعلق ابراہام معاہدے کے الزامات بے بنیاد ہیں،بورڈ آف پیس کو ابراہام معاہدے سے جوڑنا غلط فہمی ہے ، پاکستان ابراہام معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا اور نہ ہی عالمی استحکام فورس میں شمولیت اختیار کرے گا ۔

ترجمان دفترخارجہ نے کہابورڈ آف پیس کے فریم ورک پرعملدرآمد کے لئے پاکستان پُرامید ہے ،پاکستان 1967کی سرحدوں کے مطابق آزادفلسطینی ریاست کاحامی ہے ، آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت القدس الشریف ہونا چا ہئے ۔ترجمان نے کہادہشتگردی کے حالیہ واقعات میں ملوث دہشتگردافغان شہری ہیں،افغانستان سے آنے والی دہشت گردی کا سلسلہ بند ہونا چاہیے ،طالبان حکومت کے دعوؤں کے برعکس،افغان شہری پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہیں،پاکستان کے پاس قابل اعتماد شواہد موجود ہیں۔ترجمان نے مزیدکہا افغان سرزمین کوپاکستان کے خلاف دہشت گردحملوں کی منصوبہ بندی کیلئے استعمال کیاجارہا ہے ،یہ صورتحال پاکستان کی سلامتی اوراستحکام کے لئے تشویش کا باعث ہے ، ان تمام مشکلات کے باوجود سفارتی روابط برقرار ہیں۔ڈی آئی خان حملے میں افغان حملہ آورکی شمولیت ایک پیٹرن ہے ،اصل میں افغان شہری پاکستان میں دہشتگردی کر رہے ہیں،ڈی آئی خان حملے کا معاملہ دوطرفہ اور دیگر پلیٹ فارمز پر اٹھایا گیا ہے ۔

دبئی (رائٹرز ، اے ایف پی )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جن میں سکیورٹی فورسز اور اعلیٰ کمانڈرز پر محدود حملے بھی شامل ہیں، تاکہ مظاہرین کو یہ اعتماد دیا جا سکے کہ وہ حکومتی اور سکیورٹی عمارتوں پر قابو پا سکتے ہیں، تاہم اسرائیلی اور عرب حکام کا کہنا ہے کہ صرف فضائی طاقت کے ذریعے ایران کی مذہبی قیادت کو اقتدار سے ہٹانا ممکن نہیں ہوگا۔امریکی حکام سے واقف دو ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ اس ماہ کے آغاز میں ملک گیر احتجاجی تحریک کو کچلنے کے بعدجس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے -ایسے حالات پیدا کرنے کے خواہاں ہیں جو حکومت کی تبدیلی کی راہ ہموار کر سکیں۔ذرائع کے مطابق اس مقصد کے لیے واشنگٹن اُن کمانڈرز اور اداروں کو نشانہ بنانے کے امکانات پر غور کر رہا ہے جنہیں تشدد کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے ، تاکہ عوامی احتجاج کو تقویت ملے ۔

تاہم ایک ذریعے اور ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے تاحال کسی حتمی لائحہ عمل پر فیصلہ نہیں کیا، بشمول یہ کہ آیا فوجی راستہ اختیار کیا جائے یا نہیں۔دوسرے امریکی ذریعے کے مطابق زیرِ غور آپشنز میں ایک بڑے پیمانے کی کارروائی بھی شامل ہے ، جس کا مقصد دیرپا اثر ڈالنا ہو سکتا ہے۔ ممکنہ اہداف میں وہ بیلسٹک میزائل شامل ہیں جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کے اتحادیوں تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، یا ایران کا جوہری افزودگی کا پروگرام۔ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ ایران فوجی تصادم کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے ، جبکہ ساتھ ہی سفارتی ذرائع سے بھی کام لے رہا ہے ۔تاہم ایرانی عہدیدار کے مطابق واشنگٹن اس وقت سفارتکاری کے لیے آمادگی کا مظاہرہ نہیں کر رہا۔

دوسری جانب ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ حکومت کی موجودہ کمزوری صدر ٹرمپ کو دباؤ بڑھانے پر آمادہ کر رہی ہے ، تاکہ ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے (ڈی نیوکلیئرائزیشن) سے متعلق کسی معاہدے کی کوشش کی جا سکے ۔ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار، جو اسرائیل اور امریکا کے درمیان منصوبہ بندی سے براہِ راست واقف ہے ، نے رائٹرز کو بتایا کہ اگر واشنگٹن کا مقصد ایران کی اسلامی حکومت کو ختم کرنا ہے تو صرف فضائی حملے کافی نہیں ہیں۔ عہدیداروں کے مطابق، 86 سالہ آیت اللہ علی خامنہ ای نے روزمرہ حکومتی امور سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا ہے ، عوامی ملاقاتیں کم کر دی ہیں اور گزشتہ سال اسرائیلی حملوں کے بعد وہ مبینہ طور پر محفوظ ٹھکانے پر رہائش پذیر ہیں۔روزمرہ انتظامی امور اب اسلامی انقلابی گارڈز کور سے وابستہ شخصیات کے ہاتھ میں ہیں، جن میں سینئر مشیر علی لاریجانی بھی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں یورپی یونین نے ایرانی انقلاب اسلامی گارڈز (پاسداران انقلاب )کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں